اپنی شناخت پر فخر کیجئے

آج سے تقریباً 4 سال پہلے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تو کئی دھچکے اور جھٹکے میرے منتظر تھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ سوشل میڈیا پہ آتے ہی میرا پہلا ٹاکرا ہی ان لوگوں سے ہوا جن کے نزدیک وطن سے محبت، دین سے لگاٶ، اپنے مشاہیر کے تذکرہ اسلامی شعائر سمیت ایک لمبی فہرست ان چیزوں کی تھی جن کا محض نام لینے کا مطلب تھا اپنی بھد اڑانا، تضحیک کروانا اور خود کو طعن و تشنیع کی توپوں کے دھانے پر بٹھا دینا۔ میرے لئے یہ ایک بالکل نیا جہان تھا جہاں دن رات مطالعٕہ پاکستان اور اسلامیات کی بھد اڑائی جاتی۔

Read more

یا منافقت۔ تیرا ہی آسرا!

کل میں نے اپنے بیٹے کو ریاضی کا ایک سوال حل کروایا، آج جب وہ سکول سے واپس آیا اور میں نے حسبِ معمول اس کا کام چیک کیا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ اس کے ریاضی کے ٹیچر نے میرا حل شدہ سوال تو درکنار، وہ فارمولہ بھی غلط قرار دے دیا تھا جو میں نے وہ سوال حل کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس میں غصہ کرنے والی کیا بات ہے؟ خدا کے بندو۔ میں ایک اعلٰی تعلیم یافتہ خاتون ہوں، کیا ہوا اگر ریاضی میرا مضمون نہیں تھا میرا چھوٹا بھائی تو ایک انجینئر ہے تو کیا مجھے اتنا حق نہیں پہنچتا کہ میں اپنے انداز سے ریاضی کا ایک سوال ہی حل کر سکوں۔

Read more

مولوی کس نے بنایا۔۔۔ جواب آں غزل!

گزشتہ روز ایک ڈاکٹر صاحبہ کا ایک آرٹیکل بعنوان ''مولوی کس نے بنایا'' اتفاقاً نظر سے گزرا۔ ڈاکٹر صاحبہ کی پیشہ وارانہ مہارت میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کے میدانِ طب سے متعلق مضامین سے مستفید ہونے والوں میں میرا بھی نام شامل ہے۔ لیکن ان محترمہ نے جب بھی کبھی اپنے شعبے…

Read more