پاک بھارت نہیں، پاک امریکہ جنگ؟

جنوبی ایشیا جغرافیائی اعتبار سے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جب سے ہوش کے آنگن میں قدم رکھا، تاریخ کا مطالعہ کیا، حقیقت کی چادر دنیاوی ننگے کھیل کے بدبودار جسم سے اٹھنے لگی۔ انسانی تعلقات اور تہذیب کی بقا و نمومیں دو عنصر مضمر ملے ”اطاعت اور حکومت“۔ جو قومیں محض ارادہ و اناکے بل بوتے پر زندہ رہنا چاہتی ہیں، اطاعت کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں، وہ صلاحیت کے استعمال کو باعث ننگ سمجھتی ہیں۔ اس سے کم پر راضی نہیں ہوتیں، ہم قدمی سے بھی جی چراتی ہیں۔وہ صرف حکومت ہی کرنا چاہتی ہیں، ان کے مقدر میں اندھیرے لکھے ہیں، بہت ہی کم اقوام اپنے خواب شرمندہ تعبیرکرپاتی ہیں اور ایسا صرف ان کی سوچ و لگن کا باعث ممکن ہے۔ بات کڑوی ضرور ہے مگر سچ ہے، دوستی، محبت تکریم ہر مال بکاؤ ہے۔ کسی کی کوئی قدر نہیں، دور نہ جائیں اپنی دھرتی ماں کو دیکھ لیں، 70 سالوں میں جو آیا اپنی اناؤں کے بھنور میں پھنسا ملا، ہر بار نئی داخلہ و خارجی پالیسی دیکھنے کو ملی ہے۔

Read more

داعش کے بعد اب اور کون؟

چار سال قبل، جون 2014 میں ابو بکر البغدادی نے عراق اور شام میں خلافت کا اعلان کیا۔ اس گروہ نے اسلامی ریاست کا نام و نقشہ تبدیل کرتے ہوئے دیگر اسلامی گروہوں پر برتری حاصل ہونے کا دعوی بھی کر ڈالا۔ جنسی غلاموں کی طرف سے، دہشت گردی کے حملوں کافروغ، یرغمالیوں کے سروں سے کھیلنا اس گروہ کا مشغلہ، سوشل میڈیا پربھی چھایا رہا۔ زیادہ تر تنقید کے نشتر برسائے گئے، اس اسلامی ریاست نے دنیا کو خوفزدہ اور پریشان کردیا۔

اس گروہ کے نمودار ہونے سے امریکہ میں دہشت گردی کا خوف مزید پھیلا، ڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی مہم کو فروغ دینے میں مدد ملی۔ ابتدائی دنوں میں یہ گروپ چھایا رہا، مگر آج صورتحال اس سے مختلف ہے، اس کے آخری علاقے میں امریکہ کی حمایت شدہ کردش فورسز نے قبضہ جمایا ہواہے، کوئی شک نہیں داعش جہادی گروہوں کے لئے ایک آفت بن کر آئی، اس خود ساختہ خلافت نے عرب، یورپ، اور شرق اوسط سے ہزاروں رضاکاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے جہادیوں کا روپ دھارا۔

Read more

صحافی جیت گیا چیف جسٹس ثاقب نثار ہار گیا

19 نومبر کی رات دو بجکر گیارہ منٹ پر واٹس ایپ پیغام موصول ہوا ”whats happened dear“ واٹس ایپ پیغام کے ساتھ چند سماجی رابطوں فیس بک اور ٹوئٹر کے سکرین شاٹ موجود تھے۔ پیغام بھیجنے والا کوئی غیر نہیں دیرینہ دوست تھا، سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی کچن کیبنٹ کا حصہ تھا، چیف جسٹس کے قریب 4 سے 5 افراد ہے عمومی طور پر ہوتے، وہ اپنے ساتھ غلام رضا جوکہ ان کے سیکرٹری تھے، ان صاحب کو، رجسٹرار یا ذاتی ملازم ہی صرف ساتھ رکھتے، زیادہ سٹاف نہ ہوتا۔ بندہ ناچیز نے سکرین شاٹ پر نظر دوڑائی حسین نقی صاحب سینئرصحافی جنہیں صحافت کی یونیورسٹی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے خلاف چیف جسٹس کے الفاظ اورنازیبا رویہ کی پرزور مذمت کی گئی تھی، اصل واقعہ سے بندہ ناچیز بھی نہ واقف تھا۔

Read more

کیا صحافت گھر کی لونڈی ہے؟

16 نومبر 2018 کا دن تھا۔ امریکی میڈیا میں تاریخ رقم ہوئی۔ امریکہ کی وفاقی عدالت کے فیصلے نے صحافی کو دنیا کے طاقتور شخص پر جیت دلائی۔ کامیابی عالمی صحافتی ادارے ”سی این این“ کے بیٹ رپورٹر برائے وائٹ ہاوس جم اکوسٹاکو کے حصے میں آئی۔ شکست وائٹ ہاوس کے مکین امریکی صدر ڈونلڈ…

Read more

ایسا دیس ہے میرا

حکمران طبقے کا ذہنی دیوالیہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ 1948 ء کے بعد پاکستان کے عوام 1965 ء میں جنگ کی تباہ کاریوں سے دوچارہوئے۔ 1971 ء کی جنگ لڑی۔ 1999 ء کی جنگ لڑی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی خفیہ جنگ لڑتے رہے اور امن کی طرف پیش رفت کے امکانات مخدوش دکھائی دیے۔ مگراب کچھ سالوں سے امن کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ حکمرانوں کے ارتجالی تبصروں اور وعدوں پر کوئی رائے زنی نہیں کروں گا۔ پاکستان کے حالات میں آئینی یا بے آئینی، قانون یا لا قانونیت اور انصاف یا بے انصافی کے درمیان جو فرق ہے مجھے آج تک اس کی سمجھ نہیں آئی۔

Read more