معتدل مزاج عرب ایک کٹر وہابی ریاست کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی شروع ہوتی ہے سنہ 1744 کے اس تاریخی دن سے جب نجد کے قبائلی لیڈر محمد ابن سعود اور ایک ابھرتے ہوئے سخت گیر حنبلی عالم دین محمد بن عبدالوہاب کے درمیان اتحاد ہوا۔ ابن سعود کے ذمے جہانداری طے پائی اور ابن عبدالوہاب اس مجوزہ ریاست کے مذہبی پیشوا قرار پائے۔ ابن عبدالوہاب کی فہم کے تحت اس وقت کے مسلمان، اسلام کی بنیاد سے ہٹ کر شرک میں مبتلا ہو چکے تھے اور اس اتحاد کا مقصد مسلمانوں کو ابن عبدالوہاب کی فہم دین کے مطابق دین کا جو سچا راستہ تھا، اس پر لانا تھا۔ ابن سعود کے بیٹے کی شادی ابن عبدالوہاب کی بیٹی سے ہوئی اور یوں اس سیاسی معاہدے میں رشتے داری نے مزید مضبوطی پیدا کی۔ اس طرح ’امارت الدرعیہ‘ نامی سلطنت کی بنیاد پڑی جس نے آنے والے وقتوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس امارت کو پہلی سعودی سلطنت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

محمد بن عبدالوہاب رائج الوقت اسلام میں بدعات دیکھتے تھے اور اسلام کو اس کی اصل حالت میں لانے کے دعویدار تھے۔ وہ صوفیت، قبروں پر مقبرے تعمیر کرنے اور بہت سی دوسری رائج الوقت رسومات کو شرک کی حد تک پہنچ جانے والی بدعت جانتے تھے اور اسلام کی سخت گیر لغوی تشریح کے قائل تھے۔ وہ خاص طور پر امام ابن تیمیہ کی تعلیمات کے معتقد تھے۔

نجد ایک دور دراز کا پسماندہ علاقہ تھا جہاں نہ کوئی اہم مقامی پیداوار ہوتی تھی اور نہ ہی وہ کسی اہم تجارتی روٹ پر واقع تھا۔ اسی وجہ سے عثمانیوں نے سرزمین حجاز کو تو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا، مگر نجد اور ربعہ الخالی وغیرہ کے علاقوں میں انہوں نے کبھی دلچسپی نہ لی۔ عثمانی خلیفہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور صوفیا کے ماننے والے تھے۔ ریاست میں ان کی پالیسی یہ تھی کہ ہر مذہب و مسلک کو آزادی سے اپنے عقیدے پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دی جائے۔ ہاں اگر کوئی بھی گروہ ان کے اقتدار کے لئے خطرے کا باعث بنتا تو اس کے ساتھ وہی بہیمانہ سلوک کیا جاتا جو کہ بادشاہوں کی روایت رہی ہے۔

امارت الدرعیہ نے جہاد کے لئے عربوں کو بلایا اور فتوحات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ سنہ 1765 میں محمد ابن سعود کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے عبدالعزیز حکمران بنے۔ جلد ہی دینی جذبے سے سرشار نوجوانوں کی فوج نے امارت الدرعیہ کی سرحدیں عمان کی سلطنت تک پہنچا دیں۔ دوسری جانب وہ کویت اور عراق تک جا پہنچے۔ مغربی سرحدیں حجاز کے نواح تک جا پہنچیں۔ اسی دور میں عثمانی علاقوں میں بھی لوٹ مار کی خاطر دھاوے مارے۔ سنہ 1802 (کچھ روایات 1801 بتاتی ہیں) میں عبدالعزیز ابن محمد بن سعود کی فوجوں نے کربلا کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ آٹھ گھنٹے کے قبضے کے دوران یہاں پانچ ہزار کے قریب شہری قتل کیے گئے، امام حسینؓ کے روزے کے گنبد کو زمین بوس کر دیا گیا، اور بہت سی دوسری مذہبی نسبت رکھنے والی عمارتیں بھی تباہ و برباد کر دی گئیں۔ جب یہ فوجیں واپس پلٹیں تو چار ہزار اونٹوں پر مال غنیمت لدا ہوا تھا۔

عبداللہ بن سعود

اس وقت عثمانی فوجیں یورپ کے محاذ پر مصروف تھیں۔ مصری صوبے پر فرانسیسی قہرمان نپولین بوناپارٹ نے حملہ کیا ہوا تھا۔ ان حالات میں سلطنت عثمانیہ کے لئے حجاز کی طرف فوجیں بھیجنا ممکن نہ تھا اور آل سعود نے عثمانیوں کی اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سنہ 1803 میں مختصر وقفے کے لئے سعودیوں نے مکہ پر بھی قبضہ کر لیا مگر جدہ کے عثمانی گورنر شریف پاشا نے قبضہ واپس حاصل کر لیا۔ 1806 میں سعودی دوبارہ مکہ پر قابض ہو گئے اور مکہ شہر کو لوٹ لیا گیا۔ عثمانی دور میں مسجد الحرام میں چار مسلکوں کے اماموں کے مصلے موجود تھے جن کے پیچھے ان کے ماننے والے نماز ادا کرتے تھے۔ ان اماموں کو ہٹا کر وہابی مسلک کا امام تعینات کر دیا گیا۔ مکہ اور مدینہ میں حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ اور دوسری محترم ہستیوں کے مقابر شہید کر دیے گئے۔ جنت المعلا اور جنت البقیع کے قبرستانوں میں عثمانیوں اور ان سے پہلے کے مسلم حکمرانوں نے ازراہ عقیدت کئی مقابر کی عمارات تعمیر کرائی تھیں۔ ان کو شرک کے مقامات قرار دے کر سعودی افواج نے گرا دیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مسجد نبوی کی عمارت کو بھی کچھ نقصان پہنچایا گیا۔

سنہ 1804 میں سعود بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا اور ان کی جگہ ان کے بیٹے عبداللہ بن سعود حکمران بنے۔ عثمانی خلیفہ مصطفی چہارم نے 1807 میں خدیو مصر محمد علی پاشا کو سعودی بغاوت کو کچلنے کا حکم دیا۔

ابراہیم پاشا

محمد علی پاشا ایک طاقتور صوبے دار تھا جو کہ محض برائے نام عثمانی سلطنت کے ماتحت تھا۔ سعودیوں سے اس کو لڑانے میں عثمانی خلیفہ کو دوہرا فائدہ تھا کہ دونوں میں سے ایک دشمن سے جان چھوٹتی۔ اس وقت مصر اندرونی خلفشار سے دوچار تھا اس لئے فوج بھیجنے میں تاخیر ہوئی۔ بالآخر 1811 میں محمد علی پاشا کے بیٹے طوسون پاشا نے حجاز کو سعودیوں سے واپس لیا۔ جنگ جاری رہی۔ سنہ 1816 میں بیماری کے باعث طوسون پاشا کا بھی انتقال ہوا اور جلد ہی امارت الدرعیہ کے خلاف مہم کی کمان ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم پاشا نے سنبھالی۔

ابراہیم پاشا نے عرب قبائلی سرداروں کے ساتھ سیاسی انداز میں حسن سلوک کرتے ہوئے ان کو چرب زبانی اور بیش قیمت تحائف سے نوازنا شروع کیا تو آل سعود تنہا ہوتے چلے گئے۔ 1818 میں سعودی دارالحکومت الدرعیہ پر ابراہم پاشا کا قبضہ ہو گیا۔ سنہ 1819 میں الدرعیہ کو تباہ کر کے خس و خاشاک میں ملا دیا گیا، اور سعودی حکمران عبداللہ بن سعود کو زنجیروں میں جکڑ کر استنبول بھیج دیا گیا جہاں ان کا سر قلم کر کے اسے باسفورس میں بہا دیا گیا۔ یوں پہلی سعودی سلطنت کا خاتمہ ہوا۔

دوسری سعودی سلطنت نجد میں 1824 سے لے کر 1891 تک قائم رہی۔ پہلی سلطنت کے برعکس اس کے عزائم توسیع پسندانہ نہیں تھے اور یہ نجد کے غیر اہم علاقوں تک محدود رہی جن میں عثمانیوں کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

شریف مکہ حسین بن علی

پہلی جنگ عظیم کے موقع پر شریف مکہ حسین بن علی نے برطانوی سلطنت کے ساتھ مل کر عثمانی خلافت سے بغاوت کر دی اور سلطنت حجاز قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ سلطنت 1916 سے 1925 تک قائم رہی۔ نجد میں دوبارہ زور پکڑنے والے آل سعود نے 1925 میں حجاز پر بھی قبضہ کر لیا اور شاہ عبدالعزیز ابن سعود نے خود کو نجد اور حجاز کی سلطنتوں کا بادشاہ قرار دے دیا۔ سنہ 1932 میں دونوں کا ادغام کر کے پورے ملک کو سعودی عرب کا نام دے دیا گیا۔ برطانیہ نے سعودیوں کی حمایت کی۔ لیکن شریف مکہ کو عثمانیوں کے خلاف خدمات کا صلہ دینے کے لئے ہاشمی خاندان کے شہزادوں کو اردن، شام اور عراق کی بادشاہت دے دی گئی۔

حجاز پر آل سعود کا قبضہ ہونے کے بعد دوبارہ سخت گیر وہابی تفہم دین کا نفاذ کیا گیا۔ مقدس سمجھے جانے والے کئی مذہبی مقامات کو دوبارہ ڈھا دیا گیا۔ تیل نکلنے کے بعد سعودی عرب کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی اور اسے ایک غیر اہم پسماندہ ملک کی بجائے ایک طاقتور ملک سمجھا جانے لگا۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی اہمیت اور دولت میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا اور اس کے پاس اپنے نظریات کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے وسائل کوئی مسئلہ نہ رہے۔

نومبر 1979 میں خانہ کعبہ پر جہیمان العتیبی کی سرکردگی میں سخت گیر مذہبی جنجگجوؤں کے قبضے کے واقعے کے بعد مملکت سعودیہ مزید شدت پسند ہو گئی اور مذہبی پولیس کو بہت زیادہ اختیارات دے دیے گئے۔ ملک میں وہابی علما کے رول میں اضافہ ہوا، اخبارات میں خواتین کی تصاویر پر پابندی عائد کی گئی، ٹیلی وژن پر عورتیں ممنوع قرار پائیں، سینما اور میوزک شاپس بند کر دی گئیں، سکولوں کے نصاب میں تبدیلی کر کے مذہبی تعلیم میں اضافہ کیا گیا اور خواتین کے پردے پر سختی کی گئی۔

جہیمان العتیبی

لیکن عثمانی دور کی تمام مسالک کو برداشت کرنے کی پالیسی ختم کر کے صرف سخت گیر وہابی فکر کو نافذ کرنے کے اثرات سامنے آنے لگے۔ پہلا بڑا واقعہ تو یہی 1979 میں مسجد الحرام پر مسلح افراد کے قبضے کا تھا۔ اس کے بعد جب سوویت افغان جنگ میں سعودی بھی اپنے پیٹرو ڈالروں اور جوانوں کے ساتھ شامل ہوئے تو ان میں سے بہت سے جوان القاعدہ جیسی انتہاپسند تنظیموں میں شامل ہو گئے۔ ایک وقت تھا جب 1744 میں وہابی فکر کو خاندان سعود نے اپنے اقتدار کے حصول کے لئے استعمال کیا تھا۔ اب وہ وقت آیا جب اسی فکر کے تحت تربیت یافتہ نوجوانوں نے اسی دلیل کے تحتی آل سعود کی حکومت کو غلط کہنا شروع کر دیا جس کے تحت ان سے افغان حکومت کے خلاف جنگ کرائی گئی تھی۔ جو فتاوی افغان حکومت کے ’اسلام دشمن‘ سوویت یونین کا اتحادی ہونے کی وجہ سے اس پر لگائے گئے تھے اور اس کے خلاف جنگ جائز قرار دی گئی تھی، وہی دلائل یہ افغان پلٹ جہادی اب ’اسلام دشمن امریکہ‘ کی اتحادی سعودی حکومت کے خلاف استعمال کرنے لگے۔

سعودیوں نے القاعدہ پر تو کافی حد تک قابو پا لیا، مگر اسی فکر کی حامل مگر اس سے کہیں انتہاپسند داعش اب سعودی عرب کے اندر خود کش دھماکوں اور دہشت گردی میں ملوث ہو گئی ہے۔ اس کے بعد اب سعودی حکومت باقی مسالک، یعنی شافعی، مالکی اور حنفی کو بھی اہمیت دینے لگی ہے، اور اس کے علاوہ سعودی نوجوانوں کی تنگ نظری ختم کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر موسیقی اور دوسرے تفریحی مواقع کی عوام کو فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی حکومت ہر ویک اینڈ پر اپنے شہریوں کے لئے کئی تقریبات کرانے کا اعلان کرا چکی ہے اور ایک ایسا میوزک کنسرٹ بھی کرایا جا چکا ہے جسے لڑکے لڑکیوں نے اکٹھے دیکھا تھا۔

Nov 12, 2016


ایران سنی اکثریتی ملک سے کٹر شیعہ ملک کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1442 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
5 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments