جیل کے ملزم و مجرم قیدی اور حفظانِ صحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیلوں اور تھانوں میں بندی بنے ہزاروں افراد بھی تو پاکستانی ہیں۔ وہ بھی تو انسان ہیں اور ان کے بھی تو کچھ حقوق ہیں۔ اور حیران کن بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں بند، لگ بھگ 60 % حوالاتی ہیں۔ یعنی اب تک ان پر جرم ثابت نہیں ہوا اور وہ کسی جرم کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ انھیں سزا یافتہ مجرم قیدیوں کے ساتھ اسی ماحول میں اور انہی حدود و قیود میں رکھا گیا ہے۔ جب تک کسی کا جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ہو سکتا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا برتاؤ بھی نہیں کیا جا سکتا یہی کیا کم ظلم ہے کہ ایک ملزم کی آزادی سلب کر لی جاتی ہے اور وہ اپنے عزیز و اقارب سے دور جیل میں نظر بند کر دیا جاتا ہے۔

پچھلی چند دہائیوں سے دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس تبدیلی اور جدت نے جہاں صنعت و حرفت، رسائل و زراعت میں بڑی بڑی ناقابل فراموش تبدیلیاں لائی ہیں۔ وہیں انسان کی روزمرہ زندگی کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب نہ ہی انسان کو صاف و شفاف آب و ہوا میسر ہے اور نہ ہی قدرتی غذائیں دستیاب ہیں۔ محنت و مشقت تو درکنار اب عموماً انسان پیدل چلنے سے بھی عاجز ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان تبدیلیوں کا براہ راست اثر انسان کی صحت پر پڑ رہا ہے جو بیچارہ ہر وقت مختلف الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز کے گھرا ہوا اور گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلتے دھوئیں کو پھیپھڑوں میں بھر کر جینے پر مجبور ہے۔ پھر اس تیزی بڑھتی ہوئی آبادی نے اپنا ستم یوں ڈھایا کہ انسان کے رہنے کے لئے جگہیں کم پڑنے لگیں، رہنے کے لئے کھلے گھروں کی جگہ چھوٹے اور تنگ و تاریک گھر اس کا مقدر بننے لگے۔ نوکریوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی و دیگر سہولیات کی وجہ سے شہر کھچا کھچ بھرنے لگے۔

پاکستان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ شہروں کی طرف نقل مکانی کرتی اس آبادی کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور نہ ہی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے نئے روزگار اور وسائل کا کوئی مناسب انتظام کیا گیا جس سے ایک طرف غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا دوسری طرف ان گنجان آباد شہروں میں صاف آب و ہوا کی عدم دستیابی اور ناقص نکاسی کا الگ سے مسئلہ کھڑا ہو گیا جبکہ سگریٹ و شراب نوشی کا رجحان بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔

مری بروری جو کہ پاکستان میں شراب کشید کرنے والی کمپنی ہے۔ اپنی سالانہ پیداوار میں ہر سال بیس فیصد اضافہ کر رہی ہے اور ایسے حالات جرم اور بیماری کو دعوت دیتے ہیں اور وہی ہوا ایک طرف جرائم بڑھنے لگے تو دوسری طرف صحت کے مسائل بڑھنے لگے۔ اب جو لوگ کسی جرم یا الزام میں جیلوں میں جا رہے ہیں۔ وہ آج سے بیس سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ طویل عرصے سے جیل میں موجود طبی سہولیات قیدیوں کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ جیل حکام قیدیوں کو، صاف ستھرا اور حفظان صحت کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق، ماحول مہیا کرنے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے جیل میں وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے اور پھیلنے کا ہر وقت خطرہ موجود رہتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہی پڑے گا۔ بنیادی انسانی حقوق و ضروریات کے قیدی اور ملزمان بھی اتنے ہی حق دار ہیں۔ جتنا کہ کوئی بھی آزاد شہری۔

اسی طرح مختلف امراض کے علاج اور ان سے بچاؤ کے لئے اسی معیار کی سہولیات کا حق رکھتے ہیں جو کسی بھی آزاد شہری کو دستیاب ہیں۔ کرونا جیسی وبائی مرض کے دنوں میں قیدیوں اور ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ انسانی حقوق کے لئے کام کرنی والی تنظیمیں اور انسانیت کے لئے درد دل رکھنے والے لوگ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ جیل حکام نے اس بچاؤ کے لئے کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں اور اور سے نپٹنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔

