ہیرے کی کنی


میں اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتا ہوا کسی پناہ گاہ کی تلاش میں تھا۔ قدم اٹھانا مشکل تھا۔ مگر زندہ رہنے کی خواہش ہمت بندھا رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں تھا۔ خشک جھاڑیوں سے الجھتے ہوئے۔ رینگ رینگ کر آگے بڑھتا گیا۔ ایک کھوہ پر نظر پڑتے ہی امید کی کرن جاگی۔ اس سخت گھڑی میں یہ کھوہ محفوظ اور پتھریلی زمین مخمل کا بستر لگی۔ ذرا سا آسرا ملتے ہی کمر ٹکا لی۔ اپنے آپ کو پتھر کی اوٹ میں چھپا لیا۔ تنگ دہانے سے سامنے کا منظر بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔

پہاڑ کے اردگرد کا ماحول خوش کن تھا۔ پہاڑ کے دامن میں تازہ تازہ سبز مخملیں چادر بچھی تھی۔ گھاس کے اندر سے پہاڑی پھولوں کے رنگین گچھے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔

ساری وادی نے چھینٹ کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ خنک فضا نے غنودگی طاری کردی۔ سر بوجھل ہونے لگا۔ آنکھیں ادھ کھلی تھیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے گہرائی میں ڈوبنے لگا ہوں کہ دور پرے پہاڑ پر چھینٹ کی چادر اوڑھے گل جاناں کھڑی ہے، وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی جانب بلا رہی ہے۔ اس نے اپنا میمنہ اٹھایا ہوا ہے۔ اس کی جھیل جیسی گہری نیلی نیلی آنکھیں کانچ کی طرح جھلمل جھلمل کر کے میری آنکھوں میں بھی شرارت بھر رہی ہیں۔ میرے چچا کے دونوں جوان بیٹے جہاد پر نکل چکے تھے۔ گھر میں کوئی مرد نہ تھا۔ میں بھی رخصت ہونے لگا تھا۔ روانگی سے ایک دن پہلے دادی اور چچی کو سلام کرنے گیا۔ واپس ہونے لگا۔ گل جاناں دروازے تک آئی تھی۔ پھولدار چھینٹ کی بکل سے سیاہ بالوں کی جھالر گوری پیشانی سے ہو کر نیلگوں آنکھوں کی سیاہ پلکوں سے الجھ رہی تھی۔ ٹھوڑی کا سبز خال تھا کہ زمرد!

غنودگی میں ڈوبی آنکھیں گزرے دنوں کی بہاریں ڈھونڈ رہی تھیں۔ فضا میں پراسرار سکوت پھیلا ہوا تھا۔ اس چپ چپ ماحول میں کہیں دور سے شی شی۔ شی شی کی چہکار ابھر رہی تھی۔ آس پاس کوئی نہ تھا۔ کوئل کی کوک ہولے ہولے اٹھ رہی تھی۔ ذرا دیر بعد پہاڑی کے دوسری جانب، بھیڑ بکریوں کے میمنے گھاس پر پھدکتے نظر آئے۔ شریر میمنے چھوٹی چھوٹی کلانچیں بھرتے ادھر ادھر پھیل گئے۔ سبز گھاس پر روئی جیسے سفید گالے اچھل کود کرنے لگے۔

شی شی کی ہلکی چہکار ابھری اور ساتھ ہی پتلی سی چھڑی لہراتے ہوئے، ایک پہاڑی لڑکی میمنوں کی طرح کلانچیں بھرتی بے حال ہوئے جا رہی تھی۔ سیاہ چادر سر سے ہو کر بازوؤں پر جھول رہی تھی۔ چھڑی لہراتے ہوئے چادر ڈھلکی تو گھبرا کر جلدی سے اسے سر پر ڈالنے لگی کہ بے خیالی میں دھڑام سے منہ کے بل جا گری۔ میں اس سارے منظر کی جزئیات میں کھویا، اپنے زخمی وجود سے بے خبر ہو گیا تھا۔ اسے پتھر سے ٹھوکر نہ لگی تھی۔ ایک غیرملکی فوجی نے دوڑتی بھاگتی اس ہرنی کے آگے اپنی ٹانگ اڑا دی تھی۔ وہ الہڑ لڑکی موٹے موٹے بوٹوں کی زد میں تھی۔ سر سے ڈھلکی چادر کو کھینچتے ہوئے، اس نے اٹھنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر اس کا سارا وجود پتھریلی زمین پر پتھر اگیا تھا۔ آنکھیں دہشت سے پٹ پٹ کھلی تھیں۔ اناریں رنگت پر چمبیلی پھیل گئی تھی۔ اس کی سیاہ چادر فوجی بوٹوں تلے دبی ہوئی تھی۔

