”ہیولا“ کا افسانہ نگار
”اِک چپ، سو دکھ“ کے افسانوں کو پڑھ کر پہلی خوشی یہ ملی کہ سردرد نہیں ہوا۔ اردو کے کچھ نہایت جدیدیئے افسانہ نگاروں کا یہ چلن عام ہے کہ وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ قاری کو افسانہ سمجھ نہ آئے، اُس کے دماغ کا دہی بن جائے، وہ سر پر اپنی اماں یا بیگم کا ڈوپٹہ باندھ، صبح شام پیراسیٹامول کی گولیاں نگلتا رہے لیکن ”عظیم ترین علامتی افسانے“ کی کہانی پن (اگر موجود ہو؟ ) تک
Read more

