اظہارِ مافی الضمیر اور کالم نگاری

بابِ مدینۃ العلم سے منسوب قولِ مبارک ہے ”کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ“ ۔ یقیناً جوامعُ الکلم کا اعجاز لیے جنابِ امیر کا یہ فصیح و بلیغ جملہ ”کلام“ کی تمام تر شاخوں کو محیط ہے اور یہی کلام اگر صفحۂ قرطاس کی زینت بنے تو اسے تحریر کہا جاتا ہے۔ یوں تو لفظِ تحریر اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت سموئے ہوئے ہے تاہم ہر لکھی ہوئی بات آیا تحریر کی تعریف پر پورا اترتی ہے یا نہیں

Read more