(اس مضمون کے اعداد و شمار زیادہ تر ہائیڈرولاجی اور واٹر ریسورسز پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر حسن عباس کی تحاریر، لیکچررز دریا کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے عالمی ادارے ”International Rivers“ کی ویب سائیٹ، سماجواد اور افیئر میگزین کے مواد میں سے لیا گیا ہے۔
آزاد بہاؤ والی ندیاں اتنی ناپید ہو چکی ہیں کہ اگر ان کو زندہ جسم سمجھا جائے تو، ان کا شمار خاتمے کے قریب جانداروں یا نسلوں میں ہوگا۔ مضمون ”ندیاں جہاں آزاد بہتی ہیں“ کے تعارفی الفاظ۔
حکمران اور کارپوریٹ میڈیا میں سندھو ندی پر نئے ڈیمز کے ضرورت سے زیادہ پروپیگنڈہ زور و شور سے جاری ہے۔
پہلے دن سے وہ ہمیں موت کا خوف دے کر بخار قبول کروانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ابھی بھی اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کے مدفن پراجیکٹ کو دوبارہ پیش کر کے ہم سے بھاشا اور مہمند ڈیم ہضم کروانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے نادری احکامات کے لیے کبھی آمریتیں تو کبھی نوکر شاہی کبھی کٹھ پتلی حکومتیں تو اب عدلیہ جیسا ادارہ استعمال ہو رہا ہے۔
Read more