راولپنڈی بھٹو خاندان کے لئے کربلا کیوں؟

احتساب اور انتقام فرق کیا ہے نذیر ڈھوکی گذشتہ تقریباً 6 سال سے قومی احتساب بیورو سرگرم ہے، مگر اس کی سرگرمی صرف حکومت مخالفین تک محدود ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ قومی احتساب بیورو کا ریمورٹ کنٹرول وقت کے بادشاہ سلامت کے پاس رہا ہے، ہمارے پیارے پاکستان میں احتساب کی کہانی پرانی ہے پاکستان میں احتساب نامی بے بی نے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب کے بنجر ذہنیت سے جنم لیا سول اور ملٹری بیوروکریسی نے اسے ایبڈو کا نام رکھا، ایبڈو کے ذریعے بے شمار سیاستدانوں کو نا اہل قرار دیا گیا، یہ زمانہ 1958 کا زمانہ تھا، ٹھیک 20 سال بعد ایک اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے احتساب کو سیاسی ہتھیار کے طور استعمال کیا اور فوجی آمریت کی مخالفت کرنے والوں کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر سیاست سے بیدخل کردیا، یہ انتہائی گھناونی فعل تھا کہ میان نواز شریف نے احتساب کو بطور ہتھیار استعمال کرکے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے لئے وطن کی دھرتی تنگ کردی ابھی وہ محترمہ بینظیر بھٹو کو سیاست سے بیدخل کرنے کی مشق پر عمل پیرا تھے تو ایوان اقتدار سے اٹھاکر اٹک قلعے پھینک دیے گئے۔

Read more

درد این آر او کا ہے یا اٹھارہویں ترمیم کا؟

ہمارے ملک کی سیاست میں پکڑو، مارو، جانے نہ پائے کی سوچ کا عنصر شامل رہا ہے۔ اس سوچ نے معاشرے میں عدم برداشت کے رویوں کو پروان چڑھایا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارا پیارا وطن جو ایک جمہوریت پسند سیاستدان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے بنایا تھا بے شک اس ملک کی بنیاد میں ان گنت شہیدوں کا خون اور قربانیاں شامل ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ پے در پے آمریتوں کے بعد جب بھی جمہوریت بحال ہوئی آگ و خون کے دریا عبور کرکے بحال ہوئی۔

اکتوبر 1999 ء میں مشرف آمریت کے خلاف یہ پہلو زیر بحث رہا کہ اس بار جب بھی جمہوریت بحال ہوگی کیا پرامن طریقے سے بحال ہوگی؟ اس بحث کی بنیاد یہ تھی کہ معزول وزیراعظم نواز شریف مشرف کی آمریت کی تاب نہ لا کر خاندان سمیت جلا وطن ہوگئے۔ عدالت عظمی نے جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدام کو نہ صرف تحفظ دیا بلکہ انہیں آئین میں من مانی ترامیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا جو خود عدالت عظمیٰ کے پاس بھی نہیں تھا۔ فوجی آمر جنرل مشرف وردی سمیت ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔

Read more