460 ارب روپے اور کراچی کی ترقی

کچھ عرصے میں کئی ایسے عدالتی فیصلے سامنے آئے جس نے ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا کہ ایسا بھی ممکن ہوسکتا ہے؟ چونکہ ہم کوئی ماہر قانون تو نہیں اس لیے ان فیصلوں میں قانونی اسقام کی نشاندہی تو نہیں کرسکتے لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت کی طرح ہمارے ذہن میں بھی کئی سوالات نے جنم لیا کہ آخر انصاف کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا بڑے سے بڑا جرم کرکے محض جرمانے کی خطیر رقم ادا کرکے خود کو ’پاک‘ کیا جاسکتا ہے؟نیب کا ایک پلی بارگیننگ قانون ہی سمجھ سے بالاتر تھا کہ 10 کروڑ کی کرپشن کرنے والے کو 2 کروڑ جرمانہ لے کر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اب متواتر ایسے فیصلے سامنے آرہے ہیں جس میں ”بڑوں“ کے جرائم کے ارتکاب پر خطیر رقم کا مطالبہ ’ازخود‘ کرکے انھیں ’صاف راستے‘ کی پیشکش کی جاتی ہے۔ نہ بابا! ہماری اتنی اوقات کہاں کہ معزز اداروں کے فیصلوں پر اعتراض کرسکیں، ہمارے تو ”پر“ بھی نہیں جو جل سکیں لیکن چلنے سے ضرور معذور ہوجائیں گے، اس لیے چپ ہی بھلی۔

Read more

ٹک ٹوک سے جائز کمائی یا بے حیائی؟

چند روز قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے سٹیزن پورٹل پر موبائل کی ایک تفریحی ایپ کی شکایت کرتے ہوئے پاکستان میں ”بند“ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مدعا یہ اختیار کیا گیا کہ مذکورہ ایپ نہ صرف نوجوان نسل کے وقت کا ضیاع بلکہ اخلاقی بگاڑ کا بھی باعث ہے۔ اس خبر کے بعد خود تمام خرابیوں کے محرک ”انٹرنیٹ“ کے ذریعے یہ علم ہوا کہ مذکورہ ایپ تو یہودیوں کی سازش ہے جس کے ذریعے خاص کر مسلم ممالک میں فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے ایک ٹویٹ کا ذکر بھی سننے میں آیا جس میں مذکورہ ایپ 10 جنوری کو ”بند“ کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ معلوم نہیں اس سلسلے میں واقعی کچھ اقدامات کیے بھی جارہے ہیں یا نہیں، چہ جائیکہ ملک میں دیگر بحران اور مسائل کی کمی نہیں، پھر بھی ایک موبائل ایپلی کیشن کے خلاف چہار اطراف سے اٹھتی آوازیں ظاہر کررہی ہیں کہ واقعی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو بروقت حل نہیں کیا گیا تو انگنت اور لاینحل مسائل میں گھری یہ قوم ”غیروں“ کی سازش کا شکار ہوکر نابود ہوجائے گی۔

Read more