قصہ غفور صاحب کے کھانے کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غفور صاحب کھانے پینے کے معاملے میں نہایت حساس تھے۔ مسالے میں ہلدی کے تین دانے زیادہ گر جائیں تو ان کا پارہ چڑھ جاتا تھا۔ کھانے میں پرفیکٹ مسالے اور بہترین خوشبو ان کی ڈیمانڈ تھی۔ ان کی اماں نے یہی دیکھتے ہوئے ایسی لڑکی ڈھونڈ کر دی جس میں حسن صورت تو کوئی ایسا خاص نہیں تھا مگر کھانا پکاتی تو کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ غفور صاحب جیسا نازک مزاج شخص بھی ان کے کھانے میں کبھی نقص نا نکال پایا۔ کھانا پکاتیں تو محلے بھر میں خوشبو جاتی، چائے بناتیں تو پہلی چسکی لینے سے پہلے ہی غفور صاحب خوش ہو جاتے۔ پتی، چینی دودھ سب پرفیکٹ ہوتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ کرونا کی وبا کے باعث دفتروں میں چھٹی ہو گئی اور غفور صاحب بھی گھر میں تڑ گئے۔

گھر میں دوسرا دن تھا کہ ان کی بیگم نے دوپہر کا کھانا سامنے لا سجایا۔ غفور صاحب نے پہلا نوالا لیا اور چنگھاڑے ”یہ کیا ہے؟ کھانے میں نمک ڈالا ہے یا زہر؟ اتنا زیادہ نمک کیسے کوئی کھا سکتا ہے؟ کچھ اور ہے یا یہی زہر کھانا پڑے گا؟“

بیگم غفور نے سہمے ہوئے لہجے میں بتایا ”گھر میں تو اب یہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت احتیاط کرنا پڑ رہی ہے۔ یاد ہی نہیں رہا کہ نمک ڈال چکی ہوں، دوبارہ ڈال دیا۔ اب اسی سے گزارا کرنا پڑے گا“ ۔

غفور صاحب لاچار ہو کر کھاتے گئے اور بیگم کی شان میں توصیفی کلمات ادا کرتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے دیکھا کہ بیگم غفور مصلے پر بیٹھی ہیں، ہاتھ اوپر اٹھائے رو رو کر خدا سے رحم کی درخواست کر رہی ہیں اور اس کا شکر ادا کر رہی ہیں۔

غفور صاحب کے دل کو نہایت اطمینان نصیب ہوا کہ ان کی دھمکیاں صحیح نشانے پر لگی ہیں اور بیگم غفور دہل چکی ہیں۔ اب غلطی نہیں کریں گی۔

اگلی صبح غفور صاحب نے حسب عادت نہار منہ دہی پیالے میں ڈالی اور پہلا چمچ ہی منہ میں ڈالا تھا کہ نعرہ بلند کیا ”یہ کیا ہے؟ اتنا کھٹا دہی؟ کتنے دن پرانا ہے؟ کیا بھینس کو گھاس کی بجائے لیمو کھلا دیے تھے یا پانی کی ناند کی بجائے لیمن گراس کیا پیالیاں پلاتی رہی ہو؟ یا جماتے ہوئے اس میں ٹاٹری ڈال دی تھی؟“

بیگم غفور وہیں سجدے میں گر گئیں اور خدا کا شکر ادا کرنے لگیں۔ غفور صاحب کو غصہ تو بہت چڑھا ہوا تھا لیکن یہ سوچ کر وہ خوش بھی ہو گئے کہ وہ اتنے اچھے ہیں کہ ان کی ڈانٹ کھا کھا کر بھی ان کی بیگم خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ایسا ہیرا میاں انہیں نصیب ہوا ہے۔ اسی خوشی میں وہ دہی چڑھا گئے۔

اس سے اگلی رات اپنی روٹین کے مطابق غفور صاحب نے سائیڈ ٹیبل سے دودھ کا گلاس اٹھایا اور پہلا گھونٹ بھرتے ہی ان کی حالت بری ہو گئی۔ ”اتنی زیادہ شکر؟ اس میں چمچہ ڈالیں تو سیدھا کھڑا ہو جائے۔ یہ دودھ تو شیرہ بھی نہیں ہے، مصری ہے مصری“ ۔

بیگم غفور نے آنچل پھیلا دیا اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنے لگیں۔

اگلی دوپہر کو کھانے سے پہلے ہی غفور صاحب کو کچھ عجیب سی فیلنگ آئی۔ بلکہ فیلنگ کیا، صاف الفاظ میں کہیے کہ کچھ جلنے کی بو آئی۔ وہ بو کا منبع تلاش کرتے کرتے باورچی خانے میں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ ہنڈیا چولہے پر چڑھی ہے، اس میں سے سالن جلنے کی بو بلند ہو رہی ہے اور ان کی بیگم سامنے ہی کھڑی اسے غور سے دیکھ رہی ہیں۔

”اندھی ہو گئی ہو کیا؟ دیکھ نہیں رہیں کہ سالن جل کر کوئلہ ہو رہا ہے اور تم اسے سنبھالنے کی بجائے کھڑی اسے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہی ہو؟“
ان کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھ کر بیگم غفور کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ زیر لب کچھ بڑبڑانے لگیں۔

غفور صاحب اب غصہ بھول کر مکمل طور پر کنفیوز ہونے لگے تھے۔ کہاں یہ حال ہوا کرتا تھا کہ انہیں غصے میں دیکھ کر ان کی بیگم کانپنے لگتی تھیں اور خدا کی پناہ مانگتی تھیں، اور کہاں یہ حال ہو رہا تھا کہ ان کا غصہ دیکھ کر وہ مسکرا رہی تھیں اور خدا کا شکر ادا کر رہی تھیں۔

وہ غصہ بھول کر بولے ”بیگم سیدھی طرح بتاؤ کہ کیا معاملہ ہے؟ تم اچھا بھلا کھانا پکاتے پکاتے پہلے ایسی غائب دماغ ہوئیں کہ نا نمک کا دھیان رہا نا مرچ کا، نا چینی کی خبر ہے کہ دودھ میں کتنی ڈالنی ہے۔ تم کیا چاہتی ہو؟“

بیگم غفور مسکراتے ہوئے بولیں ”تین دن سے آپ کا ذائقے کا ٹیسٹ ٹھیک جا رہا تھا، آج آپ کا سونگھنے کا ٹیسٹ بھی کامیاب ہو گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ کو کرونا نہیں ہے۔ اب کون روز روز جا کر لیبارٹری میں ہزاروں روپے پھینک کر ٹیسٹ کرواتا پھرے۔ میں گھر میں ہی روز تین ٹائم آپ کا کرونا ٹیسٹ مفت میں کر لیتی ہوں۔ جس دن آپ میرا پکایا ہوا کڑوا یا جلا ہوا کھانا خوشی خوشی کھانے لگیں گے، ہم فوراً ہسپتال کی راہ لیں گے“ ۔
تو بھائیو، لاک ڈاؤن کے دوران ہو سکتا ہے کہ آپ کا بھی گھریلو کرونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہو۔ ایسا کھانا کھاتے ہی اپنی صحت یابی کا بلند آواز میں اظہار کر دیا کرو، خواہ بعد میں برتن ہی کیوں نا دھونے پڑیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1395 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *