مشال کا انصاف ابھی ادھورا ہے

موسم گرما ہو یا سرما کی تعطیلات میں اپنی چھٹیاں گزارنے اپنے شہر سے باہر دوسرے شہر گھومنے پھرنے جاتا ہوں تاکہ ذرا سا تازہ دم ہو سکوں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی میں اسلام آباد گیا اور ارادہ یہی تھا کہ اسلام آباد میں کچھ دن دوستوں سے ملاقات کرکے وادی کالام…

Read more

سولہ دسمبر اور شناخت سے محروم مشرقی پاکستانی

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو کر مشرق میں غروب ہوگا اور تب توبہ کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے، لوگ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوں گے اور گناہوں پر توبہ کریں گے مگر ان کو معافی نہیں ملے گی۔ 16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین دن ہے، جس دن پاکستان پر قیامت ٹوٹی، اس دن سورج مغرب پاکستان سے نکل کر مشرق پاکستان میں ڈوبا، اور پاکستان کا ایک بازو کٹ کر الگ ہوا تو پاکستان دولخت ہو گیا۔ جسے پاکستان میں سقوط ڈھاکہ اور بنگال میں مکتی جدھو کہتے ہیں۔

26 مارچ 1971 کو حریت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ ”مکتی باہنی“ ملیشیا نے عسکری کارروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔ مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر 1971 ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

Read more

ہمیں روٹی کپڑا اور مکان نہیں، ہمیں ہماری شناخت چاہیے

پاکستان کی قیادت کے بعد ماضی کے دو واقعات ایسے ہیں جنہیں کتابوں میں تاریخ رقم تو کر دیا گیا ہے مگر شاید بہت سے حقائق پر راقم نے پردہ رکھا۔ 1965 کی جنگ میں انڈیا کو عبرت ناک شکست ہوئی، جسے آج بھی ہم ملک بھر سمیت تعلیمی اداروں میں جوش و خروش سے…

Read more