دریا کی تلاش: سندھو دریا کی بحالی اور پانی کے مقدمہ کی جدید بنیادیں
(اس مضمون کے اعداد و شمار زیادہ تر ہائیڈرولاجی اور واٹر ریسورسز پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر حسن عباس کی تحاریر، لیکچررز دریا کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے عالمی ادارے ”International Rivers“ کی ویب سائیٹ، سماجواد اور افیئر میگزین کے مواد میں سے لیا گیا ہے۔
آزاد بہاؤ والی ندیاں اتنی ناپید ہو چکی ہیں کہ اگر ان کو زندہ جسم سمجھا جائے تو، ان کا شمار خاتمے کے قریب جانداروں یا نسلوں میں ہوگا۔ مضمون ”ندیاں جہاں آزاد بہتی ہیں“ کے تعارفی الفاظ۔
حکمران اور کارپوریٹ میڈیا میں سندھو ندی پر نئے ڈیمز کے ضرورت سے زیادہ پروپیگنڈہ زور و شور سے جاری ہے۔
پہلے دن سے وہ ہمیں موت کا خوف دے کر بخار قبول کروانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ابھی بھی اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کے مدفن پراجیکٹ کو دوبارہ پیش کر کے ہم سے بھاشا اور مہمند ڈیم ہضم کروانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے نادری احکامات کے لیے کبھی آمریتیں تو کبھی نوکر شاہی کبھی کٹھ پتلی حکومتیں تو اب عدلیہ جیسا ادارہ استعمال ہو رہا ہے۔
ہندستانی گجرات میں سردار سرور ڈیم پر حامی اور مخالف تحریکوں کی سبب سپریم کورٹ میں وہ مقدمہ چھ سال تک داخل رہا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے ڈیم کے حق میں فیصلہ دیا مگر ہمارے ہاں تو اس طرح کے اختلافی سیاسی معاملات ”آرڈر آرڈر“ اور ”آرٹیکل چھ“ کا ہتھوڑا مار کر انصاف کا اعلیٰ افسر خود ڈیم کے سامنے جھونپڑی ڈال کر چوکیداری کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن زبردستی رضا مندی نہ پہلے حاصل ہوئی ہے نہ اب حاصل ہو گی۔
حکمرانوں کا کہنا ہے کہ توانائی اور پانی کی کمی کے خاتمے کے لئے ڈیم اٹل ہے جبکہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے جس کو خواہ مخواہ سیاسی بنایا جارہا ہے۔ آئے پہلے ان کی ان باتوں کے بنیاد کا پتہ لگائیں :
کیا ڈیمز یا میگا پروجیکٹس کا مسئلہ صرف تکنیکی ہے؟
نہیں بالکل بھی نہیں تکنیکی بات پر بضد ہونا سیاسی معاشی لوٹ کھسوٹ چھپانے کی کوشش ہوتی ہے اور اس کے سواء کچھ بھی نہیں۔ پروجیکٹ کی تکنیکی سائیٹ ضروری ہوتی ہے مگر اس کے پس پردہ اور بھی اہم عنصر متحرک ہوتے ہیں۔
آبی معاملات کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کہتا ہے کہ ڈیمز اور میگا پروجیکٹس کے پس پردہ بنیادی محرکات ہمیشہ سیاسی (قرضہ دینے والے ادارے ) تعمیراتی کمپنیاں اور کرپٹ حکمران ہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو تکنیکی معاملات کے ماہر ثابت کرنے کوشش کرتے ہیں۔
اس طرح تکنیکی مواد یا تفصیل اپنے آپ میں درست یا غلط نہیں ہوتی۔ مثلاً تھرمامیٹر جب بخار 107 ڈگری فارن ہائیٹ دکھاتا ہے تو وہ آدمی کے لئے بخار اور مرغے کے لئے نارمل یا صحت مند درجے کا اظہار ہے۔
اعداد و شمار اپنے آپ میں کسی بھی حقیقت کا شمار یاتی پہلو دکھاتے ہیں جن کا اپنے آپ میں کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔
حقیقت کا کیفیتی پہلو ہی اعداد و شمار کو مقصد عطا کرتا ہے۔ مثلاً پاؤ آدھا کلو، ایک کلو ایک پیمائش ایک عدد اور ایک مقدار ہے۔ اس کو معنی تب ملتی ہے جب اس سے معیار کی جڑت ہوتی ہے۔ جیسے ایک پاؤ انگور، آدھا کلو چینی ایک کلو آٹا وغیرہ۔
اس مثال کو اگر ہم ڈیمز اور میگا پروجیکٹس کے حوالے سے دیکھیں تو ڈیمز کے اوپر آنے والی لاگت ڈیمز کے ذریعے توانائی پیدا کرنے اور پانی جذب کرنے پانی کی کمیابی کے سدباب جیسے مسائل اور ان کے کسی نہ کسی عمومی نقطہ نظر کے دائرہ میں ہی اپنے مقصد حاصل کرتے ہیں اس عمومی نقطہ نظر کے علاوہ ہمارے مشہور زمانہ دانشورز (مثلاً ادریس راجپوت اور نصیر میمن) کی روش اس سراغ رساں جیسے ہوتی ہے جو بظاہر اپنے مویشی کے پاؤں کے نشان کسی غار سے نکلتے ہوئے دیکھ کر جاکر جنگل میں اس کو ڈھونڈتا ہے۔ جبکہ چالاک اور چور حکمران ہمارے ڈہوروں کو الٹے پاؤں لے جاکر اسی غار میں ہی چھپا کر بیٹھا ہوتا ہے جہاں سے ہم نے ڈھونڈنا شروع کیا تھا۔
حاصل مطلب کہ نشانات، علامتیں اعداد و شمار کو اپنی حیثیت لیکن یہ عمومی نقطہ نظر یا اشکال جس میں یہ سب اپنا مفاد تبدیل کرتے ہیں وہ سمجھنے کی ضرورت ہے وگر نہ انگریزی کہاوت جیسے حالت ہو گی کہ ”شیطان تو تفصیل پسند کرتا ہے“۔ سماج، حکمران اور مظلوم عوام میں تقسیم شدہ ہے اسی طرح کسی بھی مظہر کے حوالے سے نقطہ نظر جو تقسیم شدہ ہوتا ہے مثلاً حکمران، قومی ترقی کے نام پر میگا پروجیکٹس (ذوالفقار آباد، بحریہ ٹاؤن) سی پیک، اور ڈیمز وغیرہ کی توسط سے اپنے ہی گزری اور طبقاتی مفادات کا پیشہ ور اور انا کو ہی لبریز رکھتا ہے اور دوسری طرف عوامی نقطہ نظر مسائل کی اکھاڑ پچھاڑ اور ان کے حل میں عوام کی مثبت کر کے سماجی بہبود اور ماحول دوست پہلو کو بھی مد نظر اور اولین رکھتا ہے۔
اس طرح مسئلہ ڈیم نہیں بلکہ ترقی کا سرمایہ دارانہ نقطہ نظر ہے۔ جو تکنیکی مسائل کی آڑ میں اجتماعی تہذیب، سماج اور صدیوں کے وسائل کو بازار کی جنہیں بنا کر تباہ و برباد کر دیتا ہے۔
جس طرح زرعی شعبے میں 70 فیصد پانی کا زیان کا تکنیکی حل ہمارے کرپٹ نوکر شاہی اور منافع خور حکمران پانی کے زیاں کو کم کرنے کے بجائے پانی کے زیاں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیم اور تھور کے سدباب کرنے کے لئے ایک نیا ادارہ SCARP (Satinity control and Reclamation Project) شروع کر کے اور اربوں روپے ہڑپکیے گئے اس طرح کل اسی ادارے کی نا اہلی یا اس کے جگاڑو حل کے نتائج میں پیدا ہونے والے مسائل کے سدباب کے لئے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہو گی۔
اس طرح کے پراجیکٹس کے لئے ڈاکٹر حسن عباس لکھتا ہے کہ ایسے پراجیکٹس پر انجنیئرز کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ سرمایہ کاری قرضے کی مد میں ہوتی ہے ان کی پوری کوشش صرف ساختیاتی حل (Structural solution) سے علامات کا علاج کرنے کی طرف ہوتا ہے۔
لیکن وہ اسباب (آبپاشی نا اہلی ) کو درگزر کرتے ہیں۔ علامات کے علاج جیسے حل، سماجی، معاشی اور ماحولیاتی نقطہ نگاہ سے ناپائیدار ہوتے ہیں۔
