”ایک دن کی زندگی“ پونے دو سو صفحات کا بیانیہ

”ایک دن کی زندگی “ نیا ناول ہے جسے آزاد مہدی نے لکھا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہ کوئی بھی کتاب تبھی چھپ کر پڑھنے والوں تک پہنچتی ہے جب لکھنے والا اسے لکھ لیتا ہے۔ لکھنے کے بعد ایک دو بار خود پڑھتا ہے۔ زبان و بیان کے ماہر احباب سے مشورہ کرتا ہے۔ اس کی خوب نوک پلک سنوار لیتا ہے۔ جہاں جہاں اس کی نوکیں، کنارے اور چولیں بیٹھنا مناسب ہیں انہیں بٹھا لیتا

Read more

یاسمین حمید : دھیرج اور سہجتا سے گندھی شاعرہ

یاسمین حمید ، منفرد اسلوب کی حامل شاعرہ ہیں۔ ان معانی میں نہیں جن میں ہم اکثر شعرا و شاعرات کے بارے میں کہہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی شاعری کا رنگ رس جداگانہ ہے۔ وہ دنیا بھر میں لکھے جانے والے بڑے ادب خاص طور پر فکشن کے مطالعہ سے خاص شغف رکھتی ہیں۔ یہ مطالعہ ان کی شاعری کے اسلوب اور موضوعات کو نکھارتا اور ایک جداگانہ حیثیت میں ہمارے سامنے لاتا ہے۔ یہی مطالعہ

Read more

”حرف من و تو“ آپ سے ہم کلام ہوتی ہوئی کتاب

شام کے جھٹ پٹے میں، مکان جہاں میں رہائش پذیر ہوں، اس مکان کی تیسری منزل کی چھت پر ابابیلیں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ آخر اپریل کی شاموں میں ہوتا ہے جب خنکی ذرا سی بڑھتی ہے اور آپ کی طبیعت میں بے نام سی ترنگ بجنے لگتی ہے۔ موٹر وے سے پہلے بجلی گھر کے بڑے بڑے کھمبوں کے اوپر سے اڑتے ہوئے پرندوں، اردگرد موجود گھروں کی چھتوں پر آخری کاموں کو سمیٹتی پھرتی خواتین اور گلیوں

Read more

”آخری زمانہ“ اور میرا ناول فوبیا

آئیے ! آج ایک دوسرے ناول پر بات کرتے ہیں۔ یہ ناول ہے آمنہ مفتی کا ”آخری زمانہ“۔ آمنہ مفتی کا یہ دوسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے قوسین، کے زیر اہتمام اس کا ایک ناول ”جرا¿ت رندانہ“ چھپ چکا ہے جس کے بارے میںبعض صائب الرائے حضرات اچھی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس ناول ”آخری زمانہ “ کو پڑھنے اور اس پر بات کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ پہلے ناول کا مطالعہ بنی، لیکن

Read more

”خواہ مخواہ کی زندگی“ میں میرواہ کی راتیں

رفاقت حیات کا ناول ”میرواہ کی راتیں“ اس مثلث کی آخری کڑی ہے جو پچھلے دنوں میرے زیر مطالعہ رہے۔ قوسیں، دائرے، مسطتیلیں اور مثلثیں تشکیل دیتے ہوئے یہ ناول زندگی کے مختلف بیانئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا لوکیل، کردار بیانیہ اور زندگی سے مکالمے کا انداز یکسر مختلف تھا۔ اختر رضا سلیمی کے ”جاگے ہیں خواب میں“ آزاد مہدی کے ”ایک دن کی زندگی“ اور اب رفاقت حیات کے ناول ”میرواہ کی راتیں“ نے مجھ پر

Read more

”جاگے ہیں خواب میں“ ناول اور اس کا تخلیقی عمل

ناول تخلیق کرنا ایک نئی زندگی تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔ زندگی بھی ایسی جس کو کوئی ”بج“ نہ لگا ہو یعنی ہر طرح سے مکمل۔ ہمارے یہاں مگر اس بات پر غور بہت کم ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ چونکہ اپنی فطرت میں ’شعر اور شاعری زدہ معاشرہ‘ ہے اس لیے نثری فن کی باریکیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتا ہے۔ پھر بھی بعض لکھنے والے ایسے ہیں جو کہانی کے پلاٹ، موضوع، زبان ، اسلوب اور محاورے کی

Read more

میرا شیونگ برش ، اک ہمدم دیرینہ

انسان کے لیے اس کی زندگی میں بعض اشیاءاسے بے حد عزیز ہوتی ہیں۔ وہ انہیں عزیز از جان رکھتا ہے۔ وہ ان کے بارے میں ہر کسی کوبتاتا پھرتا ہے۔ یہ ہوتا مگر تب تک ہے جب تک وہ اپنے آپ سے محبت کرتا رہتا ہے۔ دیگر انسانوں سے محبت کے عوض ہی اسے اپنے آپ سے محبت کی سرشت حاصل ہوتی ہے۔ بات مگر ہو رہی تھی ان اشیاءکی، جنہیں انسان بہت اہمیت دیتا ہے۔ یقینا آپ میں

Read more

مستنصر حسین تارڑ: کچھ یادیں، کچھ باتیں

کہا گیا ” مستنصر حسین تارڑ، اس عہد کے بڑے اور اہم لکھنے والے ہیں“۔ اس میں خیر شک شبہے کی گنجائش موجود نہیں۔ اس بات کو تقویت مگر تب ملتی ہے جب یہ بات ایک ایسے لکھنے والے کے بارے میں کی جا رہی ہو جو بیک وقت اپنی ذات اور شخصیت کی بے شمار پہچانیں رکھتا ہو۔ وہ ناول نگار ہو، کہانی کار ہو، ڈرامے لکھتا ہو، ڈراموں میں کام کرتا رہا ہو، ٹیلی ویژن کے صاحب طرز

Read more

حلقہ ارباب ذوق ، ایاغ عیسٰی خیلوی اور قیادت کا فقدان

لاہور شہر علم و ادب ہے۔ اپنے دامن میں علمی و ادبی ورثہ لیے لاہور صدیوں سے تشنگان فکر و نظر کی پیاس بجھاتا چلا آرہا ہے۔ لاہور سینہ گیتی پر ایک استعارے کے سمان جیتا جاگتا چلا آیا ہے۔ اپنی عظیم تہذیبی اور ثقافتی روایات لیے۔ گو احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ درانی سے لے کر طالبان اور داعش کی جانب سے خون کی ندیاں بہائے جانے کے باوجود، لاہور ہر صبح پرندوں کی چہکاروں، پھولوں کی مہکاروں

Read more

فطرت کے اعداد و شمار جمع کرنے والے

کچھ ایسے ملازمین کی ضرورت ہے جو مظاہر فطرت اور عناصر فطر ت میں روزمرہ ہونے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھتے ہوں۔ کیا برا ہے۔ اگر یہ ملازمین باقاعدہ تنخواہ دار ہوں اور ان کے کام کرنے کے باقاعدہ اوقات کار مقرر ہوں۔ ان کے فرائض میں شامل ہو کہ وجود فطرت میں پیدا ہونے والے بحرانوں اور تبدیلیوں کے حوالے سے ہفتہ وار اعداد و شمار سامنے لائیں تاکہ ہم جو فیکٹریوں، کارخانوں یہاں تک کہ گھر کے باورچی

Read more

لکڑی کا گھوڑا

ارسٹھ برس بیت گئے اور اب انہترواں برس جاری ہے۔ ہمارے کار پردازان مملکت’خیالی منصوبوں‘ کے ایک ایسے گھوڑے کی تیاری میں لگے ہیں جس کے شکل و صورت حاصل کرتے ہی اس پر سوار جب اپنے ہاتھ میں لی ہوئی جادو کی چھڑی گھمائے گا تو ایسے ایسے معجزے رونما ہوں گے جن کی نظیر ہمیں رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ اردو کے صاحب اسلوب ادیب شفیق الرحمن نے ’حماقتیں‘ میں ایک جگہ لکھا ہے۔ ”جناب آج میں

Read more

تخلیقی عمل کا فروغ : خدشات و امکانات

کسی بھی ریاست میں آگے بڑھنے، ترقی کی رفتار اور انسانی برادری میں باعزت مقام کے حصول کی پیمائش اس میں بسنے والے افراد کے معاصر رجحانات کے ذریعے باآسانی کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی کہ اس ریاست کے افراد مجموعی ترقی کے سفر میں اپنے آپ کو کہاں رکھتے ہیں۔ کیا وہ اس سفر میں دوسروں کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہیں یا پھر کنارے پر بیٹھے ایک تماشائی کے طور پر۔ شریک سفر لوگوں کی غلطیوں اور

Read more

آزادی میں بھی بے حسی کا رنگ نمایاں ہے

ماضی کی بہ نسبت، آج ہم آزادی محسوس کرتے ہیں بطور ایک پاکستانی شہری کے۔لیکن یہ عجیب طرح کی آزادی ہے کہ چاروں طرف بے حسی کا موسم رقصاں رہتا ہے۔ ماضی میں جب ایک قید، ایک گھٹن کے احساس کے ساتھ جیتے تھے تب بھی یہ بے حسی موجود تھی۔ ایک پرچھائی، ایک سائے کی مانند۔ تاہم ہم پاکستانی مبارک باد کے مستحق قرار پاتے ہیں کہ قریب قریب سات دہائیوں کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہمیں آزادی

Read more

میں اور احمد بشیر

پچھلے کچھ دنوں میں جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں میلان کنڈیرا کا ناول ’بقائے دوام‘ ایک ولندیزی ادیب فریدرک ولیم فان ایدن کا ناول ’موت کی ٹھنڈی جھیلیں‘ اور معروف صحافی، دانشور اور ناول نگار احمد بشیر کی زوجہ محمودہ احمد بشیر کی یادداشتوں پر مشتمل ایک مختصر مگر نہایت دلچسپ کتاب ”میں اور احمد بشیر، خون کی لکیر“ شامل ہے۔ پہلے دونوں ناولوں کے اردوتراجم نہایت جامع اور خوبصورت طور پر کیے گئے ہیں۔ اپنے اندر نئی

Read more

زبان: تصور، خیال اور خواہش کے اظہار کا وسیلہ

اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ زبان انسانی تصورات، خیالات اور خواہشات کے اظہار کا موثر ترین وسیلہ ہے۔ معلوم انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسانی اقدار کی بقا اور عالمی امن کے قیام اور اس کے فروغ کے لیے کسی بھی زبان اور اس میں تخلیق کیے گئے ادب نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی خطے اور وہاں آباد قوم کے تہذیبی، ثقافتی اور فکری عناصر کی بنیادیں وہاں کی دھرتی اور اس

Read more