رقص
رقص اعضاء کی شاعری ہے۔ رقص ایک علم ہے، کیفیت ہے، اظہار ہے۔ رقص تصوف کا وصف ہے۔ کائنات اور عناصر فطرت کی ہلچل سے ہمکنار رکھتا ہے۔ کبھی تنہا اپنے وجود میں تو کبھی دوسرے عناصر سے مربوط۔ رقص لمحاتی بھی ہو سکتا ہے اور آفاقی بھی جیسے شاہ شمس تبریز اور مولانا رومی کے تخیل شعور آگہی کی سانجھ سے آفاقی مستی رقص کی مثل بن گئی۔ رقص کے علم کو طوطے کی طرح رٹا بھی لگایا جاسکتا
Read more
