غالب کے ایک شعر کی تفہیم فلسفۂ ہند و یونان کے کے تناظر میں

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے (غالب) غالب کا یہ شعر میں نے پہلی بار نہم جماعت میں پڑھا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک میں اس شعر کے سحر سے باہر نہیں نکل سکا۔ آج سے پانچ سال پہلے جب اس شعر کو پڑھا تو بہت لطف ملا اور شعر یاد بھی ہو گیا مگراس شعر میں چھپی بات سمجھ میں نہ آ سکی تھی۔ میں اکثر یہ شعر

Read more