نام دیو مالی: مولوی عبد الحق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام دیو مقبرہ رابعہ درانی اورنگ آباد (دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ ذات کا ڈھیڑ جوبہت نیچ قوم خیال کی جاتی ہے۔ قوموں کا امتیاز مصنوعی ہے اور رفتہ رفتہ نسلی ہوگیا ہے۔ سچائی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں۔ یہ خوبیاں نیچی ذات والوں میں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی اونچی ذات والوں میں۔

قیس ہو کوہکن ہو یا حالی
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

مقبرے کا باغ میری نگرانی میں تھا۔ میرے رہنے کا مکان بھی باغ کے احاطے ہی میں تھا۔ میں نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام نام دیو کے سپرد کیا۔ میں اندر کمرے میں کام کرتا رہتا تھا۔ میری میز کے سامنے بڑی سی کھڑکی تھی۔ اس میں سے چمن صاف نظر آتا تھا۔ لکھتے لکھتے کبھی نظر اٹھا کر دیکھا تو نام دیو کو ہمہ تن اپنے کام میں مصروف پاتا۔ بعض دفعہ اس کی حرکتیں دیکھ کر بہت تعجب ہوتا۔ مثلاً کیا دیکھتا ہوں کہ نام دیو ایک پودے کے سامنے بیٹھا اس کا تھانولا صاف کر رہا ہے۔

تھانولا صاف کرکے حوض سے پانی لیا اور آہستہ آہستہ ڈالنا شروع کیا۔ پانی ڈال کر ڈول درست کی اور ہر رُخ سے پودے کو مڑ مڑ کر دیکھتا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر اسے دیکھنے لگا۔ دیکھتا جاتا تھا اور مسکراتا اور خوش ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ کام اسی وقت ہوتا ہے جب اس میں لذت آنے لگے۔ بے مزہ کام، کام نہیں بیگار ہے۔

اب مجھے اس سے دلچسپی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ بعض وقت اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھا کرتا۔ مگر اسے خبر نہ ہوتی کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا اس کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتا۔ اس کے کوئی اولاد نہ تھی وہ اپنے پودوں اور پیڑوں ہی کو اپنی اولاد سمجھتا تھا اور اولاد کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا۔ ان کو سبز اور شاداب دیکھ کر ایسا ہی خوش ہوتا جیسے ماں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک پودے کے پاس بیٹھتا، ان کو پیار کرتا، جھک جھک کے دیکھتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہا ہے۔

جیسے جیسے وہ بڑھتے، پھولتے پھلتے اس کا دل بھی بڑھتا اور پھولتا پھلتا تھا، ان کو توانا اور ٹانٹا دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ کبھی کسی پودے میں اتفاق سے کیڑا لگ جاتا یا کوئی اور روگ پیدا ہوجاتا تو اسے بڑا فکر ہوتا۔ بازار سے دوائیں لاتا۔ باغ کے داروغہ یا مجھ سے کہہ کر منگاتا۔ دن بھر اسی میں لگا رہتا۔ اور اس پودے کے ایسی سیوا کرتا جیسے کوئی ہمدرد اور نیک دل ڈاکٹر اپنے عزیز بیمار کی کرتا ہے۔ ہزار جتن کرتا اور اسے بچالیتا اور جب تک وہ تندرست نہ ہوجاتا اسے چین نہ آتا۔ اس کے لگائے ہوئے پودے ہمیشہ پروان چڑھے اور کبھی کوئی پیڑ ضائع نہ ہوا۔

باغوں میں رہتے رہتے اسے جڑی بوٹیوں کی بھی شناخت ہوگئی تھی۔ خاص کر بچوں کے علاج میں اسے بڑی مہارت تھی۔ دور دور سے لوگ اس کے پاس بچوں کے علاج کے لیے آتے تھے۔ وہ اپنے باغ ہی میں سے جڑی بوٹیاں لاکر بڑی شفقت اور غور سے ان کا علاج کرتا۔ کبھی کبھی دوسرے گاؤں والے بھی اسے علاج کے لیے بلالے جاتے۔ بلاتامل چلا جاتا۔ مفت علاج کرتا اور کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتا تھا۔

