ریڈ بس کا نیا کرایہ: عوام کے لیے ’ریڈ‘ الرٹ
ریڈ بس ایک ”غریب کی سواری“ تھی، لیکن اب اس پر بھی سندھ حکومت کا ”قہر“ ٹوٹ پڑا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے باسیوں کے لیے ایک نئی مصیبت، یا یوں کہیں کہ ایک اور ’تحفہ‘ تیار ہے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں کراچی کی مشہور زمانہ ریڈ بس سروس یعنی پیپلز بس سروس کی، جس کے کرایوں میں یکم فروری سے ’تاریخی‘ اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ سنا ہے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے فرمایا ہے کہ ریڈ بس کے کرایوں پر سبسڈی کم کر رہے ہیں اور عوام کو ساٹھ فیصد زیادہ کرایہ دینا ہو گا۔
اب ذرا حساب لگائیں، پہلے کرایہ تھا 50 روپے، ساٹھ فیصد اضافہ ہوا تو بنتا ہے 80 روپے، لیکن جناب یہ کیا؟ بسوں پر جو نوٹیفکیشن لگائے گئے ہیں، ان کے مطابق پندرہ کلومیٹر تک کا سفر 80 روپے میں ہو گا، اور اس سے زیادہ کا سفر 120 روپے میں! یعنی یہ ساٹھ فیصد کا ’حساب‘ ہماری سمجھ سے تو بالکل باہر ہے۔ اگر پچاس روپے پر 120 روپے کا کرایہ لگائیں تو یہ 140 فیصد بنتا ہے۔ یہ کیسا حساب ہے، یہ تو وہی بات ہوئی کہ ’میرا حساب، میرا ہی حساب‘ ۔ اب یہ سمجھ نہیں آتا کہ وزیر ٹرانسپورٹ ریاضی کے کسی نئے فارمولے پر کام کر رہے ہیں یا پھر عوام کو ’بیوقوف‘ سمجھنے کی کوئی نئی ترکیب آزمائی جا رہی ہے۔ لیکن ہم کراچی والے ہیں، ایسے ’حسابوں‘ کے عادی ہوچکے ہیں۔
سندھ حکومت اور کراچی کا ’عشق‘ تو سب پر عیاں ہے۔ کراچی کی ٹرانسپورٹ کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ چنگ چی رکشوں کی بھرمار ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت سب پر عیاں ہے۔ ٹوٹی پھوٹی اور فٹنس سے عاری بسوں میں عوام دگرگوں حالت میں سفر کرنے کے باوجود ٹرانسپورٹر کو من مانے کرائے دینے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ریڈ بس ایک ’غریب کی سواری‘ تھی، لیکن اب اس پر بھی ’قہر‘ ٹوٹ پڑا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے کل اپنی بریفنگ میں کہا کہ یہ سبسڈی کم کر کے مزید الیکٹرک بسیں لائی جائیں گی۔ واہ جناب، کیا خوبصورت خواب دکھایا ہے! لیکن ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں یہ الیکٹرک بسیں بھی دیگر بسوں کی طرح کسی ’ڈپو‘ کی زینت نہ بن جائیں۔ یاد ہے نا، اربوں روپے خرچ کر کے بسیں منگوائی گئی تھیں، جن پر تقریباً 16 ارب روپے (غیر مصدقہ) سے زائد خرچ ہوئے تھے، جن میں سے کچھ رپورٹس کے مطابق آدھی سے زیادہ آج بھی ڈپو میں خاک پھانک رہی ہیں۔
اسی طرح پیپلز بس سروس پر بھی اب تک اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جس کے بیڑے میں تقریباً 300 بسیں شامل ہیں، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے ہر وقت کتنی بسیں سڑکوں پر چل رہی ہوتی ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نئی الیکٹرک بسیں بھی ان ہی بسوں کی طرح ڈپو میں کھڑی رہ جائیں۔
اب ایک طرف تو مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پا رہا، اور دوسری طرف حکومت ہے کہ کرایوں پر کرائے بڑھائے جا رہی ہے۔ جیسے عوام کی جیبیں پیسوں سے بھری پڑی ہیں۔ ارے جناب، ہم کراچی والے تو پہلے ہی ’مظلوم‘ اور ’لاچار‘ ہیں۔ اوپر سے یہ ’ستم‘ مزید برداشت نہیں ہوتا۔ ہم تو بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ہمیں ان ’حکمرانوں‘ سے نجات دلائے۔ اب یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ لیکن ہم کراچی والے ہیں، ہر مشکل کا مقابلہ مسکرا کر کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہم آج تک زندہ ہیں۔
باتیں تو بہت ہی جو کی جا سکتی ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ سندھ حکومت کے کانوں پر کون سا جوں رینگنے والی ہے ان باتوں سے۔ لیکن چونکہ ہم خود ریڈ بس میں سفر کرتے ہیں تو بس کے دیگر مسافروں کے عوامی اور عمومی تاثرات بھی یہاں شامل کرہی دیتے ہیں۔ ”شاید کہ تیرے کانوں تک پہنچ جائے میری بات۔“
عوامی آرا اور خدشات:
”کرایہ بڑھنے کے بعد ریڈ بس کی افادیت ختم ہو جائے گی۔ اب یہ سفر عام آدمی کے لیے بہت مہنگا ہو جائے گا۔“
” ریڈ بسوں میں پہلے ہی اتنا رش ہوتا ہے اور بسیں کافی انتظار کے بعد ملتی ہیں۔ اب کرایہ بڑھنے کے بعد لوگ کیوں ان بسوں میں سفر کرنا پسند کریں گے؟“
”حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دے، نہ کہ صرف کرایے بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈالے۔“
”مہنگائی کے اس دور میں کرایوں میں اضافہ کرنا غریب عوام پر ایک اور وار ہے۔“
”حکومت کے ان اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ عوام کی مشکلات سے بالکل بے خبر ہے۔“
یہ تو تھیں عوامی آرا جو ہمیں کل سے اب تک ریڈ بس کے سفر کے دوران سننے کو ملیں۔ یکم فروری کو کرائے بڑھنے کے بعد عوام ان حالات میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں، یہ تو وقت آنے پر پتا چل ہی جائے گا، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔



