لاہور کا سرکاری مسافر خانہ
مقید زندگی اور حبس زدہ ساعتوں کے روندے ہوئے جامعہ جی سی لاہور کی پر لطف فضا، رنگارنگی، چہل پہل، خوب صورت چہرے، لائبریری میں کتابیں کھنگالتے، آزاد زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے دوست و رفیق مادر علمی عابد علی کے ہمراہ جامعہ جی سی سے نکلا۔ سبزہ سونے کو کالی چادر اوڑھ رہا تھا۔ ہر چیز پر سیاہ لحاف چڑھایا جا رہا تھا۔ رستوں کے کنارے کھڑے لمبے لمبے سلم کھمبوں کے سروں پر لگی روشنیاں رستوں کی نشان دہی کر رہی تھیں۔
گاڑیاں اپنی لمبی اور پھیلتی ہوئی روشنیوں سے اپنے ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ عابد نے کہا آج ہم اپنے ہاسٹل نہیں جائیں گے اول تو مجھے حیرانی ہوئی وجہ پوچھی تو عابد نے کہا آج ہم مسافر خانہ جائیں گے۔ ایسا ہی ہمارا اک روز پہلے کا بھی ارادہ تھا لیکن جھجک کی وجہ سے مؤخر کر دیا۔ تو میں نے بھی کہا چلو یار چلتے ہیں زندگی کا تجربہ ہی سہی۔ ہم دونوں گفت و شنید کرتے داتا دربار مسافر خانے کی طرف تیز تیز قدم بڑھاتے چلنے لگے۔
Read more
