اظہارِ مافی الضمیر اور کالم نگاری
بابِ مدینۃ العلم سے منسوب قولِ مبارک ہے ”کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ“ ۔ یقیناً جوامعُ الکلم کا اعجاز لیے جنابِ امیر کا یہ فصیح و بلیغ جملہ ”کلام“ کی تمام تر شاخوں کو محیط ہے اور یہی کلام اگر صفحۂ قرطاس کی زینت بنے تو اسے تحریر کہا جاتا ہے۔ یوں تو لفظِ تحریر اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت سموئے ہوئے ہے تاہم ہر لکھی ہوئی بات آیا تحریر کی تعریف پر پورا اترتی ہے یا نہیں یہ معاملہ تفصیل طلب ہے۔ البتہ یہ امر تو بہرطور طے شدہ ہے کہ تحریر کی تاثیر اک حقیقتِ ثابتہ ہے جس سے گریز پائی کسی صورت ممکن نہیں۔
تحریر مختلف جملوں کی یکجائی صورت کو کہا جاتا ہے جبکہ جملہ مختلف الفاظ سے مل کر بنتا ہے۔ گویا بنیادی جزو ”لفظ“ ہے جسے تحریر کی عمارت میں خشتِ اوّل کی حیثیت حاصل ہے۔ لفظ کا لفظی مطلب ہے ”پھینکنا“ ۔ انسان چونکہ دورانِ گفتگو اپنی زبان کے ذریعے لفظ مخاطب کے روبرو پیش کرتا ہے اسی سبب سے اسے ”لفظ“ کے نام سے معنون کیا گیا ہے۔ لفظ اور تحریر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لفظ کے بغیر تحریر کوئی وجود نہیں رکھتی اور لفظ کو مفہوم کی منتقلی کے لیے تحریر کا پیراہن درکار ہے۔
لفظ اور تحریر کے اظہار کے یوں تو متعدد ذرائع ہیں جن میں نمایاں نام اخبار کا ہے۔ اخبار مختلف النوع خبروں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہاں جو تحریریں شائع ہوتی ہیں ان کا طرزِ تحریر جُداگانہ ہے۔ اخبار کا ایک اہم حصہ وہ ہے جہاں مختلف الخیال افراد اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ تحریر کی اسی صورت کو ”کالم“ کہا جاتا ہے۔ اس کا اسمِ فاعل کالم نگار کہلاتا ہے۔ کالم نگار اپنی ذاتی دلچسپی کے موضوعات پر تحریری اظہارِ رائے کرتا ہے۔ ہر کالم نگار کا اسلوب منفرد ہوتا ہے۔ قارئین اپنی ذاتی دلچسپی اور پسندیدگی کے موضوعات پر مشتمل کالم پڑھتے ہیں اور اسی کے مطابق کالم نگار کے متعلق رائے قائم کرتے ہیں۔
کالم اظہارِ مافی الضمیر کا ذریعہ ہے۔ اسے اظہار کے بہترین قرینوں کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ استدلال کی قوت اور عمدہ اسلوب اس کے اجزائے ترکیبی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان سے پہلو تہی صحافتی قعرِ مذلت میں لے جانے کا سبب ہے۔ سو یہ لازم ٹھہرا کہ ان لوازمات کے بغیر کوئی شخص اس کوچے کا رخ نہ کرے ورنہ رسوائی مقدر ٹھہرے گی۔ بعینہٖ کچھ اوصاف کالم نگار میں ہونا لازمی ہیں جن میں زبان و بیان پر عبور، عمدہ اسلوب، بنائے استدلال کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر وسعتِ مطالعہ کہ اس کے بغیر تو بامعنی جملے کی بُنت ہی دشوار ہے۔ فی زمانہ یہ خصوصیات عنقا ہو چلی ہیں۔ تاہم ماضی کی طرح آج بھی اگر کسی کالم نگار کے ہاں اسلوب کی ندرت اور استدلال کی قوت موجود ہے تو قارئین کا وسیع حلقہ بھی اس کے دامِ تحریر کا اسیر ہے۔ گویا ان خصوصیات کا حامل کالم نگار کہلانے کا اہل ہے ورنہ اسے محض اک نثر نگار ہونے کا سزاوار ہی سمجھا جائے عمدہ نثر نگار پھر بھی نہ کہا جائے۔
وطنِ عزیز میں تو ہر طرح کے کالم نگار اپنی نگارشات کی صناعی کے جواہر ریزے پیش فرما رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو واقعی کالم نگار ہیں جبکہ کچھ کالم نگاروں کے بھیس میں اپنا لوہا، تانبا، پیتل سب ہی بیک وقت اور بیک جنبشِ ”کالم“ منوا رہے ہیں۔ ارضِ پاک میں کالم کے ذریعے کالم نگار رائے سازی اور رائے عامہ کی ہمواری کا کام بھی لیتے ہیں۔ فی زمانہ کالم بیانیہ سازی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مخصوص ایجنڈے کی تشہیر کا حساس فریضہ بھی اسی کے نازک کندھوں پر ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب طلب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کسی تحریر کو صحافتی کالم ہی کہیں گے یا کچھ اور بھی کہا جا سکتا ہے؟ نقصِ امن کے خوف نے بے ساختہ احمد ندیم قاسمی کا مصرع یاد دلا دیا:
اور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے

