رقص

رقص اعضاء کی شاعری ہے۔ رقص ایک علم ہے، کیفیت ہے، اظہار ہے۔ رقص تصوف کا وصف ہے۔ کائنات اور عناصر فطرت کی ہلچل سے ہمکنار رکھتا ہے۔ کبھی تنہا اپنے وجود میں تو کبھی دوسرے عناصر سے مربوط۔ رقص لمحاتی بھی ہو سکتا ہے اور آفاقی بھی جیسے شاہ شمس تبریز اور مولانا رومی کے تخیل شعور آگہی کی سانجھ سے آفاقی مستی رقص کی مثل بن گئی۔ رقص کے علم کو طوطے کی طرح رٹا بھی لگایا جاسکتا

Read more

اک طوائف کی خود کلامی

ہاں میں اک طوائف ہوں۔ بھرے بازار میں گنڈیریوں کی اک ریڑھی کی طرح۔ مٹھاس بھری۔ رسیلی۔ گاہکی لگے نہ لگے۔ مکھی ضرور بیٹھ جاتی ہے۔ میں اک تن جلی کی جنم جلی ہوں۔ ولدیت کے بے رنگ کتبے پر میری جنم پرچی بے نام نصب ہے۔ مجھے جنم دینے والی من جلی عورت تھی کسی کی بیوی نہ تھی۔ میں اک مال ہوں۔ بے دام۔ بکاؤ ارزاں قیمت کی بار بار وصولی کے باوصف حساب چکتا نہیں ہوتا۔ روزنامچہ

Read more