لاہور کا سرکاری مسافر خانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقید زندگی اور حبس زدہ ساعتوں کے روندے ہوئے جامعہ جی سی لاہور کی پر لطف فضا، رنگارنگی، چہل پہل، خوب صورت چہرے، لائبریری میں کتابیں کھنگالتے، آزاد زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے دوست و رفیق مادر علمی عابد علی کے ہمراہ جامعہ جی سی سے نکلا۔ سبزہ سونے کو کالی چادر اوڑھ رہا تھا۔ ہر چیز پر سیاہ لحاف چڑھایا جا رہا تھا۔ رستوں کے کنارے کھڑے لمبے لمبے سلم کھمبوں کے سروں پر لگی روشنیاں رستوں کی نشان دہی کر رہی تھیں۔

گاڑیاں اپنی لمبی اور پھیلتی ہوئی روشنیوں سے اپنے ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ عابد نے کہا آج ہم اپنے ہاسٹل نہیں جائیں گے اول تو مجھے حیرانی ہوئی وجہ پوچھی تو عابد نے کہا آج ہم مسافر خانہ جائیں گے۔ ایسا ہی ہمارا اک روز پہلے کا بھی ارادہ تھا لیکن جھجک کی وجہ سے مؤخر کر دیا۔ تو میں نے بھی کہا چلو یار چلتے ہیں زندگی کا تجربہ ہی سہی۔ ہم دونوں گفت و شنید کرتے داتا دربار مسافر خانے کی طرف تیز تیز قدم بڑھاتے چلنے لگے۔

باتوں کے چٹخاروں اور دنیا کی رنگا رنگی میں گرتے پڑتے مسافر خانہ داتا دربار جا پہنچے۔ داخلی دروازے پر کھڑے چوکیدار سے کہا ہم رات رہنا چاہتے ہیں مسافر ہیں۔ پوچھا گیا، ”کہاں سے ہو؟“ جواب دیا ”اوکاڑہ سے ہیں یہاں طالب علم ہیں۔ رات ہونے کی وجہ سے گھر نہیں جا سکتے، جامعہ میں ضروری کام آئے تھے دیر ہو گئی۔“ چوکیدار نے کہا شناختی کارڈ دکھاؤ۔ میرے پاس تو کارڈ تھا ہی نہیں البتہ جامعہ کا کارڈ تھا لیکن عابد کے پاس شناختی کارڈ بھی تھا اس نے نکال دکھایا۔

چوکیدار نے کہا عابد تو جا سکتا ہے آپ نہیں اندر جا سکتے۔ ہم دونوں نے حسرت بھری نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر ہم آواز ہو کر درخواست کی کہ اس رات ہم کہاں جائیں، ہم طالب علم ہیں۔ ایک کے پاس تو شناختی کارڈ ہے اس نے کہا صاحب سے پوچھتا ہوں یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا ہم وہیں دروازے پر کھڑے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ صاحب کو ہمراہ لے آیا۔ اس سے بھی وہ ہی بات کہہ دہرائی۔ عابد کا کارڈ ایک دو بار الٹ پلٹ کر دیکھا، چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے چوکیدار کو حکم دیا انہیں آنے دو۔ اس کشمکش میں دروازہ یہ کہہ کر بند کر دیا گیا کہ اندر اندراج کی جگہ لمبی قطار ہے جب ان کا اندراج ہو گیا آپ کو اندر بلوایا جائے گا۔ ایک بار پھر ہم باہر کھڑے رہ گئے۔

اس بار آواز آنے میں تقریباً آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگ گیا۔ اس دوران ہم نے ایک دوسرے سے کہا یار اپنے ہاسٹل ہی چلے جاتے یہاں خواہ مخواہ تذلیل کروا رہے ہیں۔ کبھی ہاں میں ہاں تو کبھی ناں میں ناں۔ اسی دوران میرے عزیز دوست طاہر رشید (جو کہ آرمی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ) کا فون آ گیا میں اس سے امروز ایام کی باتوں میں لگا رہا لیکن عابد بے چارہ کبھی بجھی بجھی آنکھوں سے مجھے دیکھتا کبھی دروازے کی سیاہ مضبوط سلاخوں کو دیکھتا، کبھی سڑک پر ہنستی مسکراتی دکھی زندگی کی حرکات و سکنات کو دیکھتا رہتا۔

اندر قطار ختم ہوئی، ہمیں اندر جانے کی اجازت مل گئی لیکن اس بار اندر سے زیادہ باہر کی قطار لمبی تھی۔ داخل ہوتے ہی پہلے تو سب کے ہاتھ اچھی طرح سے دھونے کو کہا گیا۔ مکمل تلاشی لی گئی کہ آیا کوئی اسلحہ یا نشہ آور چیزیں تو نہیں۔ پھر حرارت چیک کرنے والے آلہ سے ٹمپریچر چیک کیا گیا۔ اندراج والی جگہ سماجی فاصلے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہر فرد میں فاصلہ رکھا گیا۔ آخر اندراج ہوا۔ عابد کو 107 اور مجھے 111 بیڈ نمبر ملا۔

جو بالائی منزل کے ہال نمبر 7 میں تھے۔ مسافر خانہ صاف ستھرا، عملہ بھی با اخلاق اور ہر کام کھرا تھا۔ ہال نمبر 7 میں داخل ہوئے اپنے اپنے بیڈ دیکھے جو صاف ستھرے اور سلیقے سے ترتیب دیے گئے تھے۔ چھوٹے کمروں میں دو قطاریں تھیں، دو بیڈ ایک اوپر تھے۔ ہر قطار یعنی دو بیڈز کے لیے ایک ائر کولر اور ایک چھت والا پنکھا تھا۔ بڑے کمروں میں تین تین چار چار قطاریں بھی تھیں وہاں بھی ہر قطار کے لیے ایک ایک بڑا ائر کولر تھا۔ فرش بھی اجلا، جو برقی روشنیوں سے چمک رہا تھا۔

مسافر خانہ دو منزلوں اور تقریباً 140 بیڈز پر مشتمل تھا۔ مجھے تو بھوک پہلے ہی بہت لگی ہوئی تھی میں نے عابد سے سرگوشی کی ”پہلے کھانا کھا لیں“ اس نے بھی کہا ٹھیک ہے۔ ہمارے کمرے کے سامنے والے کمرے میں دسترخوان بچھا ہوا تھا، پانی کے جگ بھی سماجی فاصلے پر عمل کرتے ہوئے فاصلوں میں رکھے جا رہے تھے۔ میں، عابد اور اک اجنبی لڑکا ہم دسترخوان پر جا بیٹھے۔ وہاں دری، جگ، گلاس اور سنگ و خشت کے سوا پنکھے اور روشنیاں بھی ہمیں گھور رہی تھیں۔

ہم تینوں میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہوا۔ گفتگو کے دوران کبھی میں عابد کو دیکھوں، کبھی عابد مجھے۔ طلب کھانے کی تھی لیکن کھانے میں تاخیر تھی۔ پھر چند لمحات کے بعد اجنبی چہرے پے درپے دستر خوان پر براجمان ہونے لگے ہم دونوں نے آنکھوں سے اشارہ دے دیا کہ اب انتظار ختم ہونے والا ہے۔ کھانا آنا شروع ہوا کھانے میں چاول دو قسم کے میٹھے اور نمکین۔ کھانا تقسیم کیا گیا۔ ہم نے ملتے ہی کھانا شروع کر دیا۔ اسی اثنا میں وہ ہی صاحب جس نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی۔

اس نے مسافر خانے میں رہنے کے اصول و ضوابط با آواز بلند سب کو بتائے۔ جیسا کہ کھانا ضائع۔ نہیں کرنا۔ اٹھتے ہوئے دیواروں سے ہاتھ نہیں ملنے۔ اپنے سامان کی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایک بیڈ پر دو لوگ بیٹھیں گے بھی نہیں عملے کے بغیر کوئی روشنیاں بلند نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ میرا تو سارا دھیان اپنی پسندیدہ خوراک پر تھا سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ آب و طعام کے بعد ہم اپنے بیڈز پر پہنچے تو میں نے ایک بار پھر عابد کے کانوں میں سر گوشی کی نہاؤں نہ تو مجھے نیند نہیں آتی اس نے تیز آواز سے کہا تو نہا لو۔

میں سارا سامان عابد کے حوالے کر کے نہانے چلا گیا۔ وہاں نہانے کا بھی اچھا انتظام تھا۔ باتھ روم بھی صاف تھے۔ تھوڑی بہت مٹی تھی جو اجنبیوں کے جوتوں پر لاہور کی سڑکوں نے مل دی تھی۔ نہا کر سارے مسافر خانے کا جائزہ لے کر واپس بیڈ پر آ گیا۔ عابد کو بتایا کہ اگلے کمرے میں ایک قطار خالی ہے ائر کولر کی ہوا بھی آئے گی وہاں چلتے ہیں ہم دونوں نے سامان سمیٹا بڑے کمرے میں جا پہنچے۔ بستہ اور کتابیں رکھیں بستر سنبھالا اور لیٹ گئے۔

پتا ہی نہیں چلا کب باتوں باتوں میں نیند آ گئی۔ صبح اٹھے ہاتھ منہ دھو، وضو کر کے نماز ادا کی اتنے میں ناشتہ دسترخوان پر لگ چکا تھا۔ دستر خوان پر اپنی پلیٹ کپ سنبھالا۔ ایک بار پھر نامانوس آنکھیں مانوس چہروں کی تلاش میں سر گرم تھیں ہم بھی چاروں اطراف نظریں گھما دیتے اور باتوں میں مشغول ہو جاتے۔ ناشتہ جس میں بریڈ، جیم اور مکھن کی چھوٹی چھوٹی دو ڈبیاں اور ساتھ چائے۔ ناشتہ ختم کر کے اپنا سامان لئے دروازے پر جا پہنچے وہاں اک بار پھر سے تلاشی لی گئی بستہ بھی کھنگالا گیا۔ تلاشی دے، بستہ کمر پر لاد اور دروازے سے نکل کر اپنی راہ لی۔

حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ مجھے تو بہت پسند آیا۔ مسافر خانہ میں فیملی کے لئے الگ کمرے ہیں۔ صاف ستھرا ماحول خوش اخلاق عملہ بہترین کھانا جتنا چاہیں کھائیں کوئی پابندی نہیں۔ لیکن دو چیزوں کی کمی محسوس ہوئی ایک مسجد اور دوسرا باتھ روم میں صابن کا نہ ہونا۔ پردیسی مسافروں کے لئے بہت ہی بہترین جگہ ہے۔ یہاں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ اگر شہر لاہور یا جہاں جہاں مسافر خانے قائم ہیں وہاں پردیسی ہے تو فکر مند نہ ہوں۔ بس آپ کے پاس شناختی کارڈ ہو نا لازم ہے۔
جو آخرت میں کسی مشکل سے بچنا چاہتا ہو وہ دنیا میں دکھی انسان کی مشکل حل کر دے انشا اللہ، اللہ رب العزت اس کی روز محشر مشکل آسان فرمائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رائے عرفان نور کی دیگر تحریریں