کچھ آدم زمیں زاد کے بارے میں


تعزیت نامہ سلیم احمد۔ مضمون کا عنوان دیکھ کر میں ایک لمحے کے لیے چونک گیا۔ گارجیئن اخبار نے سُرخی جمائی تھی۔ نظر دوڑائی تو تصویر نامانوس تھی۔ ان سے اور کوئی تعلق تو نہیں ہوسکتا تھا، نام کی مماثلت کی وجہ سے مضمون کی دوچار سطریں پڑھنا شروع کیں۔ رابرٹ بُش نام کے کسی صاحب نے اپنے دوست سلیم احمد کے لیے تعزیتی نوٹ لکھا تھا، مگر نام کے فوراً بعد جو اطلاع درج تھی وہ توّجہ مبذول کرنے کے لیے کافی تھی۔ ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کرنے والے سلیم احمد نے آدم زمین زاد کے قلمی نام کے تحت چھ ناول شائع کیے۔ مضمون میں آگے چل کر لکھا ہے کہ ان ناولوں کے ترجمے دس سے زیادہ زبانوں میں ہوئے اور اپنی خلاقی کی وجہ سے بہت سراہے گئے، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں محروم الارث لوگوں کی زندگی سے گہری وابستگی نظر آتی ہے۔

آدم زمیں زاد۔ واقعی یہ قلمی نام تھا۔ اس ایک نام سے کتنی بہت سی باتیں یاد آنے لگیں اور ماضی قریب کے اوراق پلٹنے لگے۔ آدم زمیں زاد کا نام ایک دم سے سامنے آیا تھا اور اس سے نہ جانے کیوں ایک پُراسراریت سی محسوس ہوئی۔ اس کی کتاب پر تبصرے برطانیہ کے دو ایک اخباروں میں دیکھے جو کراچی میں دستیاب ہو جاتے تھے۔ آدم زمیں زاد کا نام میں نے پہلی مرتبہ صمد شاہین سے سُنا۔ وہی ممتاز شیریں اور نیا دور والے۔ کتابوں سے بھرے ہوئے ایک فلیٹ میں تنہا رہتے تھے اور کتابوں کی باتیں کیا کرتے تھے۔ بہت کتابیں، بہت باتیں۔ انھوں نے اس کتاب کے بارے میں تبصرہ پڑھا تو ان کو دل چسپی ہوگئی، پہلے مصنف کے نام سے۔ ’’یہ نام اس طرف کا نہیں لگتا۔ بلوچستان کا کوئی سردار ہوگا یا سندھ کے علاقے سے‘‘ وہ قیاس آرائی کرتے رہے۔ اس زمانے میں اس قسم کا نام خود ایک کہانی معلوم ہوتا تھا۔ اس کی کتاب جب ہاتھ آئی تو اچھی لگی۔ محل وقوع اور موضوع کراچی مگر دیکھنے کا زاویہ الگ۔ غیرجذباتی انداز میں جانے پہچانے کرداروں کا بیان۔ وہ ناول مجھے اچھا لگا۔ حالاں کہ عنوان میں House یعنی گھر اور بُرج کے تلازمے کو چھوڑنا پڑا مگر اس کے اچھے خاصے صفحات کا ترجمہ کر ڈالا، جس رسالے میں اسے شائع ہونا تھا اس کے مُدیر پیچھے نہ ہٹ جاتے تو شاید میں پورا ناول ترجمہ کرڈالتا۔

شاید ایسا نہ ہوتا۔ مدیر صاحب نے کام نہ کرنے کا ایک بہانہ فراہم کردیا۔

یہ ناول اچھا لگا مگر اس کے بعد ملی جلی کیفیت رہی۔ ایک آدھ کتاب پسند آئی۔ اس کا ضخیم ترین ناول ’’سائرس، سائرس‘‘ بہت مختلف انداز میں لکھا گیا۔ پھر اس کا نام سامنے آنا بند ہوگیا۔ کوئی نئی کتاب سامنے نہیں آئی اور ادبی منظر سے جیسے غائب ہوگیا۔ اب اچانک یہ تعزیت نامہ۔۔۔

آدم زمیں زاد کا بھید کُھل گیا۔ اس کا اصلی نام سلیم احمد تھا۔ فاطمہ عزیز اور شمیم احمد کا بیٹا نیروبی میں پیدا ہوا مگر اس کی ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ پاکستان میں گزرا جہاں سے اس کے والدین کا تعلق تھا۔ اس کے والد کو سندھ میں زمین الاٹ ہوئی تھی۔ اپنے دوست کے مضمون کے مطابق اس نے ادب کی ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، پھر کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور اس کے بعد کراچی یونیورسٹی میں انگریزی پڑھانے لگا۔ اس نے امریکا، کینیڈا اور اسکنڈے نیویا کے ممالک میں ایک عرصے تک گھومنے گھامنے کے بعد 1974ء میں انگلستان جا پہنچا۔ پہلے اس نےلندن میں قیام کیا، پھر ایسیکس کے علاقے میں اسکول میں پڑھانے لگا۔ 1989ء تک وہ اسکول میں پڑھاتا رہا۔ جب اس کا پہلا ناول شائع ہوا اور پسند کیا گیا تو اس نے ملازمت ترک کر دی۔

اس نے 1987ء اور 1990ء کے درمیان چار ناول شائع کیے اور یہ اس کی زندگی کا بڑا بھرپور تخلیقی عرصہ ہے۔ ان ناولوں میں تیرھواں بُرج بھی شامل ہے جوکراچی میں رہنے والے ایک غریب کلرک کے گرد گھومتا ہے، جو جعلی پیر کے فریب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس ناول کو پسند کیا گیا، پھر یہ بُکر انعام کے لیے بھی زیرغور رہا۔

اس کے دوسرے ناول کے کردار افریقہ کے چھوٹے چھوٹے بچّے ہیں جو خانہ جنگی اور قحط کی تباہ کاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ معصومیت، ذہانت اور قہقہے ان کے ہتھیار بتائے گئے ہیں۔ اس ناول کی تمام آمدنی مصنّف نے قحط سالی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کے نام کردی۔

لکھنے کے معاملے میں سلیم ہمیشہ بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے کا قائل تھا، اس کے دوست نے لکھا۔ چناںچہ اپنے چوتھے ناول ’’سائرس، سائرس‘‘ میں اس نے یہی خطرہ مول لیا۔ اس ناول پر اعتراضات بھی ہوئے اور اسے پسند بھی کیا گیا۔ یہ اس کا طویل ترین ناول تھا۔

اس کے بعد دو ناول اور سامنے آئے۔ مگر 1999ء میں ٹریفک کے ایک حادثے نے اسے زخمی کر دیا اوروہ زخم مندمل نہیں ہوسکے۔ پیہم بیماریوں نے اس کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔ اس نے کئی ناول شروع کیے مگر مکمل نہیں کرسکا۔ ناولوں کے علاوہ اس نے نظمیں بھی لکھیں جو زیادہ تر غیرمطبوعہ رہیں۔

رابرٹ بُشن نے اپنے دوست سلیم احمد کی ذہانت اور مفاہمت سے دور رہنے والی گہری وابستگی کی خاص طور پر تعریف کی ہے۔

چند ایک انگریزی اخباروں میں مُختصر نوٹ سامنے آئے مگر زیادہ ذکر نہیں ہوا۔ کیا زمیں زاد کا عرصۂ شہرت ختم ہونے لگا تھا؟ وہ بے توجہی کا مستحق تو نہیں مگر انگریزی ناول نگاری کا انداز اس سے آگے بڑھ گیا۔ وہ عجوبہ نہیں رہا۔ اس کے باوجود اس میں جدّت تھی اور چیزوں کو دیکھنے کا ڈھنگ بھی، جس نے کراچی کے چند کرداروں کو بھی اس طرح دیکھا۔

اس تعزیت نامے کو میں نے فیس بک پر چسپاں کیا تو پہلا تاثر ڈاکٹر منیر الدین احمد کا آیا۔ انھوں نےلکھا کہ آدم زمیں زاد مجھ سے ملنے کے لیے ہیم برگ (جرمنی) آیا حالاںکہ میں اس سے واقف نہیں تھا۔ اس کی ساتھی خاتون اس یونیورسٹی کی طالب علم تھیں اور انھوں نے ہی اسے بتایا تھا کہ میں ادیب ہوں اور اس کی طرح پاکستانی۔ ہماری دیر تک گفتگو رہی اور اس نے مجھے اپنا نیا ناول بھی دیا جو جرمن میں ترجمہ ہوا تھا۔ مجھے وہ بہت مشکل شخص معلوم ہوا جو اپنے بارے میں کوئی بات ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اپنا اصلی نام بھی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ اس تحریر کے ذریعے سے ان کا اس کا اصلی نام معلوم ہوا۔

ان کے خیال میں وہ بڑی صلاحیت کا مالک تھا اور وہ چاہتے تھے کہ اس کے بارے میں پاکستان کے ادبی رسالوں میں کچھ لکھیں۔ مگر وہ گھنٹہ بھر سے بھی زیادہ دیر کی ملاقات میں اپنے بارے میں کوئی خاص بات ظاہر کرنے سے قاصر رہا۔

اسی طرح ایک مختصر مراسلے میں جناب زہیر قدوائی نے آدم زمیں زاد سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے جب وہ کراچی میں قیام پذیر تھا۔

روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی میں کتابوں سے مختص صفحات پر ایک تعزیتی مضمون شائع ہوا جسے منیزہ شمسی نے تحریر کیا۔ انھوں نے لکھا کہ وہ انگریزی میں لکھنے والا پہلا پاکستانی نژاد مصنّف تھا جسے بین الاقوامی ادبی انعام سے نوازا گیا۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اس کی تمام کتابیں جلد ہی دوبارہ شائع ہوں گی مگراس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

اس کے ضخیم ترین ناول میں سائرس نام کا کردار پیدائشی طور پر جسمانی عیب کا شکار ہے اور صفائی کا پیشہ اختیار کرنے والی اس برادری سے تعلق رکھتا ہے جن کو ’’چوڑھا‘‘ کہہ کر حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ مذہب تبدیل کر کے عیسائی ہوجاتا ہے، پھرعزّت نفس، وقار اور انصاف کی تلاش میں ملکوں ملکوں پھرتا ہے۔ بہت سی مشکلات کے بعد وہ اس ناول کے خاتمے تک پہنچتا ہے جہاں لکھنے والے کا نام درج ہے___ آدم زمیں زاد۔ زمین کا بیٹا، آدم۔ یہ نام اس کی تلاش کا ماحصل بھی ہے اور انکشاف بھی۔ اس تلاش اور اس نام کا حصّہ ہم بھی ہیں، اس نام سے پاکستان میں زیادہ لوگوں کو واقف ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS