حبس میں ایک سفر

کچھ سال پہلے کراچی سے ایک مہربان تشریف لائے ۔ جولائی کا مہینہ چل رہا تھا اور ساون کا موسم اپنے پورے جوبن پہ اترا ہوا تھا۔
جس رات وہ آئے بارش نے ادھم مچائے رکھا ۔ چھت پہ اترنے والے موٹے موٹے قطروں کی دھما دھم سے اگرچہ ان کی نیند میں خلل تو پڑتا رہا لیکن وہ فطرت کے دلدادہ انسان تھے اور اتنی وافر مقدار میں بارش سے خوب لطف اٹھا رہے تھے۔ کہتے تھے کراچی میں اس قسم کی بارش کبھی کبھار ہی نصیب ہوتی ہے۔
ساون کی بادل جیسے آتے ہیں ویسے ہی پل بھر میں غائب بھی ہو جاتے ہیں اور جاتے جاتے ہوا سے بھی کہہ جاتے ہیں کہ خبردار جو اب تم نے ہلنے جلنے کا نام بھی لیا۔ وہ غریب دم سادھے کھڑی رہ جاتی ہے اور اتنی حرکت بھی نہیں کرتی کہ کوئی پتہ بھی نہ ہل جائے ۔ادھر سے سورج مہاراج اپنے سنہری رتھ پر براجمان کرنوں کے نیزے لیئے نازل ہو جاتے ہیں اور وہ بھرکس نکالتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔
اگلے دن یہی ہوا اور صبح صبح جو دھوپ نکلی اور ہوا کو پابند سلاسل دیکھا تو سمجھ گئے کہ آج آئر کنڈیشنر ہی جان بچائے گا ورنہ جان بھی پسینے کے ساتھ بہہ نکلنے کا آندیشہ رہے گا۔
دوپہر تک کاسفر درپیش تھا اور ہم ٹھندی ٹھار گاڑی ہیں فراٹے بھرتے جا رہے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف تا حد نظر سبزے کا فرش بچھا تھا ۔ ساون بھادوں میں پنجاب کا شاید ہی کوئی کونہ ہو جس پہ سبزہ اگ نہ آتا ہو۔ دھان کے کھیت تھے ۔۔۔کہیں گہرے سبز اور کہیں ہلکے رنگوں میں ۔۔ پیچ میں مکئی کے کھیت جو ان دونوں رنگوں سے جدا نظر آتے تھے ۔۔ کھیتوں کی مینڈھوں پر اکا دکا شیشم، جامن اور کیکر کے درخت اور جانوروں کے باڑوں اور گھروں کے صحنوں میں دھریک ، نم اور پلکھن کے بڑے گھیر اور گھنے سائے والے درخت تھے جو گاڑی کے ٹھنڈے ماحول میں بیٹھے دل کو خوشی سے بھر رہے تھے۔ دھان کے کھیتوں میں کہیں کوئی کسان سر پہ صافہ باندھے ہاتھ میں کسی پکڑے کام میں مصروف نظر آ جاتا یا کسی گنی چھاؤں والے پیڑ کے نیچے حقے کے گرد دائرہ بنائے ہوے بوڑھے اور ادھیڑ عمر۔ اور ان کے آس پاس زبانیں باہر نکال کر ہانپتے ہوئے کتے۔
اے سی کی خنک ہوا سے امڈتی ٹھنڈک میں باہر کے مناظر انتہائی خوبصورت اور دل پزیر نظر آ رہے تھے۔ ہمارے مہمان نے ہلکے شیڈ والی رنگین عینک بھی لگائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ مناظر ان پر جادو ہی جادو کیے جا رہے تھے۔ وہ راستے میں متعدد بار مجھے سڑک کنارے رک کر تسلی سے ان روح پرور اور دلآویز مناظر کو دیکھنے کی خواہش کر چکے تھے لیکن ۔
مجھے باہر ساون کی حبس زدہ دھوپ اور ساکت ہوا میں ہانپتے ہوئے جان دار بتا رہے تھے کہ یہ جادو مناظر کا نہیں ۔۔ کسی کافر کے ایجاد کیے ہوے اے سی کی یخ بستہ ہوا کا ہے۔ بہر حال جب ہم بڑی شاہراہ سے اتر کر ایک ذیلی سڑک پر اترے تو کچھ فاصلے پر نہر کے پل پر ایک پرانے اور وسیع پھیلاؤ والے بوہڑ کے سائے میں ان کے اصرار پر مجھے چارو ناچار گاڑی روکنی پڑی۔ کہنے لگے مجھے روز روز تو پنجاب آنا نہیں اور تم مجھے پنجاب کا سر سبز چہرہ بھی تسلی سے نہیں دیکھنے دے رہے۔
