قصہ غفور صاحب کے کھانے کا

غفور صاحب کھانے پینے کے معاملے میں نہایت حساس تھے۔ مسالے میں ہلدی کے تین دانے زیادہ گر جائیں تو ان کا پارہ چڑھ جاتا تھا۔ کھانے میں پرفیکٹ مسالے اور بہترین خوشبو ان کی ڈیمانڈ تھی۔ ان کی اماں نے یہی دیکھتے ہوئے ایسی لڑکی ڈھونڈ کر دی جس میں حسن صورت تو کوئی ایسا خاص نہیں تھا مگر کھانا پکاتی تو کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ غفور صاحب جیسا نازک مزاج شخص بھی ان کے کھانے میں کبھی نقص نا نکال پایا۔ کھانا پکاتیں تو محلے بھر میں خوشبو جاتی، چائے بناتیں تو پہلی چسکی لینے سے پہلے ہی غفور صاحب خوش ہو جاتے۔ پتی، چینی دودھ سب پرفیکٹ ہوتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ کرونا کی وبا کے باعث دفتروں میں چھٹی ہو گئی اور غفور صاحب بھی گھر میں تڑ گئے۔

گھر میں دوسرا دن تھا کہ ان کی بیگم نے دوپہر کا کھانا سامنے لا سجایا۔ غفور صاحب نے پہلا نوالا لیا اور چنگھاڑے ”یہ کیا ہے؟ کھانے میں نمک ڈالا ہے یا زہر؟ اتنا زیادہ نمک کیسے کوئی کھا سکتا ہے؟ کچھ اور ہے یا یہی زہر کھانا پڑے گا؟“

Read more