گراٹو جلیبی

گزرے وقتوں کی بات ہے ایک لوہار کی مری روڈ پنڈی کے مشہور بینڈ ماسٹر سے دوستی ہو گئی۔ دوستی اتنی گہری تھی کہ لوہار کو اپنے کاروبار سے زیادہ بینڈ ماسٹر دوست کے یہاں نوکری کی خواہش بے چین کرتی اور اس کا دل لاہور سے زیادہ پنڈی کی ہواؤں میں پر سکون رہتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پنڈی مری روڈ کی شیریں سوغات گراٹو جلیبی کا دل فریب ذائقہ تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا دوست جب لوہار کو مدعو کرتا تو پائے نہاری کھلانے کے بعد مری روڈ کی گراٹو جلیبی لازمی کھلاتا تھا اور لوہار کو گراٹو کی ایسی عادت پڑ گئی جو اس کے لئے کسی نشے سے کم نہی تھی لیکن وہ اب دل کی خواہش اپنے دوست کو بتانے سے شرماتا تھا، کہ کیسے اپنے دوست سے کہوں، میں لوہے کی بھٹی اور کوئلوں کی کالک سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ مجھے اپنے یہاں نوکری پہ رکھ لے، تا کہ چہرہ بھی تر و تازہ رہے اور روز گراٹو جلیبی کھا سکے، نیز مری روڈ پر ون ویلنگ کا لطف اٹھا سکے۔ بینڈ ماسٹر سے دوستی کا یہ فائدہ بھی تھا، کوئی ٹریفک وارڈن اس کا چالان بھی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔

Read more