نقیب محسود کو انصاف دلانے کی تحریک کیسے شروع ہوئی


سترہ جنوری کی صبح صرف چھ افراد نقیب اللہ محسود کی لاش لینے کے منتظر تھے لیکن رات کو جب لاش لواحقین کے سپرد کی جارہی تھی تو اس وقت لوگوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگئی تھی۔
ان چھ افراد میں سے تین نقیب محسود کے رشتے دار اور باقی تین انجان تھے۔

انجانوں میں سے ایک ہاشم خان مندوخیل بھی تھے جس نے محض ایک پوسٹ کی اور ہزار سے زائد لوگ سرد خانے پہنچ گئے۔
ہاشم خان سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں۔
ان کے روزانہ اوسطا دس گھنٹے فیس بک اور ٹویٹر پر گزر جاتے ہیں۔

اس سے ایک دن قبل انہوں نے فیس بک پر ایک دوست کی پوسٹ دیکھی تھی جس میں نقیب محسود نامی شخص کے لاپتہ ہونے کی خبر دی گئی تھی۔
ہاشم خان نے فورا ان کے رشتہ داروں کی کھوج لگانے کی کوشش شروع کردی اور بلاخر انہیں فون نمبر ملا اور جب بات کی تو بتایا گیا کہ ہمیں پولیس نے اطلاع دی ہے کہ آئیں اور نقیب محسود کی لاش وصول کریں۔

ہاشم خان اپنے دو ساتھیوں سمیت کراچی کے چھیپا سرد خانے پہنچ گئے۔
دیکھا کہ نقیب محسود کے رشتہ دار سہمے ہوئے ہیں اور ایس ایچ او صاحب بھی لاش دینے میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔
ہاشم خان پل پل کی صورتحال فیس بک پر شریک کرتے رہے۔

بہرحال رات کو لاش حوالے کر دی گئی اور ہاشم خان نے بھی فیس بک لائیو کا بٹن دبادیا۔
اب خبر ہر جگہ پہنچ گئی تھی اور یہ ویڈیو پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھی۔
ویڈیو شیئر ہوتی گئی اور کارواں بنتا گیا۔

کہانی کھلتی گئی، لوگوں میں غصہ بڑھتا گیا، فیس بک اور ٹویٹر پر جسٹس فار نقیب کی ٹرینڈ چلنے لگی۔
لاہور سے چمن اور کراچی سے خیبر تک احتجاج شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔
سندھ کی حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی جس نے ہاشم خان کو بھی گواہ کے طور پر بلایا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جس پولیس افسر راؤ انور نے نقیب محسود کو دہشتگر قرار دے انہیں پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا وہ خود ہی گناہ گار ثابت ہوگئے۔
یوں ہاشم خان کی ایک ویڈیو نے ایک بڑی تحریک کو جنم دیا۔
( عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ تحریر مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں شائع ہوئی ہے۔ )

Facebook Comments HS

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 42 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar