ہیرے کی کنی
میں اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتا ہوا کسی پناہ گاہ کی تلاش میں تھا۔ قدم اٹھانا مشکل تھا۔ مگر زندہ رہنے کی خواہش ہمت بندھا رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں تھا۔ خشک جھاڑیوں سے الجھتے ہوئے۔ رینگ رینگ کر آگے بڑھتا گیا۔ ایک کھوہ پر نظر پڑتے ہی امید کی کرن جاگی۔ اس سخت گھڑی میں یہ کھوہ محفوظ اور پتھریلی زمین مخمل کا بستر لگی۔ ذرا سا آسرا ملتے ہی کمر ٹکا لی۔
Read more
