سنگ تراش کی بے بسی
ضبط کے سمندر میں ہچکولے کھاتی ہوئی خیال کی کشتی کا نصیب کبھی کبھار اظہار کا ساحل بھی ٹہر جاتا ہے۔ جس حرف نے صوت و قرطاس کا لباس زیب تن کرنا ہو اسے مٹایا نہیں جاسکتا۔ ہم نہیں تو آپ، آپ نہیں تو کوئی اور، لیکن وہ حرف لکھا ضرور جائے گا۔ حرف وہ موسیٰ ہے جس کی پیدائش کو روکنے کے لئے ہزاروں بچے قتل کر دیے گئے لیکن وہ حرف اپنے مٹانے والے کی آغوش میں سانس لے رہا تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا، کوہ ِطور کی بجلی کو دیکھنے والی آنکھوں کی بینائی دیدار کی فرمائش سے بھی پہلے کیسے سلب کی جا سکتی ہے۔ ابھی تو فرمائش دید کی بھی گھڑی نہیں آئی۔ پھر انکار کی گھڑی نے آنا ہے۔ پھر مشتاق نگاہوں پہ ترس کھا کر چٹان پر دیدار کی تجلّی نے آنا ہے
Read more
