اسے کہنا، دسمبر آ گیا ہے
لفظ تو یہیں کہیں خوار و زبوں پھرتا ہے۔ پھر ایک شاعر آتا ہے۔ وقت کی دھول میں سرگرداں، خلق کے قدموں میں پامال لفظ کو محبت سے اٹھاتا ہے، اسے جھاڑ پونچھ کر تجربے کے خدوخال بخشتا ہے، کیفیت کے سیاق و سباق میں رکھ دیتا ہے۔ لفظ شاعر کی سطروں میں سج جائے تو جانو، سپھل ہو گیا۔ شاعر لفظ کو زندگی عطا کرتا ہے لیکن ظالم چترکار اسے بھی ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیتا ہے۔ منیر
Read more
