نام دیو مالی: مولوی عبد الحق

نام دیو مقبرہ رابعہ درانی اورنگ آباد (دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ ذات کا ڈھیڑ جوبہت نیچ قوم خیال کی جاتی ہے۔ قوموں کا امتیاز مصنوعی ہے اور رفتہ رفتہ نسلی ہوگیا ہے۔ سچائی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں۔ یہ خوبیاں نیچی ذات والوں میں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی اونچی ذات والوں میں۔

قیس ہو کوہکن ہو یا حالی
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

مقبرے کا باغ میری نگرانی میں تھا۔ میرے رہنے کا مکان بھی باغ کے احاطے ہی میں تھا۔ میں نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام نام دیو کے سپرد کیا۔ میں اندر کمرے میں کام کرتا رہتا تھا۔ میری میز کے سامنے بڑی سی کھڑکی تھی۔ اس میں سے چمن صاف نظر آتا تھا۔ لکھتے لکھتے کبھی نظر اٹھا کر دیکھا تو نام دیو کو ہمہ تن اپنے کام میں مصروف پاتا۔ بعض دفعہ اس کی حرکتیں دیکھ کر بہت تعجب ہوتا۔ مثلاً کیا دیکھتا ہوں کہ نام دیو ایک پودے کے سامنے بیٹھا اس کا تھانولا صاف کر رہا ہے۔

Read more