وہ خود بھی بہت صاف ستھرا رہتا تھا اور ایسا ہی اپنے چمن کو بھی رکھتا۔ اس قدر پاک صاف جیسے رسوئی کا چوکا۔ کیا مجال جو کہیں گھاس پھوس یا کنکر پتھر پڑا رہے۔ روشیں باقاعدہ، تھانولے درست، سینچائی اور شاخوں کی کاٹ جھانٹ وقت پر، جھاڑنابہارنا صبح شام روزآنہ۔ غرض سارے چمن کو آئینہ بنا رکھا تھا۔

باغ کے داروغہ (عبدالرحیم فنیسی) خود بھی بڑے کارگزار اور مستعد شخص ہیں اور دوسرے سے بھی کھینچ تان کر کام لیتے ہیں۔ اکثر مالیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنی پڑتی ہے۔ ورنہ ذرا بھی نگرانی میں ڈھیل ہوئی، ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے۔ یا بیڑی پینے لگے۔ یا سائے میں جالیٹے۔ عام طور پر انسان فطرتاً کاہل اور کام چور واقع ہوا ہے۔ آرام طلبی ہم میں کچھ موروثی ہوگئی ہے۔ لیکن نام دیو کو کبھی کچھ کہنے سننے کی نوبت نہ آئی۔ ”دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے کام میں لگا رہتا۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔

ایک سال بارش بہت کم ہوئی۔ کنوؤں اور باولیوں میں پانی برائے نام رہ گیا۔ باغ پر آفت ٹوٹ پڑی۔ بہت سے پودے اور پیڑ تلف ہوگئے۔ جو بچ رہے وہ ایسے نڈھال اور مرجھائے ہوئے تھے جیسے دق کے بیمار، لیکن نام دیو کا چمن ہرا بھرا تھا۔ اور وہ دور دور سے ایک ایک گھڑا پانی کا سر پر اٹھاکے لاتا اور پودوں کو سینچتا۔ یہ وہ وقت تھا کہ قحط نے لوگوں کے اوسان خطا کر رکھے تھے اور انھیں پینے کو پانی مشکل سے میسر آتا تھا۔ مگر یہ خدا کا بندہ کہیں نہ کہیں سے لے ہی آتا۔ اور اپنے پودوں کی پیاس بجھاتا۔ جب پانی کی قلت اور بڑھی تو اس نے راتوں کو بھی پانی ڈھو ڈھو کے لانا شروع کیا۔ پانی کیا تھا یوں سمجھیے کہ آدھا پانی اور آدھی کیچڑ ہوتی تھی۔ لیکن یہی گدلا پانی پودوں کے حق میں آب حیات تھا۔

میں نے اس بے مثل کارگزاری پر اسے انعام دینا چاہا تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔ شاید اس کا کہنا ٹھیک تھا کہ اپنے بچوں کو پالنے پوسنے میں کوئی انعام کا مستحق نہیں ہوتا۔ کیسی ہی تنگی ترشی ہو تو وہ ہرحال میں کرنا ہی پڑتا ہے۔

جب اعلیٰ حضرت حضور نظام کو اورنگ آباد کی خوش آب و ہوا میں باغ لگانے کا خیال ہوا تو یہ کام ڈاکٹر سیّد سراج الحسن (نواب سراج یار جنگ بہادر) ناظم تعلیمات کے تفویض ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کا ذوقِ باغبانی مشہور تھا۔ مقبرہ رابعہ دورانی اور اس کا باغ جو اپنی ترتیب و تعمیر کے اعتبار سے مغلیہ باغ کا بہترین نمونہ ہے مدت سے ویران اور سنسان پڑا تھا۔ وحشی جانوروں کا مسکن تھا اور جھاڑ جھنکار سے پٹا پڑا تھا۔ آج ڈاکٹر صاحب کی بدولت سرسبز شاداب اور آباد نظر آتا ہے۔

اب دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے اور سیر و تفریح سے محفوظ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو آدمی پرکھنے میں بھی کمال تھا وہ نام دیو کے بڑے قدردان تھے، اسے مقبرے سے شاہی باغ میں لے گئے۔ شاہی باغ آخر شاہی باغ تھا۔ کئی کئی نگراں کار اور بیسیوں مالی اور مالی بھی کیسے، ٹوکیو سے جاپانی، تہران سے ایرانی اور شام سے شامی آئے تھے۔ ان کے بڑے ٹھاٹ تھے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی اوپج تھی۔ وہ شاہی باغ کو حقیقت میں شاہی باغ بنانا چاہتے تھے۔

یہاں بھی نام دیو کا وہی رنگ تھا۔ اس نے نہ فنِ باغبانی کی کہیں تعلیم پائی تھی اور نہ اس کے پاس کوئی سند یا ڈپلوما تھا۔ البتہ کام کی دھن تھی۔ کام سے سچا لگاؤ تھا۔ اور اسی میں اس کی جیت تھی۔ شاہی باغ میں بھی اس کا کام مہا کاج رہا۔ دوسرے مالی لڑتے جھگڑتے، سندھی شراب پیتے، یہ نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا نہ سندھی شراب پیتا۔ یہاں تک کہ کبھی بیڑی بھی نہ پی۔ بس یہ تھا اور اس کا کام۔

ایک دن نہ معلوم کیا بات ہوئی کہ شہد کی مکھیوں کی یورش ہوئی۔ سب مالی بھاگ بھاگ کر چھپ گئے۔ نام دیو کو خبر بھی نہ ہوئی کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ برابر اپنے کام میں لگا رہا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ قضا اس کے سر پر کھیل رہی ہے۔ مکھیوں کا غضبناک جھلڑ اس غریب پر ٹوٹ پڑا۔ اتنا کاٹا اتنا کاٹا کہ بے دم ہوگیا۔ آخر اسی میں جان دے دی۔ میں کہتا ہوں کہ اسے شہادت نصیب ہوئی۔

وہ بہت سادہ مزاج بھولا بھالا اور منکسر مزاج تھا۔ اس کے چہرے پر بشاشت اور لبوں پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔ چھوٹے بڑے ہر ایک سے جھک کر ملتا۔ غریب تھا اور تنخواہ بھی کم تھی اس پر بھی اپنے غریب بھائیوں کی بساط سے بڑھ کر مدد کرتا رہتا تھا۔ کام سے عشق تھا اور آخر کام کرتے کرتے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

گرمی ہو یا جاڑا، دھوپ ہو یا سایہ، وہ دن رات برابر کام کرتا رہا لیکن اسے کبھی یہ خیال نہ آیا کہ میں بہت کام کرتا ہوں یا میرا کام دوسروں سے بہتر ہے۔ اسی لیے اسے اپنے کام پر فخر یا غرور نہ تھا۔ وہ یہ باتیں جانتا ہی نہ تھا۔ اسے کسی سے بیر تھا نہ جلاپا۔ وہ سب کو اچھا سمجھتا اور سب سے محبت کرتا تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرتا، وقت پر کام آتا، آدمیوں جانوروں، پودوں کی خدمت کرتا۔ لیکن اسے کبھی یہ احساس نہ ہوا کہ وہ کوئی نیک کام کر رہا ہے۔ نیکی اسی وقت تک نیکی ہے جب تک آدمی کو یہ نہ معلوم ہو کہ وہ کوئی نیک کام کر رہا ہے۔ جہاں اس نے یہ سمجھنا شروع کیا، نیکی نیکی نہیں رہتی۔

جب کبھی مجھے نام دیو کا خیال آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ نیکی کیا ہے۔ اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں۔ ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجۂ کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑائی ہے۔ درجۂ کمال تک نہ کبھی کوئی پہنچا ہے نہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے۔ یہ سمجھو کندن ہوجاتا ہے، حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی خدا یہ نہیں پوچھے گا کہ تونے کتنی پوجا پاٹ یا عبادت کی۔ وہ کسی عبادت کا محتاج نہیں۔ وہ پوچھے گا کہ میں نے جو تجھ میں استعداد ودیعت کی تھی اسے کمال تک پہنچانے اور اس سے کام لینے میں تونے کیا کیا اور خلق اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا۔ اگر نیکی اور بڑائی کا یہ معیار ہے تو نام دیو نیک بھی تھا اور بڑا بھی سبھی۔

تھا تو ذات کا ڈھیڑ پر اچھے اچھے شریفوں سے زیادہ شریف تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےوہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہپتلی بائی: غلام عباس
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مولوی عبدالحق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *