بچوں کے ساتھ زیادتی: بڑا قصور وار کون؟

آپ کی ایک عدد قیمتی زیور کی دکان ہے جس کی مکمل ذمہ داری کے ساتھ آپ اس کی حفاظت کرتے ہیں، اس سے ہونے والی آمدنی یا فائدہ بھی آپ کو ہی ہوتا ہے۔ ایک روز آپ اس قیمتی دکان پر تالا لگانا بھول جائیں تو کیا وہ دکان یا اس دکان کی اشیاء محفوظ رہ سکتی ہیں؟ دکان کا سارا قیمتی مال چوری ہو جائے تو اس لاپرواہی کی ذمہ داری کس کے اوپر عائد ہوتی ہے آپ پہ یا حکمرانوں پہ؟

ہم کیسے والدین ہیں جو اپنی اولاد کی ذمہ داری تک اٹھانے کے قابل نہیں، اپنے بچوں کو پیدا کرکے گلی کوچوں میں کُھلا چھوڑ دیتے ہیں اور جب ان کے ساتھ بھیانک حادثات رونما ہو جاتے ہیں تو گریبان حکمرانوں کا پکڑتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک انتہائی دردناک واقعہ پیش آیا سارا سوشل میڈیا پاگل ہوگیا مین اسٹریم میڈیا دیوانہ ہوگیا ہر زبان پر نصیحتیں، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیکچرز اسی طرح اور بھی الم غلم۔ اس کے باوجود ان واقعات میں نہ تو کمی آئی ہے نہ ہی ایسے واقعات کو کنٹرول کیا گیا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

Read more

شب آخر کا ساتھی

چاروں سمت پھیلی ہوئی تاریکی کو چیرتی ہوئی چاند کی روشنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ یہ دسمبر کی ایک تاریک اور یخ بستہ رات کا خاموش پہر تھا۔ جب وہ اپنی آرام دہ کرسی پر نیم دراز سگریٹ سلگائے ہوئے کھڑکی سے نظر آتے آدھے چاند کو تک رہا تھا۔ کمرے میں ٹھنڈ، اندھیرا اور سگریٹ کا دھواں مل کر عجیب سا سماں باندھ رہے تھے۔ جبکہ کبھی کبھی کہیں دور سے کچھ آوارہ کتوں کی آوازیں بھی خاموشی میں مخل ہو کر ماحول کو پراسرار بنا رہیں تھیں۔

کمرے کا دروازہ گھر کے صحن میں کھلتا تھا اور صحن کے پار وہ کمرہ تھا جہاں ایک ہستی اپنی زندگی کے آخری ایام شدید تکلیف سے کاٹ رہی تھی۔ جس کی زندگی میں تاریکی نے اپنے قدم بری طرح سے جما لیے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بیتا تھا جب ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ شاید یہ سال اس مرتے ہوئے انسان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہو، اس کے پھیپھڑوں کا سرطان اپنے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے اور مرض کا علاج اب ممکن نہیں۔ کمرے میں پڑی ہوئی وہ زندہ لاش جس سے ملنے کوئی غیر تو درکنار کوئی اپنا بھی قریب نہ پھٹکتا۔ کیسے حال میں اسے تنہا چھوڑ گئے! تب جب اسے سب سے زیادہ اپنوں کی ضرورت تھی، تب جب اس کی چاہت یہ ہوتی کہ کوئی اس سے بات کرے، وہ ہنسے، وہ اپنی زندگی کے آخری چند روز خوشگواری سے گزار سکے۔

Read more

شکوہ بمقابلہ جواب شکوہ

کچھ دنوں سے سوچ رہی تھی کہ اب سنجیدہ لکھائی کی طرف واپس غور کیا جائے ”اچھے، مدبر اور معتبر لوگوں کو پڑھا جائے اپنے علم میں اضافہ اور مزاج میں شگفتگی و شائستگی کی آبیاری کی جائے۔ تو آج ابتداء کر ہی ڈالی اور سیدھا اقبال کے کلام“ شکوہ ”اور“ جواب شکوہ ”کا رخ…

Read more