ٹک ٹوک سے جائز کمائی یا بے حیائی؟

چند روز قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے سٹیزن پورٹل پر موبائل کی ایک تفریحی ایپ کی شکایت کرتے ہوئے پاکستان میں ”بند“ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مدعا یہ اختیار کیا گیا کہ مذکورہ ایپ نہ صرف نوجوان نسل کے وقت کا ضیاع بلکہ اخلاقی بگاڑ کا بھی باعث ہے۔ اس خبر کے بعد خود تمام خرابیوں کے محرک ”انٹرنیٹ“ کے ذریعے یہ علم ہوا کہ مذکورہ ایپ تو یہودیوں کی سازش ہے جس کے ذریعے خاص کر مسلم ممالک میں فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے ایک ٹویٹ کا ذکر بھی سننے میں آیا جس میں مذکورہ ایپ 10 جنوری کو ”بند“ کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ معلوم نہیں اس سلسلے میں واقعی کچھ اقدامات کیے بھی جارہے ہیں یا نہیں، چہ جائیکہ ملک میں دیگر بحران اور مسائل کی کمی نہیں، پھر بھی ایک موبائل ایپلی کیشن کے خلاف چہار اطراف سے اٹھتی آوازیں ظاہر کررہی ہیں کہ واقعی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو بروقت حل نہیں کیا گیا تو انگنت اور لاینحل مسائل میں گھری یہ قوم ”غیروں“ کی سازش کا شکار ہوکر نابود ہوجائے گی۔

Read more