جنسی ہراسانی ایک عام مسئلہ ہے، جس کا سامنا تقریباً ہر جنس کو کرنا پڑتا ہے۔ کبھی باس کے ہاتھوں، کبھی کولیگ کے ہاتھوں، کبھی رشتے دار کے ہاتھوں، کبھی ہمسائے کے ہاتھوں، کبھی کسی کے ہاتھوں۔ سند یہ ہے کہ سرویز بتاتے ہیں کہ اٹھانوے ( 98 ) فیصد لوگ جنسی ہرا سانی کا سامنا کرتے ہیں۔ خواہ مشرق ہو یا مغرب یہ مسئلہ ہر جگہ ہے۔ فرق یہ ہی ہے کہ مشرق میں جنسی ہرا سانی کے قوانین نہایت کمزور ہیں۔ جبکہ تہذیب یافتہ مغرب کے کچھ حصے میں مضبوط جنسی ہرا سانی کے نہایت مضبوط قوانین موجود ہیں۔
آج انیس سال کا ہوتے ہوئے جب آج سے بارہ تیرہ سال پہلے کا وقت سوچتا ہوں کہ جب میں متعدد بار ہراساں ہوا تھا، تو خود سے سوال پوچھنے پر مجور ہو جاتا ہوں کہ میں اس وقت اپنے والد یا والدہ جنہوں نے مجھے بہت اعتماد دیا ہے، انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکا؟میں کیوں تنہا اس اذیت میں مبتلا رہا کہ وہ آنٹی جب بھی آئیں تو کسی کونے کدھرے میں گھس جاؤں یا قریب رہتی اماں کے گھر چلا جاؤں یا وہ انکل جب بھی آئیں تو فوراً اماں کی اوٹ میں ہو جاؤں۔ تو جواب مجھے ایک ہی ملتا ہے کہ معاشرے کا دباؤ کچھ ایسا تھا کہ ہمت کبھی کر ہی نہیں سکا۔ ط
Read more