ذرا ہور اُوپر

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔
اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا۔ ۔ ۔ پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ہی لمحے وہ نواب صاحب کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ ۔ ۔ سراپا انگارہ بنی ہوئی۔

”سچی سچی بول دیو، آپ کاں سے آرئیں۔ ۔ ۔ جھوٹ بولنے کی کوشش نکو کرو۔ ۔ ۔ “
نواب صاحب ایک شاندار ہنسی ہنسے۔
”ہمنا جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جو تمے سمجھے وہ ہیچ سچ ہے۔ “

”گل بدن کے پاس سے آرئیں نا آپ؟ “
”معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟ “

Read more