فروری کا رومانی زکام

ویلینٹائن ڈے آتا تو سال میں ایک بار ہی ہے لیکن فروری کا آدھ مہینہ اس کا بھر پور چرچا بھی رہتا ہے اور تنازعہ بھی۔ قطع نظراس کے کہ یہ اچھا دن ہے کہ برا دن ہے، محبت کا دن ہے کہ بری باتوں کی حوصلہ افزائی کا دن، ہمیں تو بس ایک بات کا یقین ہے کہ سب سے زیادہ خوشی چاکلیٹس، پھولوں اور کارڈز بیچنے والوں کو ہوتی ہے۔ سنگل، شادی شدہ، منگنی شدہ اور نکاح شدہ سب پر اس ماہ مینڈکی کے زکام والی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

ہر سال فروری کے ماہ رائے عا مہ تقسیم ہو جاتی ہے ایک وہ جو گلاب کے پھولوں کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں کرنا چاہتے۔ چونکہ ہم صرف خاموش تماشائی ہیں اور سب کے غم ویلینٹائن یا خوشی ویلینٹائن میں برابر کے شریک ہیں اس لئے چلیں کچھ اس دن کی مناسبت سے ہلکی پھلکی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

Read more

ایمان کو ویلنٹائن ڈے سے خطرہ؟ کچھ حیا چاہیے!

آج ویلنٹائن ڈے تھا، گذشتہ برسوں کے برعکس اِس سال، اِس ممنوعہ دن کے حوالے سے بکثرت تنبیہی پیغامات موصول ہوئے۔ اِن پیغامات کی کثرت اُن ویڈیوز اور پیغامات پر مشتمل تھی جو اِس دن کو یومِ حیا و بے حیائی سے منسوب کئے ہوئے تھی۔ پیغامات میں اِس بات کی تکرار کی گئی تھی کہ:

” اِس دن کی نحوست سے ہمارا شخصی واجتماعی ایمان تباہ و برباد ہو رہا ہے نیز ہماری قوم، (جو ہماری نظر میں تو پہلے ہی شدید بے راہ روی کا شکار ہے) اب اُسے دل جیسی شکل کے غباروں، سرخ پھولوں ، معصوم بھالوﺅں اور جابجا تحائف کی شکل میں بے راہروی کی نئی جہات و خرافات میسر آ گئی ہیں، سو اپنے پیاروں کو، (جو ہمارے نزدیک اس طوفانِ بلا خیز میں کود پڑنے کو بے تاب و بے قرار ہیں) بچانے کے لیے اس دن کا بائیکاٹ کیجیے۔ کچھ حیا خود کیجئے اور کچھ اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو آج مستعار دے دیجئے وغیرہ وغیرہ۔ “

Read more