سامنے کچھ فاصلے پر درختوں کے جھنڈ تلے کچھ مویشی بندھے تھے اور ایک ٹیوب ویل چل رہا تھا ۔ یہاں ہمارے مہمان کا دل پہلے مچلا اور پھر اٹک گیا ۔ وہ کچھ وقت اس ٹیوب ویل پر گزارنا چاہ رہے تھے ۔ چارو ناچار گاڑی سے اترے کہ اب اگر موسم کی سختی کا ذکر کیا تو مہمان نوازی پہ حرف آئے گا اور ویسے بھی جوتے کو جب تک پہنا نہ جائے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں اور کس شدت سے کاٹتا ہے۔
گاڑی سے اترے اور ہم دونوں درختوں کے اس جھنڈ کی طرف روانہ ہوے ۔ ایک آدھ منٹ تک تو اے سی کے ٹھنڈے ٹھار کیے ہوئے جسموں کو کچھ خاص فرق محسوس نہ ہوا اور ہمارے دوست ہر قدم پر واہ واہ کیا سبز ہ ہے کیا شادابی ہے کے فقرے بولتے رہے لیکن چلچلاتی دھوپ میں کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد پسینے کے قطرے جسم کے تمام اعضا سے یوں پھوٹنے لگے جیسے کسی ڈیم بھرنے کے کار خیر میں حصہ ڈالنا چاہتے ہوں اور لمحوں میں قمیض پسینے سے بھیگنے لگی ۔ میں آگے چل رہا تھا اور وہ صاحب پیچھے تھے ۔ جب میں پسینے سے بھیگنے لگا تو ان کی باتوں میں بھی کچھ وقفہ آنے لگا۔ یقینا موسم اب ان پہ بھی اثر کر رہا تھا بلکہ زیادہ کر رہا تھا کہ وہ تو ساحل کے معتدل اور نرم موسموں کے پروردہ تھے ۔ بہر حال میں نے سر پہ ہنٹر برساتی دھوپ کے زیر اثر رفتا تھوڑی تیز کر دی ۔ اب وہ تقریبا خاموش ہو گئے تھے اور ہم پسینے میں شرابور ہوتے ہوئے درختوں اس جھنڈ تک پہنچ ہی گئے۔
ہوا ایسی رکی ہوئی تھی کہ پتہ ہلنا تو چھوڑ ہی چکا تھا لیکن اب باقاعدہ بلبلا رہا تھا کہ باد نو بہار نہ سہی باد سموم ہی چلے لیکن چلے تو سہی کہ اس حبس سے تو پتوں کی روحیں بھی مائل بہ پرواز ہو رہی تھیں ۔
زمین تر تھی اور سورج مہاراج کے نیزے اس کی تہوں سے بھڑاس نکال نکال کر سطح پر بسنے والے جانداروں کے مساموں کا امتحان لے رہے تھے۔ یہاں چند بھیسیں بندھی تھی جو بیٹھی ہوئی تھی اور سانس کی دھونکنی چلاتے ہوے ہانپ رہی تھیں لیکن چونکہ ان کے جینز میں پنجاب کے ان حبس بھرے موسموں کی خبر موجود تھی تو بہر حال وہ گزارا کیے جا رہی تھیں ۔ ترس کے قابل تو وہاں کھڑی ایک سفید ڈب کھڑبی گائے تھی جس کی کراس نسل میں شامل یورپین خون کی بدولت وہ ان موسموں کی عادی نہیں تھی ۔ اس کے آبا و اجداد الپس کی برفانی چراہ گاہوں میں چرتے تھے اور ان کے جسم ان گرم مرطوب موسموں کی شدت کو سہارنے کے قابل نہیں تھے۔ سانس لینا بھی اس گائے کے لیے ایک ازیت سے کم نہیں تھا اور اس کا بھاری جسم سانس لینے سے مسلسل دھچکے کھا رہا تھا ۔
ہم دونوں ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے اسے آنکھوں میں گرنے سے بچا رہے تھے اور میرے ہمراہی کا شوق منظر بینی کچھ ماند پڑ چکا تھا ۔ اب وہ ٹیوب ویل کی طرف متوجہ ہوئے اور کھال کے کنارے بیٹھ کر منہ پر پانی کے چھینٹ مارنے لگے ۔ پانی ٹھنڈا تھا جس سے طبیعت کچھ رواں تو ہوئی لیکن ارد گرد اگی گھنی گھاس کی طرف دیکھ کر مجھے رہ رہ کر اس موسم میں پھرتے پھراتے سانپوں کا خیال آ رہا تھا ۔۔ کچھ تو مہمان کا بھی دھیان کی وہ شہر کے رہنے والے نستعلیق مزاج اگر یکدم ایک سانپ اپنے پاؤں میں دیکھیں گے تو کیا ردعمل دیں گے اور کچھ میں خود بھی سانپ دیکھ کہ بقائے باہمی کے اصول پر مکمل عمل کرتے ہوئے دوسری طرف بھاگ لینا ہی پسند کرتا ہوں اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس مخلوق سے مڈ بھیڑ ہی نہ ہو۔ چنانچہ میں نے گھاس سے مخفوظ فاصلہ قائم رکھتے ہوے اپنے رفیق سے واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ وہ شاید اسی انتظار میں تھے فورا بولے ہاں کیوں نہیں کافی گرمی ہے یہاں۔ واپسی کا سفر پھر دھوپ میں ہی کرنا تھا ۔ گاڑی کے نزدیک پہنچتے پہنچتے سر میں خوب دھوپ گھس چکی تھی ۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو دھچکا سا لگا کہ چابی غائب تھی اور جیب پاکستان کے خزانے کی طرح خالی۔ پھر دوسری جیب کی تلاشی لی وہاں سے بھی وہی جواب ملا ۔ خیال آیا کہ چابی کہیں گر گئی ہو گی پھر سوچا ایک نظر گاڑی میں ڈال لوں ۔ شیشے سے جھانکا تو چابی اگنیشن میں نظر آئی اور گاڑی لاک۔
میرے ہمراہی دوسری طرف گاڑی کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھے کھڑے تھے اور بس اگلے ہی لمحے اندر بیٹھ کر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کی شدید چاہت میں مبتلا ہو چکے تھے ۔ میری صورت سے ٹپکتی سراسیمگی سے انہیں کچھ اندازہ ہوا کہ ابھی اس خواب کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ ہے۔ اب ایسے لمحات میں نہ جانے پیٹ میں عجیب سی سنسناہٹ کیوں ہوتی ہے اور دل کیوں بیٹھتا ہے ۔ بہر حال اب جو صورتحال پہ غور کیا تو اسے نہایت نازک پایا کہ اس حبس بھرے موسم میں اس ذیلی سڑک پہ ٹریفک تقریبا نہ ہونے کے برابر تھی۔ نزدیک ترین قصبہ جہاں سے مدد ملنے کی امید تھی وہ لگ بھگ تیس کلومیٹر دور تھا۔ وہاں کیسے پہنچا جائے گا اور کس بندو بست کے تحت واپسی ممکن بنائی جائے گی ۔ یہ سارے خیالات چند ہی لمحوں میں دماغ میں پہلے تو خود گھومے اور پھر دماغ کو ساتھ لے کر گھومنے لگے۔ اب ہمارے ہمراہی بھی گھوم کر آئے اور اندر لگی چابی کو دیکھ کر گہری سوچ میں کھو گئے ۔ میں نے کھسیا نا ہو کر کہا چلیں اس بہانے آپ سرسبز پنجاب کو زیادہ قریب سے دیکھ اور محسوس کر سکیں گے کیونکہ چابی کی برآمدگی کچھ وقت طلب معاملہ لگ رہا ہے ۔
وہ پسینے میں تو شرابور تھے ہی اب جو انہیں کچھ اور دیر اس ماحول میں رہنے کی سزا سنائی گئی تو کہنے لگے یہاں ہوا کیوں نہیں چلتی کراچی میں تو ہر وقت ہوا فراٹے بھر رہی ہوتی ہے مجال ہے جو اس قدر پسینہ آئے۔ میں نے عرض کی کہ ابھی ذرا مجھے چابی کے مسئلے پر غور و خوض کر لینے دیں اور اس موسمیاتی تفریق کو بعد پر اٹھا رکھیں۔ اسی اثنا میں یاد پڑا کہ قریب ایک گاؤں میں ایک دیرینہ دوست مقیم ہوتے ہیں کیوں نہ ان کا سہارا لیا جائے ۔ موبائل سے ان کا نمبر ڈائیل کیا تو گھنٹی پہ گھنٹی بجتی رہی لیکن جواب ندارد۔۔پھر نمبر ملایا تو ایک نیند بھری لمبی سی ہیلووووووو کی آواز آئی ۔۔میں نے کہا جناب چوہدری صاحب کیا حال چال ہے اور کیا کر رہے ہیں ۔۔۔وہ مزاج آشنا دوست تھے ۔ فرمانے لگے۔۔آپ کا فون آنے سے پہلے تک تو موجیں لگی ہوئی تھی اور جناب ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اے سی لگا کر سویا تھا اور دعا بھی کی تھی کہ بجلی بند نہ ہو پر یہ دعا کرنا بھول گیا کہ کسی ناہنجار کو فون پر میری یاد نہ آئے۔ میں نے کہا چل اب نیند پھر کسی مناسب وقت پر پوری کر لینا ابھی میں سخت مشکل میں گرفتار ہوں اور اپنی ساری بپتا انہیں سنائی ۔ کہنے لگے کہ چابی والا جگاڑ تو لگ جائے گا مگر باہر گرمی بہت ہے۔ میں نے اب ان کی شان میں تھوڑی سی گستاخی کرتے ہوے کہا کہ گرمی کی وجہ سے ہی میں آپ کے آرام میں مخل ہوا ہوں ورنہ میں تیس کلومیٹر پیدل چل لیتا لیکن ظل الٰہی کی زنجیر نہ ہلاتا۔ بہر حال انہوں نے کمال مہربانی فرماتے ہو کہا کہ اب کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔۔میں کسی کاریگر کو لے کر آتا ہوں۔
اب میں اور معزز مہمان وہاں کھڑے ہیں ۔ میں خوش قسمتی سے شلوار قمیض پہن کر آیا تھا اور اوپر والے دو بٹن کھول کر دل کو تسلی دے رہا تھا لیکن وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس تھے اور وہ تیار بھی کسی ہوا بند قسم کے کپڑے سے ہوئی تھی۔ میرے گریبان کے کھلے بٹن دیکھ کر۔ پہلے تو وہ ذرا جز بز ہوے تھے لیکن اب گرمی اور پسینے کی شدت سے ہانپتے ہوئے انہوں نے بھی ایک بٹن کھول کر سینے کو ہاتھ میں پکڑے رومال سے کچھ ہوا لگانی شروع کر دی تھی۔ اتنے میں ایک سائیکل سوار ہلکے پیڈل مرتا ہوا گزرا ۔ اس نے سر پر ایک صافہ لیا ہوا تھا اور نیچے ایک دھوتی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسے دیکھ کر مہمان بولے کہ انسان کے لباس پر اس کے ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے ۔ میں نے کہا یقینا ۔۔اور صرف لباس ہی نہیں بلکہ زبان پر بھی ۔۔کہنے لگے واقعی ۔۔لگتا ہے پنجابی مغلضات اسی موسم میں ایجاد ہوئی تھیں ۔
کوئی آدھ گھنٹہ تک ہم وہاں کبھی کھڑے ہوتے ۔ کبھی گاڑی سے ٹیک لگاتے اور فورا پیچھے بھی ہٹ جاتے کہ باوجود سائے کے اس کا لوہا گرم تھا ۔ کبھی ٹہلنے لگتے اور کبھی دور اس ٹیوب ویل کو دیکھتے جو ہماری اس صورتحال کا بنیادی سبب تھا۔
اتنے میں ایک موٹر سائیکل پر چوہدری صاحب وارد ہو گئے اور ان کے پیچھے ایک آدمی بھی ہاتھ میں ہتھوڑا اور زنبور نما کچھ اوزار پکڑے بیٹھا تھا جسے دیکھتے میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے اپنے لوہار کو ساتھ کے آئے ہیں ۔ اب گاڑی پہ کیا گزری اور ہم پہ کیا بیتی یہ کہانی بھر سہی۔
Facebook Comments HS

