‘بھاگ بھری‘ کا ساون آئے، ساون جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے اردو والے بڑی ریاضت کے بعد جن تین الفاظ کی معنویت ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہوچکے ہیں وہ ‘نامور‘، ‘معروف‘ اور ‘عظیم‘ ہیں۔ میں کسی بھی ایسے شخص یا اس کے کارہائے نمایاں کو ہاتھ ڈالنے میں احتیاط لازم سمجھتا ہوں جس کے معاصرین اس کے نام کے ساتھ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی لفظ استعمال کریں۔ ان الفاظ کو بے توقیرکرنے میں نمایاں حصہ ان شعرا کا ہے جن کے خیال میں اردو شاعری کو خود ان کا شرمندہ احسان ہونا چاہیے۔ ایسے شعرا کے انتظامی عہدوں، تمولیت اور غیر ملکیت میں سے کوئی ایک چیز بھی اہلیانِ حلقہ پر ان کی دھاک بٹھانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یقین جانیے کسی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں یاکسی کے اعزاز میں منعقدہ شام یا صبح میں یہ سننا کہ حاضرینِ محفل! اِس وقت ہمارے درمیان اردو دنیا کی معروف،ناموراورعظیم ادبی شخصیت براجمان ہیں اب تو معمول کی بات لگتی ہے۔ اسی طرح تاثراتی تنقید لکھنے والوں نے بھی ان الفاظ کے وقار کو خاصا مجروح کیا ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر گذشتہ دس پندرہ برس کی سوشل میڈیائی شاعری، دانشوری اور مبصری نے ان تینوں الفاظ کی مٹی پلید کی ہے۔ سائبر دنیا میں اردو کا ہر شاعر اور تخلیق کار کم از کم ‘معروف‘ تو ضرور ہے۔ آپ ہی بتائیے کہ ناموروں اور عظیموں کے ساتھ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ میرے جیسا آدمی بھی ایک معمولی سی فیس بکی پوسٹ پر یا کسی بے ڈھنگی تصویر پر سمسٹر سسٹم کے رگڑے ہوئے طلبا و طالبات کے چند کمنٹس آنے کے بعد خود کو واقعتا ‘عظیم‘ سمجھنا شروع ہو جائے۔ لیکن کیا کیجیے کہ یہ بات اپنے بس سے باہر ہے۔

آئیے ایک ایسے آدمی سے ملتے ہیں جو بالکل بھی نامور، معروف یا عظیم نہیں ہے۔ صفدر زیدی ہالینڈ میں مقیم ہے۔ وہ شہر شہر گھومتا ہے۔ خود یورپ کے بیچز پر نہاتا ہے اور ہم وطنوں کو تصویریں دکھا کر ترساتا ہے۔ وہ سی فوڈز کا بہت شوقین ہے اور فیس بک پر اپنی کسی دوست کی گمشدہ بلی واپس ملنے کی خبر پر ایسے خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ جیسے دنیا کا سب سے انمول خزانہ مل گیا ہو۔ وہ اپنی غیر ملکی شہریت کے باوجود معروف، نامور اور عظیم غالباً اس لیے نہیں ہو پایا کہ ابھی تک کسی جہاں گرد پاکستانی میزبان کے ہتھے نہیں چڑھا۔ رواں سال صفدر زیدی کا دوسرا ناول ‘بھاگ بھری‘ عکس پبلی کیشنز لاہور سے چھپ کر منظرِ عام پر آیا ہے۔ وہ اس سے پہلے ‘چینی جو میٹھی نہ تھی ‘ کے عنوان سے بھی ایک ناول لکھ چکا ہے۔

 ‘بھاگ بھری‘ کے حوالے سے ہمارے اس تقریباً غیر سنجیدہ تبصرے کا پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ صفدر زیدی کے علاقے کا یورو (Euro) آج کی تاریخ میں ہمارے پاکستانی ایک سو بیالیس روپوں کے برابر ہے۔ عکس پبلی کیشنز لاہور والوں نے اگر ان کے یوروز کی طرف دیکھے بغیر ہی یہ ناول چھاپ دیا ہے تو یقیناً چھاپنے کا ہی وعدہ کیا ہوگا، اِس کی پروف ریڈنگ کرنے یا کروانے کا نہیں۔ صفدر زیدی صاحب کچھ پاکستانی روپوں میں ہی سہی اگر ان بھلے لوگوں کو پروف ریڈنگ کروانے کی مد میں بھی دے دیتے تو اس ناول کے مجموعی تاثر کو بڑھاوا ملتا۔ بے شک یہ تصنیف کی نہیں بلکہ کتاب کی خامی ہے اور اس کا ناول میں پیش کردہ فکر اور اس کے فن سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود ناول پڑھتے ہوئے یہ سوال رِہ رِہ کرمیرے ذہن میں ابھرتاکہ آخر یہ خامی رِہ کیوں گئی؟ اگر تخلیق واقعتا کسی تخلیق کار کے کرب کا نوحہ ہوتی ہے تو اسے نشر کرنے سے پہلے نوحہ خواں سے ایک بارسن ضرور لینا چاہیے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ‘بھاگ بھری‘ کے خالق کو برسوں انتظار کے بعد ناشر کے ملنے اور ناشر کوبھی بکنے والے موضوع پرایسا ناول ملنے کا یقین نہ آرہا ہو اور اس دوطرفہ بے یقینی کے عالم میں ‘بھاگ بھری‘ منظرِ عام پر آگیا۔

