کشمیر: ایک نظر ادھر بھی

آزاد کشمیر وادی نیلم گزشتہ روز بھارتی افواج کی جانب سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے کانپ اٹھا۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، شاہراہ نیلم پورا دن بند، بازار بند اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی۔ سکول، کالجز، یونیورسٹی کے طلباء اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں ہی دب کر رہ گئے۔ جیسے نیلہم ویلی گولیوں اور گولہ بارود کی تڑتڑاہٹ سے لرز گیا ایسے ہی وہ مائیں بھی جن کے بچے سکول، کالج یا یونیورسٹی میں تھے وہ بھی تڑپ گئیں۔

Read more

انتظار کیجیے اور اطمینان رکھیے

کچھ لوگ اپنی تعلیم 22 سال کی عمر میں مکمل کر لیتے ہیں۔ مگر ان کو پانچ پانچ سال تک کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی۔ کچھ لوگ 25 سال کی عمر میں کسی کمپنی کے سی ای او بن جاتے ہیں اور 50 سال کی عمر میں ہمیں پتا چلتا ہے، ان کا انتقال ہو…

Read more

پاکستان، امن کا پیغام؟

ایک طرف تو ہم امن کا پیغام دنیا میں پھیلا رہے ہیں اور دوسری طرف آپس میں اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔ دوسری دنیا کو امن کا پیغام اور درس دینے والی قوم یہ بھول گئی کہ ہم اپنے ملک میں کیا کر رہے ہیں۔ سیاستدان آپس میں چور چور کی گیم کھیل رہے ہیں اور قوم ایک دوسرے کے خون کی پیاسی بن گئی ہے۔ حکمران آپس میں الزام تراشی، دھوکہ دہی، تو چور میں پارسا، میں شریف تو ڈاکو کی گیم کھیل کر عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

Read more

میری بیٹی پاکستان اور کشمیر کے حوالے !

میرے بچپن کے ہیرو اور کشمیر کے چہیتے مقبول بٹ اکثر ایک نغمہ گنگنایا کرتے تھے ”اپنے لئے جی گئی زندگی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ اصل زندگی وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے“۔ مقبول بٹ نے اپنی پوری زندگی کشمیریوں کے لیے جی تھی اور انہیں کے لئے موت کو بھی اپنے گلے لگا لیا تھا۔ میں ایک بچہ تھا جب سن 1984 میں مقبول جیسے وطن پرست کو بھارتی حکومت نے پھانسی دیدی اور تہاڑ جیل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ ایک بہادر لیڈر اور کشمیریوں کے ہیرو یاسین ملک کے ہیں جو آج وہ بھی تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور مقبول بٹ کی یاد ان کو ستا رہی ہے۔

Read more