”ہیولا“ کا افسانہ نگار

”اِک چپ، سو دکھ“ کے افسانوں کو پڑھ کر پہلی خوشی یہ ملی کہ سردرد نہیں ہوا۔ اردو کے کچھ نہایت جدیدیئے افسانہ نگاروں کا یہ چلن عام ہے کہ وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ قاری کو افسانہ سمجھ نہ آئے، اُس کے دماغ کا دہی بن جائے، وہ سر پر اپنی اماں یا بیگم کا ڈوپٹہ باندھ، صبح شام پیراسیٹامول کی گولیاں نگلتا رہے لیکن ”عظیم ترین علامتی افسانے“ کی کہانی پن (اگر موجود ہو؟ ) تک

Read more

اورحان پاموک، ناول برف اور آمریت

(درج ذیل گفتگو انجیل گرآقنتانا کے کیے گئے دِپیرس ریویو (سرما2005) کے لئے طویل انٹرویو کے متن سےلی گئی ہے، اس گفتگو میں ترکی کے نوبیل انعام یافتہ ناول نگار اوحان پاموک نے اپنے شہرہ آفاق سیاسی ناول ’برف ’ کے متعلق بتایا ہے کہ اس ناول کو کس جذبے کے ساتھ لکھا گیا اور اس پر ترکی میں کیسا ردعمل آیا۔ آمریت کے خلاف ایک ادیب کا سلوک اور برتاؤ کیسا ہونا چاہیے، اس بات کی وضاحت بھی گفتگو

Read more

حفیظ تبسم کے دشمنانِ منظومہ کا مختصر جائزہ

میرے پسندیدہ ادیب گیبریئل گارسیا مارکیز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نوبیل انعام کے حصول کے بعد جب ان کی شہرت کو پر لگ گئے تو ان کے لئے نئے دوستوں کی تعداد گننا ناممکن ہوگیا، مارکیز کے مطابق جہاں کچھ افراد منافقانہ خوشامد کے ساتھ ان کی شہرت سے اپنا حصہ لینے کے خواہشمند تھے وہیں کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو اتنے ہی مخلص تھے جتنا غربت اور مشکلات کے دور میں ساتھ دینے والا کوئی

Read more