جیل کے ملزم و مجرم قیدی اور حفظانِ صحت

جیلوں اور تھانوں میں بندی بنے ہزاروں افراد بھی تو پاکستانی ہیں۔ وہ بھی تو انسان ہیں اور ان کے بھی تو کچھ حقوق ہیں۔ اور حیران کن بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں بند، لگ بھگ 60 % حوالاتی ہیں۔ یعنی اب تک ان پر جرم ثابت نہیں ہوا اور وہ کسی جرم کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ انھیں سزا یافتہ مجرم قیدیوں کے ساتھ اسی ماحول میں اور انہی حدود و قیود میں رکھا گیا ہے۔ جب تک کسی کا جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ہو سکتا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا برتاؤ بھی نہیں کیا جا سکتا یہی کیا کم ظلم ہے کہ ایک ملزم کی آزادی سلب کر لی جاتی ہے اور وہ اپنے عزیز و اقارب سے دور جیل میں نظر بند کر دیا جاتا ہے۔

Read more

کیا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک سائیکو پیتھ ہیں؟

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی زندگی پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے تو ان پر پرتشدد اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ان گنت الزامات و شواہد ملیں گے۔ پر تشدد اور مجرمانہ طرزِ عمل نفسیاتی مرض کی طرف بھی دلالت کرتا ہے۔ بہت سارے مجرم جو ظاہری طور پر نارمل دکھائی دیتے…

Read more