دن نہیں سوچ بدلو
کچھ دنوں سے ایک نیوزانٹرنیٹ پر زیر گردش ہے کہ ایک نجی یونیورسٹی نے ویلنٹائن ڈے کو سسٹرز ڈے کے طور پر منانے کا علان کیا ہے اور تمام ہمارے بھائی اس اعلان کو بہت خوش آئن اقرار دے رہے ہیں۔ یعنی ویلنٹائن ڈے کو مغرب کا تہوار کہنے والے اب اس دن کو ہندووں کے رکشا بندھن کے طور منا رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس دن کو تبدیل کرنے کی وجہ ہی آخر کیوں محسوس ہوئی ہے؟
اس مسئلے کی سب سے بڑی جڑ ہمارا دماغ ہے اس کو ہم جس سوچ کے لئے استعمال کریں گے ہمیں رزلٹ بھِی اسی طرح ہی کے ملیں گے۔ ہمارے کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ سوچ انجیکٹ کر دی گئی ہے کہ اس دن لڑے اور لڑکیاں مل کچھ غلط کام کرتے ہیں مجھے ان لوگوں کی سمجھ نہیں آتی جو ایسا سوچتے ہیں، کیا ان لڑکوں یا لڑکیوں کو باقی 364 دن میسر نہیں جو وہ صرف اسی دن ہی یہ کام کریں گے یہ لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ دن گندہ نہیں ہے بلکہ ہمارے کچھ لوگوں کی سوچ اس کو بدبو دار بناتی ہے۔
Read more
