غالب کے ایک شعر کی تفہیم فلسفۂ ہند و یونان کے کے تناظر میں
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے
(غالب)
غالب کا یہ شعر میں نے پہلی بار نہم جماعت میں پڑھا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک میں اس شعر کے سحر سے باہر نہیں نکل سکا۔ آج سے پانچ سال پہلے جب اس شعر کو پڑھا تو بہت لطف ملا اور شعر یاد بھی ہو گیا مگراس شعر میں چھپی بات سمجھ میں نہ آ سکی تھی۔ میں اکثر یہ شعر اپنے پسندیدہ شعر کے طور پر سنایا کرتا تھا، لیکن ایک طویل عرصے تک اس کے معنی و مفہوم سے نا آشنا رہا۔ وقت گزر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی پاس ہو گیا۔
انہیں دنوں مجھے فلسفہ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اپنی زندگی میں فلسفے کی پہلی کتاب ”History of Western Philosophy“ خریدی۔ اس کتاب کا پہلا حصہ یونان کے فلسفے پر مشتمل تھا۔ یونان کا فلسفہ دنیا کی تاریخ کے اہم ترین فلسفوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے دنیا کے تقریباً تمام فلسفوں پر اپنا گہرا اثر چھوڑا۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جدید فلسفہ کی بنیاد یونان کا فلسفہ ہی ہے۔ حتیٰ کہ مسلم فلسفے کا ایک بڑا اور اہم حصہ بھی یونان کے فلسفے پر مشتمل ہے۔
یونان کا فلسفہ اگرچہ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے ہاتھوں پروان چڑھا لیکن ان تینوں سے پہلے بھی کئی اہم فلسفی گزرے ہیں جن کے بغیر یونان کا فلسفہ شاید ادھورا ہے۔ ان فلسفیوں میں طالیس، انگزمنڈر، ہیراکلائٹس ، پارمینیڈیز ، زینو، فیثا غورث، ڈیموکریٹس وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔
آغاز میں یہ موضوع زیر ِ بحث آیا کہ کائنات ایک ہی عنصر سے مل کر بنی ہے یا ایک ایسا عنصر ہے ہر شے میں موجود ہے۔ کسی نے کہا وہ عنصر پانی ہے، کسی نے کہا ہوا اور کسی نے کہا کہ آگ۔ دوسرا موضوع کائنات کے تغیر اور ثبات کے حوالے سے زیر ِ بحث آیا اور یہ سوال اٹھا کہ کیا تغیر کائنات کی اصل ہے یا ثبات؟ اس حوالے سے کئی نقطہ نظر سامنے آئے جن میں دو اہم تھے۔
ایک نقطہ نظر ہیراکلائیٹس کا تھا جس کے مطابق تغیر ایک حقیقت ہے اور کائنات کی ہر چیز مسلسل تغیر کا کے عمل سے گزر رہی ہے اور ثبات صرف ایک دھوکا ہے۔ ہیراکلائٹس کا ایک مشہور قول ہے :
”Everything is in the state of flux“ (1)
اسی بات کو علامہ محمد اقبال یوں بیان کرتے ہیں :
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
ہیراکلائیٹس نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ چونکہ کائنات کی ہر چیز ہر مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور ہر ایک لمحے کی بعد کوئی نئی چیز وجود میں آجاتی ہے اسی لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کائنات میں کسی چیز کا وجود نہیں اور کائنات صرف ایک دھوکا اور فریب ہے کیونکہ کوئی چیز دوسرے لمحے اپنی اصل حالت پر قائم نہیں ر ہتی۔ اس دھوکے کو ہمارے حواسِ خمسہ ہمیں حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے حواسِ خمسہ کا بھی انکار کیا۔
تغیر کے حوالے سے دوسرا عقیدہ ایلیائی مذہب کا تھا۔ ایلیائی مذہب کے نمائندہ فلسفیوں میں پارمینیڈیز اور زینو شامل ہیں۔ پارمینیڈیز کا نقطہ نظر ہیراکلائیٹس کے نقطہ نظر سے بالکل مختلف تھا۔ اس کے نزدیک تغیر اور تبدیلی کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ ہندوستان کے ویدانت فلسفے میں بھی یہی بات کی گئی ہے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ تغیر جیسی کوئی چیز کائنات میں موجود نہیں۔ اصل میں ثبات یعنی ٹھہراؤ ہی کائنات اور زندگی کی اصل ہیں۔ برٹرینڈ رسل لکھتے ہیں :
”Heraclitus maintained that everything changes;Parmenides retorted that nothing changes ”(2)
پارمینیڈیز کو اگر ہم وحدت الوجودی کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ اس کے نزدیک کائنات خدا کا ہی روپ ہے۔ چونکہ خدا تغیر کے عمل سے پاک ہی اور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس لیے کائنات میں بھی تغیر کا کوئی وجود نہیں اور کائنات کا نہ کوئی انت ہے نہ کوئی شروعات۔ پارمینیڈیز نے یہ بھی کہا کہ کثرت کا کوئی وجود نہیں اور کائنات کی اصل وحدت ہی ہے۔
پارمینیڈیز نے اپنی بات سے وہی نتیجہ نکالا جو ہیراکلائیٹس نے نکالا تھا یعنی کہ یہ کائنات اور زندگی صرف ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ اس نے کہا کہ چونکہ ہمارے حواسِ خمسہ ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ کائنات اور زندگی تغیر اور تبدیلی سے گزر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس لیے یہ کائنات بھی ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ پارمینیڈیز نے بھی ہیراکلائیٹس کی طرح حواسِ خمسہ کا انکار کیا۔ زینو نے پارمینیڈیز کے نقطہ نظر کو مثالوں اور منطق کے ذریعے بیان کیا۔
افلاطون نے بھی پارمینیڈیز اور ہیراکلائیٹس کی طرح اس زندگی اور دنیا کو ایک فریب قرار دیا۔ اس نے دو جہانوں کا تصور پیش کیا جو اس نے غالباً فیثا غورثیوں سے لیا۔ افلاطون نے ایک دنیا کو حقیقی دنیا قرار دیا جس کو اس نے تخیلاتی دنیا (World of Forms) کا نام دیا۔ جبکہ یہ دنیا جو ہم گزار رہے ہیں وہ فریب ہے۔ اس کے نزدیک موجودہ دنیا تغیر کا شکار ہے جبکہ دوسری دنیا میں تغیر کا کوئی وجود نہیں۔ مختلف نظریات اور دلائل کے باوجود یونان کا تقریباً ہر فلسفی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کائنات، زندگی یا ہستی صرف ایک فریب اور دھوکہ ہے۔
تغیر، ثبات اور فریب کے تصورات صرف یونان کے فلسفہ میں ہی نہیں ملتے بلکہ ہندوستان کے فلسفے میں بھی موجود ہیں۔ کئی مصنفین کا یہ کہنا ہے کہ یونان سے بھی قبل ہندوستان میں یہ عقائد اور تصورات موجود تھے۔ بدھ ازم کے مطابق کائنات مسلسل تغیر کا شکار ہے اور کسی بھی چیز کا ایک حالت پر قائم رہنا ناممکن ہے۔ بدھ ازم کے یہ تصورات ہوبہو ہیراکلائیٹس کے نظریہ ء تغیر سے ملتے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف ویدانت کا فلسفہ پارمینیڈیز کے نظریات سے اتفاق رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک بھی تغیر کی کوئی حقیقت نہیں۔ ویدانت فلسفے کا ایک فلسفی شنکر اچاریہ ہوبہو پارمینیڈیز جیسا نظریہ رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک بھی وحدت کائنات کی اصل ہے کیونکہ خدا بھی واحد ہے۔ پارمینیڈیز کی طرح وہ بھی وحدت الوجود کا قائل ہے۔ شنکر اچاریہ کے مطابق:
”جو کچھ ہم اپنے حواس سے محسوس کرتے ہیں وہ موہوم اور خیال ہے ( 3 )“
” کائنات ایک مایا (فریب) ہے۔ ہمیں وحدت میں جو کثرت نظر آتی ہے
یہ ہماری جہالت کا حجاب ہے ( 4 ) ”
یونان اور ہندوستان کا فلسفہ پڑھنے کے بعد جب یہ شعر دوبارہ غور سے پڑھا اور اس مفہوم سمجھا تو میں حیران تھا کہ غالب اپنے اس شعر میں فلسفۂ یونان اور فلسفۂ ہند کا ایک بڑا موضوع بیان کر رہا ہے یہ بات شاید میرے لیے نئی اور بہت حیران کن تھی
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے
یعنی غالب کے نزدیک بھی کائنات، ہستی اور زندگی ایک دھوکا اور خیال ہے جو ہمیں حقیقت دکھائی دیتا ہے۔ غالب اپنی شاعری میں اکثر مقامات پر یہ بات کہتے نظر آتے ہیں۔ اس شعر کے علاوہ غالب کے دو اور اشعار دیکھیے :
ہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!
ہر چند کہیں کہ ”ہے“ ، نہیں ہے
ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالب
آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
جس حیرت سے غالب کا یہ شعر مجھ پر منکشف ہوا اور یا جس غیر سرسری انداز میں اس کے اثرات میرے دل پر مرتب ہوئے، ممکن ہے کہ عظیم نفسیات دان سگمنڈ فرائڈ کو بھی ہوبہو ایسی ہی کسی حیرانی کا سامنا ہوا ہو، اس کے یہ الفاظ دیکھیے :
”Everywhere I go I find that a poet has been there before me ” (5)
غالب کا یہ شعر ہندوستان اور یونان کے تغیر، ثبات اور فریب کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ جس طرح ہندو یونان کا فلسفہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کائنات ایک فریب اور دھوکہ ہے چاہے اس کی اصل تغیر ہو یا ثبات، ہوبہو اسی طرح غالب کا یہ شعر کائنات کو فریب اور خیال کے طور پر پیش کرتا ہے۔
حوالہ جات:
History of Western Philosophy by Bertrand russel,P.48 (1)
History of Western Philosophy by Bertrand russel,P.55 (2)
( 3 ) فلسفۂ ہند و یونان، شفیق عہدی پوری، ص 55
( 4 ) فلسفۂ ہند و یونان، شفیق عہدی پوری، ص 55
In the favour of Sensative Man and other Essays by Anais Nin,P.14 (5)