اسی طرح ”الف“ مسائل کو پیدا کر کے پھر اس کے خاتمے کے لئے پراجیکٹس ”ب“ پیش کیا جاتا ہے۔ پھر پراجیکٹس کی ناکامی اور پھر اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو دیکھنے کے لئے ادارہ ”ت“ بنایاجاتا ہے۔ عوام کے خودکے پیسے کی کمائی، ان کے وسائل، چند اشخاص اور خاندانوں کو خوشحال بناکر باقی انسانیت کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے جس سے ایک اور دوسرے ہائیڈرالاجسٹ ریضیم حبیب کہتا ہے کہ زمین کا پائیدار استعمال ایک پیچیدہ معاملہ ہے کون ہے جو صوبہ یا قوم کے بہبود کے لئے پالیسز بناتا ہے بلکہ وہ تو پالیسز میں صرف اپنا ذاتی منافعہ اور نقصان دیکھتے ہیں۔
اسی طرح یہ معاملہ طبقاتی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی خاص دور میں ترقی کے عمومی تصور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مثلاً ماضی میں نہ صرف سر مائیدار بلکہ سوشلسٹ کیمپ کا انداز فکر بھی اسی طرح ایسا ہے جس میں ماحولیات کا سوال پیدا ہی نہیں ہوا تھا ماؤ زے تنگ نے ملک میں موجود چڑیاؤں کے مارنے پھر دوسرے ملک سے درآمد کرانے والی بات تو ہر کسی نے سنی ہو گی لیکن آج ہماری حالت یہ ہے کہ دریاؤں کی تہذیب والے اس خطے میں نیسلے جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہاں بوتل میں پانی فروخت کر کے سالانہ ایک ارب ڈالر باہر منتقل کرتی ہیں۔
ایک امریکی سرمایہ دار نے کسی دورے سرمایہ دار سے پوچھا کہ تم نے کتنا کما لیا ہے۔ اس پر دوسرے سرمایہ دار نے کہا کہ میں نے اپنی آنے والی نسلیں محفوظ بنالی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی اپنی ذات کے تحفظ کا احساس کیا ہے؟ کوئی ڈالر سونا یا کسی کاغذ (ڈالر، یورو، پاؤنڈ، ریال وغیرہ ) کا جمع شدہ سرمایہ۔
کل جب کھانے کے طعام اور پینے کے لئے پانی ناپید ہو گا تو کون پوچھے گا اس دولت اور اس طرح کے علامات کو اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے تحفظ کے احساس کو دریا پانی ہی ہمارا جیوندان ہے۔ یہ قدرتی دولت مشترکہ ہے یہ پیسوں میں تبدیل تو ہو جاتی ہے مگر واپس پیسوں سے پانی میں تبدیل نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے پانی کے قدرتی وسائل کے سوالات اور سرمائیدارانہ نقطہ نظر پر تنقیدی ہونا لازمی ہے اس کے خلاف اپنی مزاحمت کو منظم اور تیز کرتے رہنا چاہیے۔ دوسری صورت میں کل کی نسل آج کی نسل کو معیار دینے کے لئے موجود نہیں ہو گی۔
کیا پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لئے ڈیم ضروری ہے؟
حکمرانوں کی سارا دن یہ تکرار چلتی ہے کہ اس ملک میں پانی کی کمی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ڈیم بنائے جائیں تاکہ ضرورت کے وقت ہمارے پاس پانی کی دستیابی ہو۔ ڈیمز کے حق میں ایک اور دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جب اچانک سے سیلاب آتا ہے تو اس وقت ڈیمز کے ذریعے ہم پانی کو ذخیرہ کر کے سیلاب کے اثرات کی شدت کو کم کر سکتے ہیں بھاشا ڈیم اس طریقے سے بھی توانائی کی عدم دستیابی کے حل کے لئے ہائیڈرو پاور پلانٹ (مہمند ڈیم) کی بات بھی بتائی جاتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