پچھلی چند دہائیوں سے پوری دنیا کی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سے یہی حال پاکستانی جیلوں کا بھی ہے جو کہ پاکستانی جیسے کمزور معیشت والے ملک پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ چھ ماہ پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق ان قیدیوں کی تعداد ستتر ہزار کے لگ بھگ تھی۔ یہ تعداد 1998 ء میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق جیل کی استعداد سے تقریباً 30 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ جیلوں کی استعداد سے تیس فیصد زائد قیدی رکھنے سے نہ صرف جیل میں موجود سہولیات متاثر ہوتی ہیں بلکہ یہ جیل میں موجود قیدیوں اور معاشرے کے لئے بھی طبی مسائل کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی جیلوں کا اولین مصرف و مقصد مجرم کو سزا دینا ہے نہ کہ قیدیوں کی اخلاقی و معاشرتی اصلاح کر کے اور تربیت دے کر انھیں معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے۔

پورے ملک میں موجود جیلوں میں بنیادی انسانی ضروریات کے لئے درکار سہولیات کا فقدان ہے۔ خصوصاً تھانوں کی حوالات میں تو اکثر رفع حاجت کے لئے بھی کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔ اسی طرح تازہ ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام موجود نہیں۔ اسی طرح سنگین جرائم میں ملوث قیدی اور چھوٹے جرائم کے مجرموں کو ایک ہی جگہ ایک ساتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ خصوصاً خواتین اور بچوں کے لئے الگ سے کوئی جیل نہیں بنائی گئی بلکہ اسی جیل میں ایک حصہ خواتین کے لئے مختص کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح قیدی خواتین اور بچوں کے لئے یہ ماحول اطمینان بخش نہیں ہے۔

قیدیوں، خصوصاً خواتین اور بچے قیدیوں کو جسمانی، جنسی اور جسمانی تشدد اور ہراساں ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں جیلوں پر مناسب حد تک توجہ دے کر اس میں انتظامی، تعمیراتی اور تربیتی تبدیلیاں کے جدت لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی طرح جیل انتظامیہ کے حکام اور عملے کو جدید دور کے مطابق تربیت دینا ہو گی۔ تا کہ وہ قیدیوں کو ان کا وقار اور عزت نفس مجروح کئیے بغیر مناسب اور صحت افزا ماحول مہیا کر سکیں، اور قیدیوں کی ایسی تربیت کر سکیں کہ مستقبل میں وہ معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بن سکیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قیدیوں کے حقوق میں طبی سہولیات کا مہیا کرنا اور تسلیم شدہ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ان کی صحت کا تحفظ کرنا ایسا حق ہے کہ جو کسی بھی صورت نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز۔ اس لئے تھانے میں بندی بناتے ہوئے، انھیں جیل منتقل کرتے، ایک جیل سے دوسری جیل میں تبادلہ کرتے ہوئے، جیل سے رہائی کے وقت ان کے مختلف طبی ٹیسٹ لازمی ہونے چاہئیں اور جن کا باقاعدگی سے دفتر میں اندراج ہونا چاہیے اسی طرح وقتاً و اتفاقاً اور باقاعدگی سے طبی معائنہ اور ٹیسٹ جیلوں میں ہونے والی بدسلوکی اور جسمانی تشدد کے خلاف بھی ایک ڈھال ثابت ہو سکے گی۔

مزید برآں، بنیادی ضروریات اور طبی سہولیات کی فراہمی، قیدیوں یا حوالاتیوں کے بین الاقوامی اور قومی طور پر تسلیم شدہ حقوق میں سے ہیں۔ اسی طرح جیل انتظامیہ کو قیدیوں کی عزت نفس اور وقار کو مجروح کئیے بغیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ہوں گے۔ اسی طرح نیلسن منڈیلا رولز کے رول نمبر 24 تا 35 خصوصی طور پر قیدیوں کے طبی حقوق کے متعلق ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو ہی طبی سہولیات مہیا کی جائیں جو کہ کسی بھی آزاد شہری کو میسر ہیں اور کسی ناگہانی صورت میں قیدیوں کی طبی ماہرین تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تا کہ ان کا مناسب اور بروقت علاج کیا جائے اور انھیں تمام تر طبی سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply