کینسر کے مریض اداکار عرفان خان کا خط

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمہاری آنکھ اس جھٹکے سے کھلتی ہے جو زندگی تمہیں جگانے کے دیتی ہے، تم ہڑبڑا کے اٹھ جاتے ہو۔ پچھلے پندرہ دنوں سے میری زندگی ایک سسپنس والی کہانی بنی ہوئی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انوکھی کہانیوں کا پیچھا کرتے کرتے میں خود ایک انوکھی بیماری کے پنجوں میں پھنس جاؤں گا۔ ابھی تھوڑے دنوں پہلے ہی مجھے اپنے نیورو اینڈوکرائن (آنتوں سے متعلق) کینسر کے بارے میں پتا چلا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کے مریض پوری دنیا میں بہت ہی کم ہیں، نہ ہونے کے برابر۔ مریض نہیں ہیں تو اس پہ تحقیق بھی ویسے نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہئے تھی۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ ڈاکٹروں کے پاس دوسری بیماریوں کی نسبت اس کے بارے میں کم معلومات ہیں، علاج کامیاب ہو گا یا نہیں، یہ بھی سب ہوا میں ہے، اور میں… میں بس دواؤں اور تجربوں کے کھیل کا ایک حصہ ہوں۔

Read more

جناح ہسپتال کراچی میں کینسر کا جدید ترین اور مفت علاج

کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ہمیں ستمبر میں برین ٹیومر کامرض لا حق ہوا اور پتہ چلا کہ ہمیں سرجری کے ساتھ ساتھ شعاعوں کی بھی ضرورت ہے اور وہ شعاعوں کی جد ید تر ین مشین صرف کراچی میں پائی جاتی ہے۔ اس مشین کی خوبی یہ ہے کہ مریض کو چیڑپھاڑ کے مرحلے سے نہیں گزرنا پڑتا اور وہ علاج کے بعد فوری طور پہ گھر جا سکتا ہے۔ صا حبو بات سچی ہے جب ہم نے یہ سنا کہ مشین صرف ایک ہے اور کراچی میں ہے ہم تو وہیں کرا چی کا نام سن کر اپنا حوصلہ ہار بیٹھے شروع سے ہی ہمارے ذہنوں میں کراچی کے بارے میں بہت ہی منفی تصو یر بٹھا دی جاتی ہے۔رہی سہی کثر میڈیا کی سنسنی خیز خبریں نکال دیتی ہیں۔ خیر دوستوں کے اصرار پر اور تھوڑا حوصلہ کر کے اور کراچی کے بارے میں اپنے اس خود ساختہ امیج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ہم نے اس آ پشن کو ا ستعمال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا؂۔ ہم نے انٹر نیٹ سے جناح سائبرنائف کا ای میل ایڈریس حاصل کیا اور انھیں اپنی کیفیت لکھ بھیجی ایک ہفتے کے اندر ہی انھوں نے ہماری رپورٹیں منگوا لیں ان کا اچھی طرح سے جائزہ لینے کے بعد انھوں نے دسمبر میں علاج کا وقت دے دیا او ر ہم مقررہ تا ریخ اور وقت کو جناح سائبرنائف کراچی پہنچ گیٔے۔

Read more