ایران سنی اکثریتی ملک سے کٹر شیعہ ملک کیسے بنا؟


شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔

17 جولائی 1487 کو اردبیل کے صوفی شیخ حیدر اور جارجیا کے شاہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھنے والی مارتھا کے ہاں صفوی صوفی سلسلے کے آخری پیر اور صوفی شاہی سلسلے کے پہلے بادشاہ شاہ اسماعیل صفوی کی پیدائش ہوئی۔ آق قویونلو سلطنت کے صوبیدار شروانشاہ فرخ یاسر کے ساتھ 1488 میں جنگ میں شیخ حیدر صفوی مارے گئے اور 1494 میں آق قویونلو نے اردبیل پر قبضہ کر لیا جس میں شیخ حیدر کے سب سے بڑے بیٹے علی مرتضی صفوی قتل ہوئے اور سات سالہ اسماعیل کو گیلان کی طرف فرار ہونا پڑا جہاں انہوں نے اپنے وقت کے علما سے تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں اناطولیہ، آذربائیجان اور کردستان کے شیعہ ترکمان قزلباش قبائیلیوں کی ایک زبردست فوج کے ساتھ اسماعیل صفوی کی واپسی ہوئی اور 1500 میں ان کی ایران میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ 1510 میں مکمل ہوا۔

اسماعیل صفوی

اسماعیل صفوی کی فتوحات میں وسطی ایشیا کے داغستان کی سرحد تک کا علاقہ، تبریز، کردستان، عراق عجم اور فارس کے علاقے، ارض روم، ماژندران، خوزستان، بغداد، آرمینیا، خراسان شامل تھے۔ اس کی ایک اہم فتح وہ تھی جب اس نے مرو میں بخارا کے طاقت ور حکمران شیبانی خان کی 28 ہزار کی فوج پر 17 ہزار فوجیوں سے حملہ کیا اور شیبانی خان کو قتل کر دیا۔ یہ اتنی اہم فتح تھی کہ اسماعیل صفوی نے شیبانی خان کی کھوپڑی کا جواہر سے آراستہ پیالہ بنوایا اور اسے پینے پلانے کے شغل میں لایا۔ بعد میں اسماعیل صفوی نے اس پیالے کو مغل بادشاہ بابر کو تحفے کے طور پر ارسال کیا جو کہ شیبانی خان کے ہاتھوں شکست کھا چکا تھا اور اس کا جانی دشمن تھا۔ اس تحفے کا برصغیر کو بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہوا جس کا ذکر آگے آئے گا۔

اسماعیل صفوی ایک متعصب شیعہ حکمران تھا۔ بغداد پر قبضے کے بعد نہ صرف یہ کہ اس نے عباسی خلفا کے مقبرے ڈھا دیے، بلکہ عظیم صوفی بزرگ حضرت عبدالقادر جیلانی کا مقبرہ بھی اس سے محفوظ نہ رہ پایا۔ شاہ اسماعیل صفوی شیعہ مسلک کے نام پر مذہبی جنگ لڑتا تھا۔ اس نے بہ جبر اپنی سلطنت پر شیعہ مسلک نافذ کر دیا۔ اس وقت تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا، مگر شاہ اسماعیل صفوی نے سنیوں کو شدید جبر و تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دو آپشن دیں، یا تو شیعہ ہو جاؤ یا پھر فوت ہو جاؤ۔ ایرانی عقلمند قوم ہیں، انہوں نے زندہ رہنے کو ترجیح دی۔

سلطان سلیم یاوز

اس وقت ایران کے شمال مغرب میں طاقت ور عثمانی سلطنت کا سلطان بایزید دوئم بڑھاپے کی وجہ سے سلطنت پر گرفت کھو رہا تھا۔ اس کے ولی عہد شہزادہ احمد نے بغاوت کر دی۔ اس زمانے میں روایت تھی کہ بادشاہ تخت حاصل کرتے ہی اپنے تمام بھائیوں کو مروا دیتا تھا۔ اپنی جان خطرے میں دیکھ کر چھوٹے شہزادے سلیم نے بھی بغاوت کر دی جسے سلطان بایزید نے شکست دی اور وہ فرار ہو کر کریمیا چلا گیا۔

عثمانی سلطنت کے ایران سے ملحقہ علاقوں میں شیعہ آبادی موجود تھی۔ انہی دنوں عثمانی سلطنت کو خلفشار میں دیکھ کر شاہ اسماعیل صفوی نے وہاں بغاوت کے شعلے بھڑکائے اور عثمانی سلطنت میں ایک بڑی بغاوت ہو گئی۔ ترک سلطان بایزید کا وزیر علی پاشا بھی ان شیعہ قزلباش باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس بغاوت پر بایزید دوئم نے بمشکل قابو پایا۔ سنہ 1512 میں عثمانی شہزادہ سلیم کریمیا سے واپس پلٹا اور ترک فوج کے طاقتور جانثاری دستوں کی مدد سے اپنے باپ بایزید کو تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔

