کائرہ صاحب، ہم شرمندہ ہیں

بار بار وہی موضوع، بار بار وہی کالم۔ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو شاید کل کو صرف فلمی ستاروں کے بارے میں ہی لکھوں۔ کم سے کم کپڑے تو بدلتے ہیں۔ یہ معاشرہ تو چہرے تک نہیں بدلتا۔ وہی تعفن میں ڈوبی غلاظت کی ڈھیریاں، وہی بدبودار پانی کے شاپر جنہیں چھت پر سے نیچے چلتے راہگیروں پر پھینکا جاتا ہے۔

جب اجلے کپڑوں میں ملبوس یہ شخص بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ آفت کہاں سے ٹوٹی تو ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے۔ مکروہ قہقہے فلک کو چیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ آسماں بھی تو ایک پروہت ہے۔ راکھ اور سیندور ملے گا لیکن بہت یو گیا تو مالا جپ لے گا۔ اور کسی قابل نہیں۔ اپنی جگہ پر یوں ہی کھڑا رہے گا۔ اسی طرح ایک ٹانگ پر، ایک ٹک گھورتا ہوا۔

یہاں کچھ نہیں بدلتا۔ نہ غلاظت کی ڈھیریاں، نہ اجلے کپڑے پہننے والے کی بیچارگی، نہ مکروہ قہقہے۔ ہاں سنا ہے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ شاید قہقہے بلند ہو گئے۔ آواز اس قدر اونچی ہے کہ لگتا ہے کان پھٹ جائیں گے۔ یہ شور باہر کا ہے یا اندر کا؟ واللہ اعلم!

Read more