گراٹو جلیبی


گزرے وقتوں کی بات ہے ایک لوہار کی مری روڈ پنڈی کے مشہور بینڈ ماسٹر سے دوستی ہو گئی۔ دوستی اتنی گہری تھی کہ لوہار کو اپنے کاروبار سے زیادہ بینڈ ماسٹر دوست کے یہاں نوکری کی خواہش بے چین کرتی اور اس کا دل لاہور سے زیادہ پنڈی کی ہواؤں میں پر سکون رہتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پنڈی مری روڈ کی شیریں سوغات گراٹو جلیبی کا دل فریب ذائقہ تھا۔

بڑی بڑی مونچھوں والا دوست جب لوہار کو مدعو کرتا تو پائے نہاری کھلانے کے بعد مری روڈ کی گراٹو جلیبی لازمی کھلاتا تھا اور لوہار کو گراٹو کی ایسی عادت پڑ گئی جو اس کے لئے کسی نشے سے کم نہی تھی لیکن وہ اب دل کی خواہش اپنے دوست کو بتانے سے شرماتا تھا، کہ کیسے اپنے دوست سے کہوں، میں لوہے کی بھٹی اور کوئلوں کی کالک سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ مجھے اپنے یہاں نوکری پہ رکھ لے، تا کہ چہرہ بھی تر و تازہ رہے اور روز گراٹو جلیبی کھا سکے، نیز مری روڈ پر ون ویلنگ کا لطف اٹھا سکے۔ بینڈ ماسٹر سے دوستی کا یہ فائدہ بھی تھا، کوئی ٹریفک وارڈن اس کا چالان بھی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔

لوہار کو ایک ترکیب سوجھی اس نے لاہور اپنے غریب کھانے پر ایک دعوت کا اہتمام کیا اور بینڈ ماسٹر کو مدعو کیا اور اپنے باپ سے کہا بینڈ ماسٹر میرا دوست ہے مجھے کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، آپ اس سے میری نوکری کی بات کر لیں۔ میرا اب لاہور دل نہی لگتا اور گراٹو کھائے بغیر مجھے نیند نہی آتی۔ باپ کو بیٹے کی حالت پہ ترس آیا اور دعوت کے اختتام پر لوہار کے باپ نے ہمت کر کے بینڈ ماسٹر سے درخواست کی کے میرا بیٹا پنڈی رہنے کا بہت خواہش مند ہے، آپ اسے اپنے یہاں نوکری پہ رکھ لیں، تو ہمارے لئے باعث توقیر ہو گا۔

بینڈ والے دوست نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تاؤ دیا اور کہا، آپ بزرگ ہیں لوہار بھی دوست ہے۔ آپ کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پنڈی میں نوکری کے لئے کچھ عرصے آپ کے بیٹے کو تربیت کی ضرورت ہے۔ اس کا بندوبست بھی میں کر دوں گا، لیکن ابتدائی تربیت کے لئے انھیں لاہور میں مشقیں کرنا ہوں گی۔ اتنے وقت میں باقی منتظمین کو اعتماد میں لے کر پنڈی نوکری پکی کروا دوں گا، آپ اعتماد رکھیں۔

لوہار نے کچھ عرصے دل جما کر مشقیں کیں، تا کہ پہلے امتحان ہی میں اپنا لوہا منوا سکے۔ ادھر بینڈ ماسٹر نے اپنے بینڈ کے تمام منتظمین کے یہاں لوہار کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے۔ کچھ ہی عرصے میں مری روڈ پنڈی کے تمام بینڈ والوں کے یہاں لوہار کے چرچے ہونے لگے۔ اب روز روز پنڈی آنا جانا شروع ہوا اور گراٹو کھانے کا موقع ملتا۔ لوہار بینڈ والوں کی نوکری نہایت ایمان داری سے سرانجام دیتا اور ہر ساز خوش اسلوبی سے بجاتا۔ مری روڈ والے لوہار سے بہت خوش تھے۔

اچانک ہی لوہار کا دوست بینڈ ماسٹر ایک حادثے کا شکار ہو کر جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ لوہار کو خبر ملی تو صدمے سے نڈھال ہو گیا۔ اپنی نوکری جانے کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے، فوراً پنڈی پہنچا اور دوست کے جنازے کو سلامی دی، اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ یہ دوست صرف میرا دوست نہیں تھا، میرے لئے باپ کا درجہ رکھتا تھا۔ میں اس کی روحانی اولاد اور جاں نشین ہوں۔ میں اس کا مشن پورا کروں گا اور اس کے یتیم بچوں کی پرورش بھی میری ذمہ داری ہو گی۔ ان جذبات کا اظہار کر کے لوہار نے مری روڈ کے تمام بینڈ والوں کا اعتماد حاصل کر لیا اور مستقل مری روڈ کی سکونت اختیار کر لی۔

لیکن دوست کی وفات کے بعد لوہار کو ہر وقت نوکری جانے کا خدشہ لاحق رہتا۔ حتی کے اس نے بینڈ والوں کے ایک جوان لڑکے سے اپنی کم عمر بیٹی بیاہنا پڑی تا کہ اس کی وفاداری پر آنچ نہ آ سکے اور دوستی بھی رشتہ داری میں بدل جائے۔

لوہار بخوبی اپنی نوکری سرانجام دیتا رہا اور روز مری روڈ آ کر گراٹو جلیبی کا لطف اٹھاتا، لیکن لوہار کی ون ویلنگ کی عادت شدت پکڑ گئی اب لوہار کو جب بھی موقع ملتا، وہ مری روڈ پر ون ویلنگ کرتا اور بینڈ والوں سے دوستی کا خوب فائدہ اٹھاتا۔ حسب معمول ایک دن لوہار ون ویلنگ کو نکلا۔ اس بار اس نے ستر سی سی موٹر سائیکل کا سائلنسر بھی نکال رکھا تھا۔ پھٹ پھٹ کی آوازیں نکالتا، مری روڈ پر دندناتا پھرتا اور بد مست ہاتھی کے مانند اس نے بینڈ والوں کے سب سے قابل بینڈ ماسٹر عہدیدار کو مری روڈ کے وسعت میں اوورٹیک کیا اور منہ چڑاتے ہوئے روند دیا اور خوب زخمی کر ڈالا۔

بینڈ والوں پہ یہ بات انتہائی ناگوار گزری اور لوہار کو بالآخر اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔ منت سماجت کے بعد صلح صفائی اس شرط پر ہوئی کہ لوہار اب کبھی پنڈی کا رستہ نہی لے گا اور لاہور میں ہی قیام پذیر رہے گا اور لوہار کو کم از کم ایک دہائی تک مری روڈ کی گراٹو جلیبی بھی نہیں ملے گی۔ لوہار نے جان بچنے کو غنیمت جانا اور وقت گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔

بہت بار لوہار کا دل چاہا کہ دوبارہ پنڈی جاؤں اور گراٹو کھا سکوں، لیکن معاہدے کا پابند تھا۔ وقت بہت دیر سے گزر رہا تھا اور بینڈ والوں کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ان کا واویلا بھی بجا تھا۔ انہوں نے لاہور سے بلا کر پنڈی نوکری دی۔ جلیبیاں کھلائیں۔ ون ویلنگ کی اجازت دی، مگر لوہار تو انہی کو کچلنے لگا۔

لوہار سے رہا نہ گیا اس نے ارادہ کیا کے وہ پنڈی جائے گا اور گراٹو کھا کر ہی دم لے گا۔ اس بات کا علم جب بینڈ والوں کو ہوا تو انھوں نے معاہدہ دکھا کر گوجر خان ہی سے لوہار کو واپس بھیج دیا کہ دس سال سے پہلے تمھیں گراٹو جلیبی بالکل کھانے کو نہیں ملے گی۔ لوہار کو بالآخر واپس جانا پڑا۔

لوہار نے ہمت نہ ہاری اور بینڈ والوں کی منت سماجت جاری رکھی اور بالآخر وقت گزر گیا بینڈ والوں کو بھی کوئی مناسب اور تابع فرمان امیدوار نوکری کے لئے نہ مل سکا، تو انہوں سے لوہار کی معافی قبول کر کے، ایک بار پھر لاہور کی مشق کروائی لوہار نے ہنسی خوشی دوبارہ سے نوکری نئے ولولے اور عزم سے شروع کی اور تابع فرمانی کی مثال قائم کی، تا کہ جلد از جلد پنڈی کی سکونت دوبارہ مل جائے اور گراٹو جلیبی کی بھینی بھینی خوشبو سے ایک بار پھر لطف اندوز ہوا جائے۔

لوہار کو کامیابی ہوئی اور بینڈ والوں نے لوہار کی تابع فرمانی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، پنڈی کے منصب پر فائز کر دیا۔ لیکن اب لوہار خاصا بوڑھا ہو چکا تھا۔ مزاج میں ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پن غالب آ چکا تھا۔ نوکری تو جاری تھی لیکن انداز مختلف تھا۔ عارضہ قلب اور شوگر کی بیماری کے پیش نظر اب گراٹو بھی صحت کے لیے غیر موافق بنتی جا رہی تھی۔ مری روڈ پر ون ویلنگ کی سکت بھی باقی نہ رہی، تو بینڈ والوں نے نئے امیدوار کی تلاش شروع کر دی۔

لوہار نے بخوبی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھانپ لیا کہ وہ شاید اب نوکری کے لئے نا اہل ہو چکا ہے اور بینڈ والے مزید اسے برداشت نہیں کریں گے۔ اس نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بینڈ والوں کے آگے درخواست پیش کی، اگر آپ مجھے نوکری کے لیے نا اہل سمجھتے ہیں تو میں دست بردار ہونے کو تیار ہوں۔ لیکن میری بیٹی جو نہایت شریف خاتون ہے، آپ کی بہو بھی ہے، گانا بجانا بھی جانتی ہے اور اسے بھی گراٹو جلیبی کی بہت عادت ہو گئی ہے اب وہ پنڈی سے واپس لاہور نہیں جانا چاہتی،

اگر آپ مناسب سمجھیں تو اسے میری جگہ نوکری دے دیں۔ وہ پرانی تنخواہ پر مجھ سے بڑھ کر آپ کی تابع فرمان رہے گی۔ اور میں بھی کبھی کبھی مری روڈ کی گراٹو جلیبی کھا سکوں گا۔ مری روڈ بینڈ والوں نے لوہار کو یہ کہ کر ٹال دیا کہ جب تک باپ حیات ہو، واپڈا اور محکمہ زراعت والے بچے کو اس کی جگہ نوکری پہ نہیں رکھتے تو ہم آپ کی بچی کو کیسے رکھ لیں۔

لوہار کو بات پسند نہ آئی۔ اس نے اپنی بیٹی کے ہم راہ امام مسجد کی قیادت میں پورے ملک میں دعائیہ تقاریب کروانے کا ارادہ کر لیا کہ شاید قبولیت کی کسی گھڑی میں دعا مقبول ہو جائے اور لوہار کی بیٹی کو لوہار کی جگہ ملازمت مل جائے اور ایک بار پھر سے گراٹو جلیبی کا لطف نصیب ہو۔

Facebook Comments HS