شیطانی قہقہے ماحول کی پاکیزگی کو گدلا رہے تھے۔ ہوس اگلتی آنکھیں دیدوں سے پھٹی پڑی تھیں۔ معصوم لڑکی پر کپکپی طاری تھی۔ خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر مدد کی امید میں تکے جا رہی تھی۔ معصوم جان کو معلوم نہ تھا کہ اس کے آس پاس سوائے چند جھاڑیوں اور پتھروں کے کچھ نہ تھا۔ وہ بے بس و لاچار تھی۔ اور اس کی بھیڑ بکریاں پہاڑی کی نشیب میں اتر رہی تھیں۔ سہمی سہمی آواز حلق سے نکل رہی تھی۔

”لرٹ شھ، لرٹ شھ۔ زما حادر۔ زما حادر“
”دور ہٹو، دور ہٹو۔ میری چادر، میری چادر“

بے کس مجبور لڑکی کی بولی اس شیطان کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی مگر مفہوم سمجھ کر اس کی بے بسی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

وہ اپنی چادر چھڑانے کی کوشش میں ادھر ادھر گھسٹتی رہی۔ ادھر کھوہ میں پڑا میرا ناکارہ وجود اندر ہی اندر دہک رہا تھا۔ مجھ میں ہلنے جلنے کی سکت نہ تھی۔ تاہم اپنی زخمی ٹانگوں اور کچلی ہوئی کمر اور سینے کو گھسیٹتے ہوئے کھوہ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے وطن کی ناموس پر ناپاک عفریت منڈلا رہا تھا۔ اور میں بے بس و لاچار اپنی عزت بچانے کے لئے گھسٹ رہا تھا۔ اے کاش میری بینائی اندھی ہو جائے۔ میری سماعت بہری ہو جائے۔ میرا یہ ناکارہ وجود مٹی ہو جائے۔ میں موت کا آرزومند تھا۔ اور موت کسی اور کی تلاش میں۔ ،

وہ اسے دبوچنے نیچے جھکا۔ لڑکی کے خوفزدہ چہرے پر بے بسی کے سائے اور زیادہ گہرے ہو گئے۔ وہ اپنا بچاؤ نہ پا کر اپنے آپ کو گھسیٹتے ہوئے، پیچھے ہٹنے لگی۔ سر سے ڈھلکی چادر کو ایک ہی جھٹکے سے شانوں سے گرا دیا۔ اور پلک جھپکنے میں نیچے گہری کھائی میں، سرکے بل جھٹکا کھا کر کود گئی۔

میری آنکھوں کے آگے بجلی کو ندی۔ کڑک اور گرج کی آواز آئی۔ چنگاریاں اٹھیں۔ پل بھر کے لئے سانس ٹھہر گئی۔ یک دم سینے سے گہری آہ اٹھی۔ آنکھیں مندھ گئیں، جیسے بیمار کو قرار آ گیا ہو۔ طمانیت کی لہر وجود میں رچ گئی۔ کلیوں کے مرجھانے اور پھولوں کے پتی پتی ہو کر بکھر جانے پر دکھ ہوتا ہے۔ جوان موت پر سنگدل بھی رو دیتا ہے۔

مگر میں اس موت پر دکھی نہ تھا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا۔ مان لو کہ میں نے شکر کا کلمہ ادا کیا۔

بے آئین علاقے کی دوشیزہ اپنی آبرو کی آپ محافظ بنی۔ اطمینان اور آسودگی کے احساس نے مجھے سرشار کر دیا۔ گہری نیند سو گیا تھا کسی اگلے دن جاگا۔ بدن میں کسی قدر توانائی محسوس ہوئی۔ زندہ رہنے کی آرزو پیدا ہوئی۔ جسم کے درد میں کمی آ چکی تھی۔ ہولے ہولے کھائی سے باہر آ گیا۔

زخمی وجود کو گھسیٹتے ہوئے میں کافی دور نکل آیا۔ اجلے پانی کی چھوٹی سی ندی بہہ رہی تھی۔ ستھرا پانی ندی کی سطح کے کنکروں سے ٹکرا رہا تھا۔ کنارے کے آس پاس کا سنی پھول نرم و نازک شاخوں پر جھول رہے تھے۔ ایک تیز لہر ندی میں پڑے سلیٹی پتھروں سے ٹکرا کر اچھلی۔ ٹھنڈے پانی کی چھینٹیں اڑیں۔ آنکھیں جھپک گئیں۔

میری نظروں کے سامنے چھپاکا ہوا۔ کنکریوں کی سیج پر ایک مرمریں مورت ہاتھ پاؤں پسارے گہری نیند میں تھی۔ چہرے پر کھنڈی زردی مائل سفیدی میں ٹھوڑی کا سبز خال زمرد کی طرح دمک رہا تھا۔ ماتھے پر پڑی بالوں کی سیاہ جھالر میں لہو کے ارغوانی قطرے چپکے ہوئے تھے، اور نشیب میں اترتی برف کی تیز پھوار اس مرمریں مجسمہ کو اپنے سفید آنچل میں چھپا رہی تھی۔

Latest posts by مشرف مبشر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments