گڈ وکیل، بیڈ وکیل

دیکھیں حضرات گرامی جیسے اس ملک اور اس کے باسیوں نے طالبان میں تفریق کی اور انھیں دو دھڑوں میں تقسیم کیا، گڈ طالبان اور بیڈ طالبان والا ٹوپی ڈرامہ رچایا تو اسی طرح مہربانی فرما کے ہم وکلاء میں بھی تھوڑی تمیز کریں۔ ہمیں بھی آئندہ سے گڈ لائیرز اور بیڈ لائیرز کے نام سے لکھا اور پکارا جائے۔ یہ وکلاء گردی والا نعرہ مستانہ بند کریں۔ ہم بھی وکیل ہیں۔ ہمارے بھی جذبات ہیں۔ اس معاشرے کی تشکیل، نہیں، بلکہ اس ملک کے قیام میں ہمارا بھی ٹھیک ٹھاک حصہ ہے۔ ہمیں بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا حضرت خادم رضوی اور اس کے پیروکاروں کو ہے۔ جتنا تحریک انصاف اور اس کے کارکنوں یا پھر ایم کیو ایم اور اس کے بھائیوں کو یا پھر پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے جیالوں یا پھر مسلم لیگ (ن) اور اس کے پٹواریوں کو یا پھر دی ایچ اے اور محکمہ زراعت والوں کو ہے۔

کیا ہوگیا اگر ہم نے ایک ڈپٹی کمشنر کو اس کی کرسی سے اٹھا کر ایک غیر معمولی اجلاس کو ختم کروا دیا۔ اب بندہ ان کمشنر صاحب سے پوچھے کہ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ باہر وکلاء صاحبان ان کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور یہ بھائی صاحب آرام سے اپنے کمرے کا ہیٹر آن کر کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس احتجاج سے ڈپٹی کمشنر صاحب کو کیا فائدہ؟

Read more

خوف کے بادلوں کے سائے

کسی بھی اخبار، اداریے یا سوشل میڈیا پہ لکھنے کا شوق اتنا پرانا ہے کہ آج تک میں کچھ لکھ نہیں پایا۔ سیاسی بلوغت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ 12 اکتوبر 1999 میں حضرت مشرف کے آمرانہ اقدام پہ انھی کے زیر سایہ کام کرنے والے اپنے والد محترم سے پوچھ بیٹھا…

Read more