ایک لمحے کے تعاقب میں

کچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہو جاتا ہے۔ وہ لمحے جو تنِ تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔ وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا، جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔

فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس بے ترتیبی میں ایک انوکھا حسن ہوتا ہے، اور اس حسن کی تلاش میں ابو زر کے ہم راہ ایک بار پھر محو سفر تھا۔ کلر کہار انٹر چینج سے اُتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔

Read more

بچھڑی کونج قطاراں ۔۔ مبشر سلیم

جناح اسپتال کے آوٹ ڈور سے باہر آ کر نو تعمیر ہونے والا برن یونٹ دیکھنے کےغرض سے باہر آیا، تو میری نظر اُس پر پڑی۔ سفید شلوار قمیص، سفید جیکٹ، سیاہ بوٹ، سر پر سفید دُپٹا؛ ایک لمحے کے لیے میری نظریں اُس سے ٹکرائیں، تو اس لمحے میں وقت کی قید سے نکل…

Read more