تعصب کی عینک اتار کر ظلم کو ظلم کہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہی کتابیں ہوں گی جنہوں نے میرے سوچنے کے انداز پر اتنا اثرڈالا ہوگا جتنا کہ نوبل انعام یافتہ معیشت دان اور فلسفی امرتیا سین کی کتاب Identity and Violence : The Illusion of Destiny نے اثر ڈالا ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے اس اندازِ فکر پر تنقید کی ہے جو ہر انسان کو ایک ہی عینک کے ساتھ دیکھتا ہے۔ مثال کے طور پر مذہب کی عینک لگا دی جائے اور جو لوگ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان سے تعصب برتا جائے اور اپنے ہم مذہب لوگوں کے برے افعال کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یا حب الوطنی کی عینک لگا کر، جو لوگ دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں ان سے نفرت روا رکھی جائے۔ اسی طرح فرقہ واریت کی عینک، صوبائیت کی عینک اور ذات کی عینک لگا کر دوسرے فرقوں، صوبوں یا ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں کو کمتر جاننا بھی اسی اندازِ فکر سے تعلق رکھتا ہے جس پر امرتیا سین نے تنقید کی ہے۔

دیکھیں، ہماری کوئی ایک شناخت نہیں ہے۔ مثلاً میں صرف پاکستانی نہیں ہوں۔ میں صرف مسلمان بھی نہیں ہوں۔ میں ایک بھائی، ایک بیٹا، ایک دوست، ایک گندمی رنگت والا، نظر کا چشمہ لگانے والا، کتابیں پڑھنے والا، سرائیکی بولنے والا، شعر لکھنے والا، ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والا، جینز شرٹ پہننے والا، ہائیکنگ کرنے والا اور نصرت فتح علی خان کی قوالی سننے والا بھی ہوں۔ یہ سب اور ان جیسے دوسری بے شمار شناختیں ہیں میری۔ مجھے آپ مذہب کی، ملک کی یا صوبے کی کسی ایک ہی عینک سے نہ دیکھیں۔ ہو سکتا ہے میں اور آپ دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ہم شاید ایک جیسی کتابیں پڑھتے ہوں۔ یا شاید آپ کو کتابوں کو شوق نہ ہو لیکن میری طرح آپ بھی ہائیکنگ کے دلدادہ ہوں۔ یا شاید آپ کو ہائیکنگ بھی پسند نہ ہو لیکن آپ اور میں ایک ہی انڈسٹری میں کام کرتے ہوں؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے اختلافی نکات پر ہی نظر رکھیں؟ ہم میں جو چیزیں مشترک ہیں، ان پر توجہ دینے سے کیا ہم دونوں امن و شانتی سے نہیں رہ سکتے؟ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم کوئی ایک معیار بنا لیتے ہیں اور لوگوں کو صرف اُسی ایک ہی عینک سے دیکھتے ہیں اور جو اس میں فٹ نہ بیٹھے، اس کی اچھی حرکتوں میں بھی مین میخ نکالتے ہیں اور جو ہماری عینک میں سے ٹھیک نظر آئے، اس کے برے اعمال کی بھی صفائیاں دیتے ہیں۔

اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ پچھلے کچھ عرصے میں، میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ میرے اکثر دوستوں نے پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے ہر واقعے کو ایک ایسی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا ہے جو کہ بہت ہی زیادہ نقصان دہ ہے اور وہ ہے سیاسی وابستگی کی عینک۔ ہم لوگوں نے مختلف عینکیں چڑھائی ہوئی ہیں۔ کسی نے تحریک انصاف کی، کسی نے نون لیگ کی اور کسی نے پیپلزپارٹی کی۔ وفاقی یا پنجاب حکومت کی بری کارکردگی کی خبر ہو تو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی عینک والے حضرات اسے دھڑادھڑ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے اور نون لیگ کو لعن طعن کرتے ہیں جبکہ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے دوست ستو پی کر سوئے رہتے ہیں یا پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے خیبر پختونخواہ میں کیا کر لیا؟ اسی طرح کے پی کے میں کچھ ہو جائے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے PTI کی عینک والوں کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ سندھ میں کچھ ہو تو تحریک انصاف اور نون لیگ کے حامی جیالوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور جیالے اندھے، بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں۔ قصور اور مردان کے واقعات پر لوگوں کے ری ایکشن دیکھ لیجیے، میری بات مزید واضح ہو جائے گی۔

میری دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنی اپنی عینکیں اتاریں۔ ظلم کہیں بھی ہو، ظلم ہے۔ اس کی مذمت کریں اور ظالم کا احتساب کریں۔ اچھا کام کہیں بھی ہو، اچھا کام ہے۔ اس کی تعریف کریں۔ آپ لوگ ووٹ بیشک اپنے اپنے لیڈران کو ہی دیجیے لیکن کم سے کم قصور یا مردان میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات اور تھر کے بھوک سے مرتے بچوں کو اپنی متعصب عینک کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •