ایک عام آدمی کا تصور سلطنت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارون دھتی رائے کی یہ کتابordinary person’s guide to empire کا ا اردو ترجمہ ہے اس کا اردو ترجمہ ”شفیق الرحمن میاں“ نے کیا ہے۔ کتاب کا ا انتساب ان کے نام ہے جو مزاحمت پہ یقین رکھتے ہیں۔ ”وین گارڈ بکس“ نے یہ کتاب شائع کی ہے یہ کتاب چودہ ابواب پہ مشتمل ہے۔

معروف دانشور ارون دھتی رائے ایک آزاد اور باغی روح ہے وہ خود لکھتی ہیں ”سچی روحیں اور ہوتی ہیں“۔ ان کے افکار اور تحریریں چونکا دینے والی ہوتی ہیں ا ان کا کام قابل تحسین ہے۔ ان کے افکار میں نوم چومسکی کے فکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے بحثیت ایک عورت بہت دلیری سے اپنا مقدمہ پیش کرتی ہیں

پرامن مزاحمتی تحریکوں کو دنیا بھر میں کچلا جارہا ہے ارون دھتی رائے کا موضوع ہی ”طاقت اور اس کی بد دماغی و بے رحمی ہے“ وہ طاقت ہی کی طبیعات ک متعلق لکھتی ہیں کتاب کا پہلا باب ”اہنسا“ ہے لکھتی ہیں : ”نرمدا بچاؤ اندولن صرف بڑے ڈیموں کے خلاف جدو جہد نہیں کر رہی بلکہ اس نے بھارت کے اس عظیم تحفے کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے جو آخرالذکر عالمی برادری کی نظر کر رہا ہے وہ تحفہ ہے“ پرامن مزاحمت یعنی اہنسا ”آپ اسے اہنسا بچاؤ اندولن یا غیر مزاحمتی تحریک بھی کہہ سکتے ہیں“

دوسرے باب میں ”آؤ ستمبر کی بات کریں“ اس میں نائن الیون کی برسی منانے کے حوالے سے انتہائی جرأت اور بیباکی کے ساتھ طاقت کے بدنما اور سیاہ چہرے کاپردہ چاک کرتی ہیں۔ لکھتی ہیں میں اور میرے جیسے لاکھوں لوگ جوہری ہولو کاسٹ کے زیر سایہ رہ رہے ہیں بھارت میں جن لوگوں نے جوہری بموں ؛بڑے بڑے ڈیموں ؛کارپوریٹ عالمگیریت اور فرقہ وارانہ ہندو فسطائیت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر حکومت سے مختلف خیالات کا اظہار کیاتو ایسے لوگوں پر ”ملک دشمن“ یا ”قوم دشمن“ کا لیبل چسپاں کر دیا گیا۔

امریکہ میں بھی یہی صورتحال ہے اس طرح آواز حق کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ بغاوت کو دبانا ا اس کی آبیاری کرنے کے مترادف ہے۔ جیسے وہ خودموجودہ بھارتی حکومت کی فسطائی پالیسی پہ شرمندہ اور برہم ہیں بہت سے امریکی بھی حکومتی پالیسیوں سے اختلا اف رکھتے ہیں ”جب باقی ماندہ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ امریکی حکومت کے ارادے کیا ہیں؟ ہم ایڈورڈ سعید، ولیم بلم، اینتھنی آرنوو، نوم چومسکی، ہاورڈ زن، ایڈ ہرمن اور ایمی گڈ مین کی سمت رجوع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حقائق سے آگاہ کریں“ اور اگر امریکی ان کا مطالعہ کر لیں تو ہم سے پوچھیں کہ تم نے ہمیں معاف کیوں کر رکھا ہے

وہ بھارت میں مسلمانوں کی گجرات میں منظم نسل کشی اور وادئِ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی پر بھی شرمسار و برہم ہیں اس طرح کے مظالم سے چشم پوشی اختیار کر کے حکومت نے خود ہی بھارت دشمنی راہ اختیار کر رکھی ہے

رنج و الم کا کاروبار جو عوام کے خلاف خوفناک متشددانہ اقدام ہے جیسے عراق کے خلاف رنج و الم کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا گیا اور یہ ٹی وی کے ان خصوصی پروگراموں کے ذریعے کیا گیا جن کی سرپرستی صابن اور جوتے بیچنے والی کمپنیاں کر رہی تھیں۔ چلی میں قتل و غارتگری کا بازار سولہ سال جاری رہا۔ اگست 1945 کے بعد کتنے ستمبر آئے جب ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر جوہری بم برسا کر لاکھوں عوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ 11 ستمبر 1922 برطانوی حکومت عربوں کے غم و غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان ک رہی تھی کہ اسے فلسطین پہ حکومت کا حق ہے۔ 11 ستمبر 1990 امریکہ کے صدر جارج بش نے عراق پر حملے کا اعلان کیا۔ 11 ستمبر 2001 اب ہم امریکہ کے دوسرے ہتھیار ”آزاد مارکیٹ“ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

یہ وہ کامل جنگ ہے جو امریکی سامراج کی کبھی نہ ختم ہونے والی توسیع پسندانہ خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ کارپوریٹ عالمگیریت کا سرا لوگوں کی زندگیوں کو چیر کر ان کے اندر گھس رہا ہے دنیا بھر میں آزاد مارکیٹ مغربی منڈیوں کو تحفظ دے رہی ہے۔

نوم چومسکی کی تنہائی بارے لکھتی ہیں کہ س تنہائی نے ہمارے دور کے عظیم ؛حد درجہ انقلابی اور عوامی مفکر کو جنم دیا۔

جب سلطنت سے محاذ آرائی کی بات ہو تو سلطنت کا مطلب کیا لیا جاتا ہے؟ امریکہ؛عالمی بینک؛عالمی مالیاتی فنڈ؛عالمی تجارتی تنظیم؛ملٹی نیشنل کارپورشنیں؟ یا مذہبی کٹر پن؛ فسطائیت اور دہشت گردی؟ یا پھر سامراجیت اور اشرافیہ؟ یہ طاقت کا لغو اور واحیات ارتکاز ہے جو چیز وہ فروخت کر رہے ہیں ہم انہیں خریدنے سے انکار کر دیں۔

ارون دھتت رائے پوری دنیا میں ظلم و بربریت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں وہ گوانتانا موبے میں ہو یا افغان مزار شریف میں اذیت ناک مردم کشی ہو۔ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر اس کے خلاف مطالبات سامنے آنے لگے۔ ملک دشمنی کا لیبل لگنے لگا۔

ارون دھتی جیسے لوگ ہی اس معاشرے کا ضمیر ہیں جہا ں اکثریت اپنے حقوق اور استحصال کا پتہ نہیں چل رہا ہوتا۔ یہ کتاب عام آدمی کے تصور سلطنت کو واضح کرتی ہے اور سامراجی قوتوں سے نجات کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راشدہ بھٹہ کی دیگر تحریریں
راشدہ بھٹہ کی دیگر تحریریں