اہل کشمیر کو مستقل غلام رکھنا ممکن نہیں

کہی سال گزر گٰے ظالم ظلم کر کر کے تھک گے لیکن مظلوم ظلم سہ سہ کر نہیں تھکے۔ ناجانے کتنے شہیدوں کا خون قربان کرنے کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوگا وہ وقت دور نیں کہ پاکستانی فوج زمین بنجر ہونے پر ساری طاغوتی طاقتوں کے احکامات کو خاطر میں نا لاتے ہوے…

Read more

کشمیر کی وادیِ بھبر

بھبر سری نگر اور لاہور سے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ دو اطراف پر جموں و کشمیر یے۔ تیسری طرف گجرات اور چوتھی طرف میرپور یے۔ بھبر کشمیر میں داخلہ کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اسی لئے اسے بابِ کشمیر بھی کہتے ہیں۔ بابِ کشمیر پل کشمیر کو پاکستان سے ملاتا ہے۔ پل کے ایک طرف پنجاب کے میدان ہیں دوسری جانب کوہ ہمالیہ کا لامتناہی سلسلہ ہے اور درمیان میں بھبر شہر واقع ہے۔ سب سے پہلے راجہ چب خان کا بڑا بیٹا راجہ پرتاب خان بھبر آیا جس نے مقامی رولر کی بیٹی سے شادی کی اور ریاست کی بنیاد رکھی۔ چِب خاندان مے سے راجاشاداب خان وہ پہلے شحص تھے جنھوں اسلام قبول کیا تھا جو بابا شادی شہید کے نام سے سے مشہور ہوئے۔ اِن کا ہندو نام راجہ دھرم چند چِب تھا۔ نانا شادی شہید کا مقبرہ جھنڈی چونترا کے مقام پر ہے۔ اور جھنڈی چونترا ہی وہ مقام ہے جہاں سے سرینگر اور لاہور کا فاصلہ برابر ہے۔

Read more

بیچارہ ڈگری ہولڈر

یہ زندگی بہت مشکل ہے۔ یقین نہیں آتا کہ اللہ اتنی سخت آزمائش میں بھی ڈال سکتا ہے آج جب کے میری ماسٹرز کی ڈگری کو مکمل ہوے تقریباً آٹھ ماہ ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک کوئی جاب نہیں ملی۔ اس میں بھی میرے اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہو گئی۔ لیکن مجھے یقین ہے میرا پروردگار مجھے مایوس نہیں ہونے دے گا۔ ماضی قریب میں جب طالب علم تھا تو بڑے بڑے خواب تھے اور ہم سوچتے تھے کہ جو بھی طالب علم ڈگری حاصل کر کے یونیورسٹی سے جاتا ہے وہ خوش قسمت ہے لیکن اب پتا چلا کے حقیقت میں وہ بے چارہ خوش قسمت نہیں تھا بے چارہ وہ ڈگری لے کر اس ملک میں نکلا ہے جس میں نوکری کے لئے اسے در در کی ٹوکریں کھانی پریں گی۔

Read more