ھیروشیما کا بوڑھا کسان ایک پر سکون شام میں اپنے کھیتوں میں بیٹھا گہری سوچ میں گم ہے، آج بہت حد تک زندگی واپس لوٹ آئی ہے، لیکن سخت محنت میں گزرے بیسیوں سال اس کے دل و دماغ پہ نقش ہیں کہ کیسے بانجھ زمین پہ پھر سے گھاس تک اگانے کے لئے اسے سال ہا سال محنت کرنی پڑی لیکن یہ قیمت بہت ہی کم تھی اس نسلوں کے کرب سے جو نا کردہ گناہوں کے پاداش میں سہا گیا۔ عالمی سامراج کے مہروں کی لڑائی سے بوڑھے کسان کا کیا لینا دینا تھا، اسے کیا معلوم کہ اسلحہ ساز فیکٹریوں کے کاروبار کی وسعت کے لئے معصوم زندگیاں درکار ہوتی ہیں، دھرتی ماں کو قربانی دینا ہوتی ہے۔
سالوں کا قرب اس کے چہرے کی جھریوں سے عیاں ہے۔ یہ ان چند لوگوں میں سے بچا ہے جو اس روز کے قیامت خیز دھماکے میں زندہ بچ جانے والوں میں سے تھا۔ اسے معلوم ہے کہ جنگ کس چڑیا کا نام ہے، سارے خاندان کے مرنے کے بعد جینا کیسا ہوتا ہے، چند لمحوں میں چلتی پھرتی زندگیاں کیسے موت کا لبادہ اوڑھتی ہیں، جنگ کا آسیب کروڑوں زندگیاں لے کے ہی راضی ہوتا ہے۔ جس پیڑھی نے جنگ کے صرف افسانے پڑھے ہیں ان کو کبھی اس کی ہولناکی کا ادراک نہیں ہو سکتا۔
Read more