اس وقت تک شاہ اسماعیل صفوی کی ہیبت ہر طرف طاری ہو چکی تھی۔ وہ ایک ناقابل شکست جرنیل اور جابر حکمران کے طور پر نام بنا چکا تھا۔ عثمانی سلطنت میں شیعہ آبادی پر بھی اس کا بہت زیادہ اثر تھا۔ حتی کہ ترکوں کے اہم ترین فوجی دستے جانثاریوں کی اکثریت بھی شیعہ صوفی مسلک سے تعلق رکھتی تھی۔ شاہ سلیم اول، جو کہ تاریخ میں سلیم یاؤز، یعنی ہیبتناک یا سخت کے نام سے مشہور ہوا، اپنی سلطنت کو بچانے کے لئے سب سے پہلے شاہ اسماعیل صفوی کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے پر مجبور ہو گیا۔

تخت سنبھالنے کے محض دو برس بعد 23 اگست 1514 کو سلطان سلیم یاؤز اپنا لشکر لے کر شاہ اسماعیل صفوی سے فیصلہ کرنے آیا۔ چالدران کے مقام پر دونوں عظیم سلطنتوں کی فوجوں کا سامنا ہوا۔ سلطان سلیم کی فوج کی تعداد کا اندازہ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ لگایا جاتا ہے۔ شاہ اسماعیل صفوی کی فوج کی تعداد چالیس ہزار سے اسی ہزار تک بتائی جاتی ہے جس میں دنیا کے مانے ہوئے گھڑسوار دستے موجود تھے۔ لیکن سلطان سلیم کے پاس ایک ایسا ہتھیار تھا جو کہ شاہ اسماعیل صفوی نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ ایک سو توپوں اور بندوقوں کے ساتھ مسلح جانثاریوں کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ایک منظم اور تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ ایک غیر منظم فوج اور ناقابل شکست بادشاہ سے تھا۔

چالدران کی جنگ

ایرانی بادشاہ ناقابل شکست نہ رہا۔ شاہ اسماعیل صفوی کو بدترین شکست ہوئی اور وہ زخمی ہو کر میدان جنگ سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔ اس کی دو بیویاں اور تمام حرم بھی سلطان سلیم یاؤز کے قبضے میں چلا گیا۔ شاہ اسماعیل صفوی کا اعتماد ایسا ٹوٹا کہ اس نے سلطنت اور فوج کے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دیا اور خود کو شراب کے پیالے میں غرق کر لیا۔ ادھر عثمانی سلطنت سے شیعہ قبائل کی بغاوتوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔

اس جنگ سے فارغ ہو کر سلطان سلیم یاؤز نے مصر کی مملوک سلطنت پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی۔ اس وقت بغداد پر شاہ اسماعیل صفوی کے قبضے کے بعد آخری عباسی خلیفہ المتوکل الثالث قاہرہ میں مقیم تھا۔ اس نے خود کو شمشیر بدست سلطان سلیم یاؤز کے سامنے پایا تو بلاجبر و اکراہ خلافت سے دستبردار ہو کر خلافت سلطان سلیم یاؤز کو سونپ دی اور یوں سلطان سلیم یاؤز پہلا عثمانی خلیفہ بنا۔ عراق اور حجاز مقدس پر قبضے کے بعد اس کا خلافت کا دعوی مزید مستحکم ہو گیا۔ مگر بدقسمتی سے عظیم جرنیل اور حکمران سلطان سلیم یاؤز کو صرف آٹھ سال حکومت کرنے کا موقع ملا اور وہ بیماری کے ہاتھوں جان ہار بیٹھا۔

صفوی ایران

شاہ اسماعیل صفوی نے چالدران کی شکست کے بعد خود کو مکمل طور پر شراب میں ڈبو دیا۔ اس نے چالدران کی جنگ کے دس سال بعد 23 مئی 1524 کو محض چھتیس سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا طہماسپ صفوی تخت نشین ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر چالدران کی جنگ میں عثمانیوں کو شکست ہو جاتی تو شاہ اسماعیل صفوی ایک فاتح کے طور پر امیر تیمور سے بھی بڑا نام ہوتا اور نہ صرف یہ کہ ایران بلکہ پورا مشرق وسطی آج شیعہ مسلک کا پیروکار ہوتا۔

سلطان سلیم یاؤز کے جانشین سلطان سلیمان ذی شان اور دیگر سلاطین عثمانیہ، شاہ طہماسپ صفوی، عباس صفوی اور دیگر ایرانی بادشاہوں کو چالدران جیسی شکست دینے میں ناکام رہے۔ جنگوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ دونوں سلطنتوں میں پہلا بڑا معاہدہ امن 1555 میں سلطان سلیمان ذی شان اور شاہ طہماسپ صفوی میں معاہدہ آسماسیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی رو سے جارجیا اور آرمینیا کو عباسیوں اور صفویوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر لیا گیا، کردستان بھی تقسیم ہوا، بغداد اور بیشتر عراق عثمانیوں کی ملکیت قرار پایا اور یوں انہیں خلیج فارس تک رسائی ملی، ایرانیوں کو اپنا شاہ اسماعیل صفوی کے دور کا دارالحکومت تبریز اپنے پاس رکھنے کی اجازت ملی، اس کے علاوہ وسطی ایشیا کے داغستان اور آذربائیجان وغیرہ صفوی سلطنت کا حصہ قرار پائے۔ سنہ 1639 میں ہونے والے قصر شیریں کے معاہدے نے آسماسیہ کے معاہدے کو مزید مضبوط کیا۔

سلطان سلیم یاؤز

ان معاہدوں کی ایک اہم شق، جسے سنی عثمانیوں کی ایک بڑی فتح اور شیعہ صفویوں کے لئے کافی ذلت آمیز شق تسلیم کیا جاتا ہے، وہ یہ تھی کہ صفوی سلطنت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ اور دیگر صحابہ پر تبرا بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ صفوی سلطنت خود کو ایک انتہا پسند شیعہ سلطنت کے طور پر پیش کرتی تھی اور یہ شق ان کے لئے اپنے عقیدے پر خود ہی پابندی تسلیم کرنے کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔ بعد کے تمام عثمانی و صفوی معاہدوں میں بھی یہ شق شامل رہی۔

ایک ذکر ہوا تھا بابر کو اسماعیل صفوی کی طرف سے دیے گئے شیبانی خان کی کھوپڑی کے پیالے کے تحفے کا جس کی وجہ سے برصغیر کو بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہوا۔ ان صفوی اور عثمانی جنگوں کے دوران بابر ایک ابھرتی ہوئی قوت بن رہا تھا۔ وسطی ایشیا کے محاذ پر خود کسی پریشانی سے بچنے اور دشمن کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی خاطر دونوں سلطنتیں بابر پر توجہ دے رہی تھیں۔

بابر کو توپ خانے کے عثمانی ماہر استاد علی قلی خان اور بندوقوں کے ماہر مصطفی رومی کی صورت میں عثمانیوں سے ایک اہم جنگی ہتھیار کا تحفہ ملا، جس کے بل پر اس نے ابراہیم لودھی کو شکست دی اور برصغیر میں مغل حکومت قائم کی۔ ان کے علاوہ عثمانیوں نے عظیم عثمانی آرکیٹیکٹ معمار سنان کے شاگردوں کو بھی بھیجا جن کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن مغل عمارتوں، خاص طور پر تاج محل میں دکھائی دیتے ہیں۔


معتدل مزاج عرب ایک کٹر وہابی ریاست کیسے بنا؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 599 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

6 thoughts on “ایران سنی اکثریتی ملک سے کٹر شیعہ ملک کیسے بنا؟

  • 11-11-2016 at 4:23 pm
    Permalink

    اسکا مطلب ہے کہ ہر دور کے حکمران نے اپنے مسلک کو مضبوط کرنے کے لئے دوسرے مسلک والوں پر جبر اور تشدد کیا اور مجبور کر دیا کہ مسلک تبدیل کریں یا موت ہے

  • 11-11-2016 at 9:34 pm
    Permalink

    حجاز سعودی عرب کیسے بنا؟ جنت البقیع کے مزارات ختم کرکے اپنی بادشاہت قائم کرنے والا عبدالرحمن بن سعود کون تھا؟
    پاکستان میں سعودی اسلام کب اور کیسے پہنچا؟
    ایک شیعہ محمد علی جناح اور راجہ صاحب آف محمود آباد جیسے شیعوں کے پیسے سے جس ملک کی بنیاد رکھی گئی وہ انتہا پسندوں کے ہاتھ کیسے لگا اور اس میں ضیاءالحق کا کردار کیا تھا ؟
    ان سوالات پر بھی لکھیے گا

  • 12-11-2016 at 10:03 am
    Permalink

    بہت اچھا کالم ہے

  • 12-11-2016 at 12:30 pm
    Permalink

    بیکا ر کی محنت کی ایک جھوٹ گھڑنے کے لئے جتنے اس تحریر میں الفاظ ہیں اتنا گناہ اپنے سر کرلیا لکھاری نے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنو عباس کے خلیفہ مامون رشید نے علی بن موسیٰ الرضا (ع) فرزند رسول کو خراسان (ایران) بلا کر اپنا جانشنین بنایا کیونکہ وہ ایران عراق و اطراف شیعوں سے خوف ذدہ تھا اس عمل سے اپنی بادشاہت قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ شیعہ اس کے خلاف قیام نہ کریں، خلافت عثمانیہ کجا اور بنو عباس کی حکو مت کجا اُس دور میں شیعہ مسلمانوں کے تذکرے تاریخ موجود ہیں جناب

  • 13-11-2016 at 10:30 am
    Permalink

    بہت ہی دلچسپ کالم ہے جس میں تاریخ کو خوب توڑا موڑا گیا ہے۔۔۔ ایران میں شیعہ تو اس وقت بھی تھے جب حضرت سلیمان فارسی نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شیعہ ہوئے تھے۔ ایک کالم نگار کو اتنی معتصب نظریے کے ساتھ تاریخ کا یوں مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ کبھی برصغیر میں بھی شیعت کے خلاف مظالم پہ قلم اٹھائیے۔۔۔۔ شکریہ

  • 14-11-2016 at 7:09 pm
    Permalink

    Good Question

Comments are closed.