دوسری کمزوری اس کہانی میں یہ ہے کہ جب جب یہ کہانی ناول بننے لگتی ہے تب تب اس کے مصنف ایک قسط بڑھانے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔ کردار تخلیق کرنے پر ناول نگار کوجس قدر گرفت حاصل ہے اسے لاوارث چھوڑنے کی بھی اتنی ہی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پرایک کردار کرنل ولید ہے جو بظاہرغزوہ ہند پر یقینِ محکم رہتا ہے اور مرکزی کرداروں میں سے ایک قاری سفیان کو اپنا امیر بھی مانتا ہے، پھر وہ میجر جنرل کے عہدے پر پہنچ کر پاکستانی نیوکلیئر ہتھیاروں کا نگران مقرر ہوتا ہے اور وقت آنے پر اپنے اردگرد موجود سب لوگوں کوگولی مار کردِلّی پر ایٹمی میزائل داغ دیتا ہے اورفوراً منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ یوں ناول نگار نہ صرف اسے مبینہ غزوہ ہند میں شہادت سے محروم کر دیتے ہیں بلکہ ایسے غائب کر دیتے ہیں کہ جیسے وہ کوئی میجرجنرل نہ ہوا بلکہ نیب کی فائل دکھا کر ڈرایا ہوا پاکستانی سیاستدان ہوا۔

اِسی طرح اس ناول کا ایک اورکردار ارون ہے۔ نجانے بیچارا کس حال میں ہوگا!

‘کون ارون۔۔۔؟ ‘

‘ارے بھئی نیتا جی کا خاص کارکن۔۔۔ ‘

‘نیتا جی کون۔۔۔؟ ‘

‘۔۔۔ یار وہی نیتا مکر جی۔۔۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر۔۔۔ جو ہندو تاریخی عمارتوں کے احیا کی تحریک چلا رہے تھے اور کہتے تھے کہ تاج محل دراصل آگرہ کے تیجو محلے میں شِو جی کے پہلے مندر کو ڈھا کر اس کی جگہ تعمیر کیا گیا تھا۔۔۔ اسی تحریک کے بل بوتے پر تو ہندو بنیاد پرستانہ سیاست کرتے ہوئے وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے تک پہنچے تھے۔ ‘

‘بنارس۔۔۔ آگرہ۔۔۔ لوک سبھا۔۔۔ مطلب یہ سرحد کے اس پار کا کردار ہے۔۔۔؟ یار۔۔۔ ! یہ بھارت میں کیوں جا گھسے ہو ! یہ کہانی تو پاکستان میں پیدا ہونے والے بھاگ بھری کے بیٹے ساون کی ہے نا جسے کسی تبصرہ نگار نے پچھلے دنوں ‘بھاگ بھری دا بالکا‘ بھی لکھا تھا؟ ‘

‘۔۔۔ جی ہاں ! وہی ہے۔۔۔ ‘مارگلہ ٹائمز ‘ اسلام آباد کی تبصرہ نگار نے وہ عنوان محمود اعوان کے اِس خوبصورت شعر سے تراشا تھا کہ:

میں سڑکیں کھڑیا موتیا، میں کنکھیں ستی بھکھ

میں بھاگ بھری دا بالکا، میرے دھیاں ورگے دکھ ‘

‘یار ایک لمحے کے لیے رکو۔۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ اس ناول کی بھاگ بھری کا بیٹا ساون بالکا کیسے ہو سکتا ہے، اسی نے تو ہندوستان کے یومِ جمہوریہ پر بم دھماکے کرکے اس پورے خطے کو جنگ میں دھکیلا۔ تباہی و بربادی کی نیو رکھی تھی۔۔۔ وہ تو جلاد ہوا نا۔۔۔ بلکہ کوئی اور لفظ بتاؤ جس سے سفاکی کا آخری درجہ ظاہر ہو؟ ‘

‘نہ بھائی۔۔۔ جلاد وہ نہیں۔۔۔ جلاد اصل میں وہ ہے جو اس سے یہ سب کرواتا ہے۔۔۔ بلکہ وہ بھی نہیں۔۔۔ شاید کوئی بھی نہیں۔۔۔ یہ تو ایک فکر ہے اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والانشہ ہے۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ کہ جو نشہ اس دنیا کا ہی نہ ہو وہ اِس دنیا کی کسی چیز سے کیسے اتر سکتا ہے؟ ‘

آپ سمجھ تو گئے ہیں کہ مندرجہ بالا مکالمہ میرا اور میرے ہم زاد کا ہے۔ وہ مجھے بھی کھینچ کر وہاں لے آیا ہے جہاں وہ خود آنا چاہتا ہے یعنی ناول کا موضوع۔ وہ چاہتا ہے کہ میں آپ کو جلدی سے یہ بتا دوں کہ یہ ناول اس خطے میں مذہبی انتہا پسندی، اس کے آغاز اور بالآخر بھیانک انجام کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے لیکن میں تو ابھی ناول کی فنی کمزوریوں پر رہنا چاہتا ہوں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[[email protected]]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish