انگزائیٹی ڈِس آرڈرز کیا ہیں؟

ہم میں سے کون ہو گا جو روزمرہ کی زندگی میں خوف اور پریشانی کی کیفیت سے نہ گزرا ہو۔ مثلاً بچپن میں اماں سے دور اسکول میں داخل ہونے کی ہراسانی۔ امتحان سے قبل کی پریشانی، پھر نوکری ڈھونڈتے وقت انٹرویو دینے کا خوف، بڑے ہجوم کے سامنے تقریر کرنے کی گھبراہٹ اور کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت تذبذب اور گھبراہٹ۔دیکھا جائے تویہ وہ کیفیات ہیں کہ جن سے ہم نپٹتے ہی رہتے ہیں۔ یہ نارمل زندگی کا حصہ ہیں۔ درحقیقت تھوڑی سی پریشانی، تھوڑا سا خوف ہمیں پرخطر حالات سے نپٹنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلاً ہم تقریر کی کئی بار پریکٹس کرتے ہیں۔ انٹرویو کے لیے ممکنہ سوالات کے جوابات تیار کرتے ہیں اور امتحانوں کے لئے پہلے سے اس کی تیاری کا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ وقتی پریشانیاں یا چیلنجز ہمارے ذہن اور جسم پہ اثر انداز تو ہوتے ہیں مگر وقتی طور پہ، مستقل طاری نہیں رہتے۔

Read more